یہ ۸؍لاکھ ۶۵؍ہزار ۸۸۶ ؍ رائے دہندگان وہ ہیں جن کی ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ کے ساتھ میپنگ نہیں کی گئی تھی یا اُن کے نام، کنیت وغیرہ میں فرق ہے۔
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 12:02 PM IST | Ali Imran | Nagpur
یہ ۸؍لاکھ ۶۵؍ہزار ۸۸۶ ؍ رائے دہندگان وہ ہیں جن کی ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ کے ساتھ میپنگ نہیں کی گئی تھی یا اُن کے نام، کنیت وغیرہ میں فرق ہے۔
ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی کے لیے شروع کی گئی ایس آئی آر مہم کے تحت ووٹر لسٹ کا مسودہ شائع کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے بتایا کہ ضلع کے ۱۴؍ لاکھ ۴۳؍ہزار ۵۱۱ ؍ووٹرز کے نام خارج ہوئے ہیں اور ۸؍لاکھ ۶۵؍ہزار ۸۸۶؍ ووٹروں کو سماعت کیلئے نوٹس جاری کیے جائیں گے ۔ واضح رہے کہ ایس آئی آر مہم ۳۰؍ جون سے ۱۷؍اگست ۲۰۲۶ ءتک چلائی گئی۔ اس میں ۳۱؍ لاکھ ۹۵؍ ہزار ۷۸ ؍ووٹروں نے رجسٹر یشن فارم بھرا ۔ ۱۴؍لاکھ ۴۳؍ ہزار ۵۱۱؍ ووٹروں کی نشاندہی نہیںہوسکی یا وہ نہیں ملے۔ ان میں سے ۵؍لاکھ ۴۵؍ہزار ۶۴۷؍ غیر حاضر، ۵؍لاکھ ۲۹؍ہزار ۹۵۴؍ ہزار نقل مکانی کر گئے،۲؍لاکھ ۴۰؍ہزار ۳۲۷؍ فوت ہوئے اور ایک لاکھ ۱۸؍ ہزار ۹۹ا؍فراد دیگر جگہوں پر رجسٹرڈ یا ڈپلیکیٹ ووٹرز تھے ۔ جبکہ ۹۴۸۴؍ ووٹروں نے کوئی معلومات فراہم نہیں کی ۔ ۴؍لاکھ ۱۸؍ہزار ۱۲؍ رائےدہندگان کو ۲۰۰۲ء کی فہرست کے ساتھ میپ نہیں کیا گیا اور ۴؍لاکھ ۴۷؍ہزار ۸۷۴؍ ووٹروں کے نام، کنیت یا عمر میں فرق پایاگیا۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال کی جرأت، امریکہ، چین اور ہندوستان سے معاوضہ مانگا
۴۳۱؍ ای آر او سماعت کریں گے
مجموعی طور پر ۸؍لاکھ ۶۵؍ہزار ۸۸۶ ووٹرز ایسے پائے گئے ہیں جن کی ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ کے ساتھ میپنگ نہیں کی گئی تھی یا اُن کے نام، کنیت وغیرہ میں فرق تھا، ان تمام ووٹرز کو ان کے موبائل فون پر واٹس ایپ کے ذریعے نوٹس دیے جائیں گے اور انہیں اگلے دو تین دنوں میں ان کے گھروں تک پہنچا دیا جائے گا۔ بی ایل اوز کو اس کی رسید لینی ہوگی۔ اس کے بعد اسمبلی ووٹر لسٹ میں درج نام کے مطابق ۴۳۱ ؍الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (اے ای آر او) سماعت کریں گے۔ دستاویزات کی تصدیق کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کی آفیشیل ویب سائٹ پر نام دیکھا جا سکتا ہے۔ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) مہم کےآخری مرحلہ میں ووٹر لسٹ کا مسودہ ۳۱؍اگست کو شائع ہو چکا ہے اور اسے کمیشن کی طرف سے فراہم کردہ ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ شہری ووٹر
ceo.maharashtra.gov.in voters.eci.gov.in
پر اپنے نام تلاش کر سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ کے علاقے کے بی ایل او کے پاس فہرست ہوگی۔ آپ ان سے بھی اس بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔