بی ایم سی کے ۲۲۷؍ وارڈوں سے تقریباً ۱۷؍ سو امیدواروں نے بی ایم سی انتخابات میں حصہ لیا تھا۔
بی ایم سی کے ۲۲۷؍ وارڈوں سے تقریباً ۱۷؍ سو امیدواروں نے بی ایم سی انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ دوسری جانب ایک کروڑ سے زائد شہریوں میں سے ۵۰؍ فیصد سے زائد شہریوں نے جہاں اپنی پسندیدہ پارٹی یا امیدوار کو ووٹ دیاوہیں ایک لاکھ سے زائد ووٹرس ایسے تھے جنہوںنے امیدواروں یا سیاسی جماعتوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ’نوٹا‘ کو ووٹ دیا ۔
الیکشن کمیشن نے اس ضمن میںجو اعدادو شمار فراہم کئے ہیں، اس کے مطابق شہر کے ۱ء۸۳؍فیصد ووٹرس امیدواروں یاسیاسی جماعتوں سے مطمئن نہیں تھے جس کی وجہ سے انہوںنے کسی بھی امیدوارکوووٹ نہ دے کر احتجاجاً ’نوٹا‘ کو ووٹ دیا ۔ سب سے زیادہ مغربی مضافات کے رائے دہندگان نے الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کے تئیں عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ الیکشن کمیشن کے ترتیب کردہ ریکارڈ کے مطابق ایک لاکھ ۳۲۷؍ رائے دہندگان نے ’نوٹا‘ کا بٹن دبایا ۔
شہر اور مضافات میں ایک کروڑ ۳؍ لاکھ ۴۴؍ ہزار ۳۹۵؍ ووٹروں میں سے ۵۴؍ لاکھ ۷۶؍ ہزار ۴۳؍ رائے دہندگان نے ووٹ دیا جس میںایک لاکھ ۳۲۷؍ رائے دہندگان ایسےبھی تھے جنہوں نےامیدواروں کو سرے سے مسترد کرتےہوئے’نوٹا‘کے بٹن کا استعمال کیا ۔ مجموعی طور پر جمعرات ۱۵؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو ۵۲ء۹۴؍ فیصد رائے دہندگان نے اپنے جمہوری حق کا استعمال کیا ہے ۔وہیں’نوٹا‘ کو ووٹ دینے والے ۱ء۸۳؍ فیصد ووٹرس بھی اس میں شامل ہیں ۔الیکشن کمیشن کی ’نوٹا‘ ووٹوں سے متعلق ترتیب کردہ رپورٹ کے مطابق مغربی مضافات کے دہیسر علاقے میں سب سے زیادہ ’نوٹا‘ کو ووٹ دیا گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دہیسر میں جہاں ۴۷؍ ہزار ۹۳۶؍ ووٹ ’نوٹا‘ کوڈالے گئے وہیں بوریولی علاقے میں سب سے زیادہ ووٹنگ کا فیصد ریکارڈ کیا گیا ۔ بوریولی کے وارڈ نمبر ۱۸؍ میں ۶۲ء۴؍ فیصد ووٹنگ ہوئی تھی جبکہ دہیسر کا مجموعی ووٹنگ فیصد ۶۰ء۶۷؍ فیصد رہا ہے ۔الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مشرقی مضافات کے بھانڈوپ اور اطراف کے علاقے میں بھی ۲۹؍ ہزار ۱۰۱؍ شہریوں نے ’نوٹا‘ کو ووٹ دیا۔اس کے علاوہ جنوبی ممبئی کے وارڈ نمبر ۲۲۶؍ میں جہاں ۵۰؍ فیصد رائے دہندگان نے ووٹ دیا ،اس میں ۵ء۱؍ فیصد یعنی ایک ہزار ۴۰۴؍ شہریوں نے امیدواروں کو مسترد کرتے ہوئے ’نوٹا‘ کو ووٹ دیا۔