Updated: April 03, 2026, 5:03 PM IST
| Islamabad
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت۴۵۰ روپے فی لیٹر تک جا پہنچی، ڈیزل۵۰۰؍ سے تجاوز کر گیا ،شہباز شریف حکومت نے ایران جنگ کے دوران پیٹرول کی قیمت میں۱۳۷؍ اعشاریہ ۲۳؍ روپے فی لیٹر کا زبردست اضافہ کیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں۱۸۴؍ اعشاریہ ۴۹؍ روپے فی لیٹر کا اضافہ فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا۔
پاکستان کی حکومت نے جمعہ کو ایندھن کی قیمتیں بے مثال سطح تک بڑھا دیںجس کی وجہ ایران جنگ کے سبب پیدا ہوا توانائی کا بحران ہے۔ شہباز شریف حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں۱۳۷؍ اعشاریہ ۲۳؍ روپے فی لیٹر کا زبردست اضافہ کیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں۱۸۴؍ اعشاریہ ۴۹؍ روپے فی لیٹر کا اضافہ فوری طور پر نافذ کردیا۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے فروری کے آخر میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتیں بڑھی ہیں اور حکومتوں کو توانائی کے تحفظ کے اقدامات نافذ کرنے پر مجبور کیا ہے۔پاکستانی حکومت نے جمعرات کونئی قیمت کا اعلان کیا ۔ جس کے بعد پیٹرول ۴۵۸؍ اعشاریہ ۴۱؍ روپئے، جو پہلے ۳۲۱؍ اعشاریہ ۱۷؍ روپئے تھا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل ۵۲۰؍ اعشاریہ ۳۵؍ روپے ہو گیاجو پہلے ۳۳۵؍ اعشاریہ ۸۶؍ روپے تھا۔ اس کے علاوہ مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی۳۴؍ اعشاریہ صفر ۸؍ روپے فی لیٹر اضافہ کر کے۴۵۷؍ اعشاریہ ۸۰؍ روپے کر دیا گیا۔
دریں اثناء معاشی امور کے مشیر خرم شہزاد نے جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا،’’حکومت نےگزشتہ تین ہفتوں کے دوران قیمتوں میں اضافے کی مزاحمت کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا جب اس نے جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد پہلی بار قیمتوں میں۵۵؍ روپے کا اضافہ کیا تھا۔ تاہم حکومت نے موٹر سائیکل مالکان کو۱۰۰؍ روپے فی لیٹر سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ سبسڈی ماہانہ۲۰؍ لیٹر پر نافذ ہوگی۔‘‘ بعد ازاں حکومت نے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو محدود کرنے کے لیے پٹرولیم محصول کی شرحوں میں بھی ترامیم کیں۔ پیٹرول پرمحصول ۱۰۵؍ روپے سے بڑھا کر۱۶۰؍ روپے فی لیٹر کر دیا گیا، جبکہ ڈیزل پرمحصول ۵۵؍ روپے سے کم کر کے صفر کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ خلیجی خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایران کے حملوں اور آبنائے ہرمز پر اس کی مضبوط گرفت جس سے دنیا کے پانچویں حصے تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، کے سبب تیل کی قیمتیں اور عالمی معیشت بری طرح متاثرہو رہی ہے۔جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے، بین الاقوامی بازار میں خام تیل جمعہ کی دوپہر۱۰۹؍ اعشاریہ صفر ۳؍ ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فزیکل برینٹ کارگو کی اسپاٹ قیمت جمعرات کو۱۴۱؍ اعشاریہ ۳۶؍ ڈالر تک جا پہنچی۔ یہ ۲۰۰۸ءکے مالیاتی بحران کے بعد سب سے بلند سطح ہے۔یاد رہے کہ اسپاٹ قیمت برینٹ تیل کی مانگ کو ظاہر کرتی ہے جو اگلے۱۰؍ سے۳۰؍ دنوں میں فراہم کیا جائے گا۔