رپورٹ کےمطابق اگرچہ فی الحال جنگ بندی برقرار ہے لیکن اگر عسکریت پسندوں کی کارروائیاں جاری رہیں تو اسلام آباد دوبارہ حملہ کرسکتا ہے۔
گزشتہ بر س پاکستانی فوج نے افغان صوبے پکتیکا پر حملہ کیا تھا۔ تصویر: آئی این این
انٹرنیشنل کرائسز گروپ (آئی سی جی) نے کہا ہے کہ افغانستان میں۲۰۲۱ءمیں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ ادارے کے مطابق اگرچہ فی الحال جنگ بندی برقرار ہے لیکن اگر عسکریت پسندوں کی کارروائیاں جاری رہیں تو اسلام آباد دوبارہ حملہ کرسکتا ہے۔ برسلز میں قائم آزاد اور غیر منافع بخش تھنک ٹینک جو معروف عالمی شخصیات نے قائم کیا، نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات شدید خراب ہو چکے ہیں جس کی بنیادی وجہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی سے انکار ہے۔۲۰۲۲ء کے بعد پاکستان میں تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف۲۰۲۵ء میں عسکریت پسندوں نے۶۰۰؍ سے زائد پاکستانی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو ہلاک کیا جن میں زیادہ تر ہلاکتیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئیں جو افغانستان سے متصل صوبے ہیں۔
اسلام آباد ان حملوں کا الزام کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسند گروہوں پر عائد کرتا ہےجن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ شواہد کے مطابق انہیں پاکستان کے حریف ہندوستان کی حمایت حاصل ہے۔ برسلز میں قائم تھنک ٹینک کے مطابق اگر عسکریت پسند حملے جاری رہے تو اسلام آباد ایک بار پھر افغانستان میں کارروائی کرسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے مانیٹرز کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کو طالبان کی حمایت حاصل ہے لیکن طالبان اس کی تردید کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستانی عسکریت پسند افغانستان میں موجود ہی نہیں جبکہ وہ تشدد کو پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔
مغربی سرحد پر۸؍ اکتوبر کو ٹی ٹی پی کے حملے میں ۱۱؍ پاکستانی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اسلام آباد نے سرحد پار فضائی حملے کئے جن میں کابل پر پہلا حملہ بھی شامل تھا جس کا ہدف بظاہر ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود تھے۔
افغانستان نے اس کے جواب میں پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملے کئے۔ جاری جھڑپوں میں دونوں جانب فوجی اور شہری جانوں کا ضیاع ہوا۔
رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر کسی اور حملے کا سراغ افغانستان سے ملا تو اسلام آباد دوبارہ سخت ردعمل ظاہر کر سکتا ہے۔ اگرچہ طالبان حکومت عسکری لحاظ سے کمزور ہے لیکن اس کا ردعمل بھی مہلک ہو سکتا ہے۔ کابل کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو پاکستانی شہروں تک پہنچ سکتے ہیںجن کے استعمال سے پاکستان کی جانب سے بہت زیادہ سخت جواب متوقع ہوگا۔