Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء: اسٹیڈیمز میں فلسطینی پرچم لانے کی اجازت دینے پر غور

Updated: June 10, 2026, 9:36 PM IST | New York

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے اسپورٹس پلیٹ فارم ’’دی ایتھلیٹک‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے دوران شائقین کو اسٹیڈیمز میں فلسطینی پرچم لانے کی اجازت دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینی پرچم فیفا کے ایک رکن قومی فٹبال اسوسی ایشن کا سرکاری پرچم ہے، اس لیے اسے صرف اسی صورت میں ہٹایا جا سکتا ہے جب وہ کسی سنگین سیکوریٹی خطرے کا باعث بنے۔ اس خبر نے عالمی فٹبال حلقوں اور سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے آغاز سے قبل ایک اہم اور حساس معاملہ سامنے آیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے اسپورٹس سیکشن ’’دی ایتھلیٹک‘‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیفا شائقین کو ورلڈ کپ کے دوران اسٹیڈیمز میں فلسطینی پرچم لانے کی اجازت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فیفا کے داخلی رہنما اصولوں اور پالیسی دستاویزات میں فلسطینی پرچم کو ایک رکن قومی فٹبال اسوسی ایشن کے سرکاری پرچم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر اس پرچم کو عام حالات میں اسٹیڈیم سے ہٹانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’فلسطینی قومی پرچم فیفا کی ایک رکن اسوسی ایشن کا سرکاری پرچم ہے، لہٰذا اسے صرف اسی صورت میں شائقین سے لیا جا سکتا ہے جب اسے کسی سنگین سیکوریٹی خطرے کا سبب قرار دیا جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کنیڈا: ڈجیٹل سیفٹی بل کی تیاری، بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی زیرغور

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اسرائیل فلسطین تنازع عالمی سطح پر بحث کا موضوع ہے۔ اسی وجہ سے ورلڈ کپ کے دوران سیاسی علامتوں اور قومی پرچموں کے استعمال کے حوالے سے بھی توجہ بڑھ گئی ہے۔ یاد رہے کہ فلسطین ۱۹۹۸ء سے فیفا کا رکن اسوسی ایشن ہے اور اس کی قومی فٹبال ٹیم بین الاقوامی مقابلوں میں باقاعدگی سے حصہ لیتی رہی ہے۔ اسی حیثیت کی وجہ سے فلسطینی پرچم کو فیفا کے منظور شدہ قومی پرچموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر رپورٹ درست ثابت ہوتی ہے تو فلسطینی پرچم کے حوالے سے پالیسی دیگر فیفا رکن ممالک کے قومی پرچموں جیسی ہی ہوگی۔ رپورٹ کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے مختلف طریقوں سے ردعمل ظاہر کیا۔فلسطینی حامی حلقوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے فیفا کی جانب سے اپنے ضوابط پر عمل قرار دیا ہے۔ دوسری جانب بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹ کو سیاسی تنازعات سے دور رکھا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں غربت و عدم مساوات پر تحقیق کے اعتراف میں جین ڈریز کو گلوبل ایوارڈ

فیفا کی جانب سے اس رپورٹ پر ابھی تک کوئی تفصیلی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم ’’دی ایتھلیٹک‘‘ کے مطابق فیفا کے رہنما اصول واضح کرتے ہیں کہ کسی بھی رکن اسوسی ایشن کے سرکاری پرچم کو صرف غیر معمولی سیکوریٹی وجوہات کی بنیاد پر محدود کیا جا سکتا ہے۔ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہوگا اور توقع کی جا رہی ہے کہ لاکھوں شائقین اس تاریخی ٹورنامنٹ میں شرکت کریں گے۔ ایسے میں اسٹیڈیموں کے ضوابط، سیکوریٹی انتظامات اور شائقین کے اظہارِ رائے سے متعلق پالیسیوں پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔ اگر فیفا کی جانب سے اس پالیسی کی باضابطہ تصدیق کی جاتی ہے تو فلسطینی پرچموں کی موجودگی ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے دوران ایک نمایاں موضوع بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال بین الاقوامی خبروں اور سفارتی مباحث کا اہم حصہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK