• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان: عمران خان کو جیل میں دھیمی موت دی جارہی ہے: چھوٹے بیٹے قاسم کا الزام

Updated: September 23, 2026, 10:01 PM IST | Islamabad

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے چھوٹے بیٹے قاسم نے الزام عائد کیا ہے کہ جیل میں عمران خان کو دھیمی موت دی جارہی ہے، مزید یہ کہ عاصم منیر ان سے ذاتی انتقام لے رہے ہیں۔

Imran Khan`s younger son, Qasim. Photo: X
عمران خان کے چھوٹے بیٹے قاسم ۔ تصویر: ایکس

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے چھوٹے بیٹے قاسم نے الزام عائد کیا ہے کہ جیل میں عمران خان کو دھیمی موت دی جارہی ہے۔ عمران خان کے چھوٹے بیٹے قاسم نے پاکستان کے طاقتور آرمی چیف عاصم منیر پر سابق وزیر اعظم کے خلاف ’’ذاتی انتقام‘‘ کا الزام لگایا اور خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے والد کو جیل میں’’آہستہ آہستہ دم گھٹایا‘‘جا رہا ہے، جبکہ ان کی جیل کی حالات پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ 

اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک جذباتی انٹرویو میں قاسم نے گرفتار رشتہ داروں کی حالت پر بھی تفصیل سے بات کی۔ عمران خان کی تین بہنیں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی ، عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے ملک گیر احتجاج کے منصوبوں کے خلاف حکومت کیمہم  کے دوران گرفتار کر لی گئیں۔ تینوں کی وکیل نے پیر کو کہا کہ ان سب کو ایک وارنٹ کے تحت۳۰؍ دن کے لیے حراست میں لے کر جیل بھیج دیا گیا ہے جس میں ان پر عوامی نظم کے لیے خطرہ ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔قاسم نے کہا، ’’میرے کزن اور خالہ کو رات کے درمیان مسلح نقاب پوش افراد نے ان کے گھروں سے زبردستی اٹھا لیا۔ ان کے خلاف کوئی الزام نہیں لگایا گیا، اور انہیں نامعلوم مقامات پر لے جایا گیا ہے۔ اس وقت پورا خاندان رابطے سے باہر ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک ہے۔‘‘ 
بعد ازاں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں معلوم ہے کہ ان کے رشتہ داروں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جا رہا ہے، انہوں نے کہا،’’یہ خوفناک ہے۔ وہ مسلح نقاب پوش افراد ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ میرے خاندان کے ساتھ بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔‘‘ جبکہ حکام کے اس دعوے پر کہ ان کے رشتہ دار عوامی نظم کے لیے خطرہ ہیں، قاسم نے کہا، ’’وہ میرے والد کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔ بس اتنی سی بات ہے۔ کسی بھی قسم کا احتجاج ان کی اقتدار پر گرفت کے لیے ایک اور خطرہ ہے۔میرے کزنز اور خالہ زیادہ تر خاموش رہے۔ صرف میری خالہ علیمہ زیادہ بولنے والی تھیں، اور سب سے پہلے انہیں قید کیا گیا۔ اس کے بعد، انہوں نے میرے ہر اس کزن اور خالہ کو منتخب طور پر اٹھایا جو وہاں موجود ہیں، بشمول میرے کزن شہریز کے دو بچے، جو تھوڑی دیر کے لیے لاپتہ ہو گئے تھے اور اب خوش قسمتی سے محفوظ ہیں۔لیکن ان میں کوئی انسانیت نہیں ہے۔ ان میں کوئی غیرت نہیں ہے۔ وہ مرد، خواتین اور بچوں کو لے جائیں گے، چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: آج سعودی نیشنل ڈے پر ایئر شو، بحری نمائش اور فوجی پریڈ کا اہتمام

اپنے والد کی قید کے بارے میں بات کرتے ہوئے قاسم نے کہا،’’وہ انہیں مارنا چاہتے ہیں۔ بات بس اتنی سی ہے۔ انہوں نے انہیں مارنے کی کوشش کی۔ انہوں نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی۔ اب وہ انہیں جیل میں آہستہ آہستہ دم گھٹا کر اور ذہنی طور پر اذیت دے کر مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اسی لیے انہوں نے ان کی اہلیہ کو پہلے ہی جیل میں ڈال رکھا ہے۔ اب وہ ان کے خاندان کے ہر فرد کو بھی اٹھا رہے ہیں۔ یہ انہیں مارنے اور ان کے آس پاس کے ہر شخص کو خاموش کرنے کی ایک انتقامی مہم ہے۔ ‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK