ہندوستان کی خوردنی تیل کی مارکیٹ دباؤ میں ہے کیونکہ عالمی تنازعات سپلائی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، قیمتیں بڑھا رہے ہیں اور صارفین کو سستے متبادل کی طرف دھکیل رہے ہیں، جس سے ملک کا درآمدات پر بھاری انحصار واضح ہو رہا ہے۔
EPAPER
Updated: April 03, 2026, 4:17 PM IST | Mumbai
ہندوستان کی خوردنی تیل کی مارکیٹ دباؤ میں ہے کیونکہ عالمی تنازعات سپلائی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، قیمتیں بڑھا رہے ہیں اور صارفین کو سستے متبادل کی طرف دھکیل رہے ہیں، جس سے ملک کا درآمدات پر بھاری انحصار واضح ہو رہا ہے۔
نیتی آیوگ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک اوسط ہندوستانی صارف سالانہ تقریباً ۱۲؍ کلوگرام خوردنی تیل استعمال کرتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والا یہ ملک اپنی ۵۶؍ فیصد خوردنی تیل کی ضرورت درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے (نیتی آیوگ،۲۳۔۲۰۲۲ء)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مغربی ایشیا کا تنازعہ اب صرف ایل پی جی بحران تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ براہِ راست آپ کے ماہانہ بجٹ کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ کریسل ریٹنگز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی سال میں ریفائنڈ سورج مکھی کے تیل کی کھپت میں ۱۰؍ فیصد تک کمی آ سکتی ہے کیونکہ سپلائی میں رکاوٹ اور بڑھتی قیمتیں صارفین کو سستے متبادل تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ دباؤ دو طرف سے آ رہا ہے۔ سپلائی کے لحاظ سے شپنگ روٹس متاثر ہوئے ہیں، جہاز تنازعات والے علاقوں سے بچتے ہوئے لمبے راستے اختیار کر رہے ہیں جیسے کہ کیپ آف گڈ ہوپ کے گرد۔ طلب کے لحاظ سے بڑھتی ہوئی ریٹیل قیمتیں صارفین کو دوسرے تیلوں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور کر رہی ہیں۔ کریسل کے مطابق سورج مکھی کے تیل کی قیمت جنوری ۲۰۲۶ءمیں تقریباً ۱۵۰؍ روپے فی لیٹر سے بڑھ کر۱۷۰۔۱۷۵؍ روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’کافی وِد کرن‘‘ کا سیزن ۹؍ سال آخر میں ریلیز ہوگا
محکمہ امورِ صارفین کے پرائس مانیٹرنگ ڈویژن کے مطابق ۲؍ اپریل ۲۰۲۶ء تک پیک شدہ سورج مکھی کا تیل اوسطاً ۳۶ء۱۸۲؍روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا تھا۔ ۲؍ مارچ۲۰۲۶ء کو یہی تیل۳۹ء۱۷۵؍روپے میں فروخت ہو رہا تھا، جبکہ ۲؍ اپریل ۲۰۲۵ءکو اس کی اوسط قیمت ۶۱ء۱۵۸؍ روپے تھی، یعنی ایک سال میں تقریباً ۱۳؍ فیصد اضافہ۔ کریسل کے مطابق خام سورج مکھی کے تیل کی درآمدی قیمت گزشتہ سال کے دوران ۱۲۷۵؍ ڈالر فی ٹن سے بڑھ کر۱۴۲۰؍ ڈالر فی ٹن ہو گئی ہے، جس کی وجہ فریٹ لاگت اور کرنسی کی کمزوری ہے۔
اسی طرح مونگ پھلی کے تیل کی اوسط قیمت ۲؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو ۰۵ء۱۹۸؍ روپے فی کلو تھی، جو ۲؍ مارچ۲۰۲۶ء کو۶۹ء۱۹۳؍ روپے اور ۲؍اپریل ۲۰۲۵ء کو ۳۸ء۱۹۱؍ روپے تھی۔
یہ بھی پڑھئے:ممبئی کے خلاف دہلی کا ہدف تاریخ بدلناہوگا
سرسوں کا تیل۲؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو۰۷ء۱۸۸؍ روپے فی کلو، ۲؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو ۸ء۱۸۶؍ روپے اور۲؍ اپریل ۲۰۲۵ء کو ۴۷ء۱۶۹؍روپے فی کلو فروخت ہو رہا تھا۔ وناسپتی تیل ۲؍اپریل ۲۰۲۶ءکو اوسطاً ۴۸ء۱۵۷؍ روپے فی کلو، ۲؍مارچ ۲۰۲۶ء کو۴۹ء۱۵۶؍ روپے اور ۲؍ اپریل ۲۰۲۵ء کو۷۸ء۱۵۲؍ روپے فی کلو تھا۔ سویا تیل ۲؍ اپریل۲۰۲۶ء کو اوسطاً ۷ء۱۵۵؍روپے فی کلو، ۲؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو ۶۱ء۱۵۰؍ روپے اور ۲؍اپریل ۲۰۲۵ء کو ۲۸ء۱۴۶؍ روپے فی کلو تھا۔