Updated: May 18, 2026, 10:02 PM IST
| Islamabad
عمران خان کی برطرفی سے متعلق مبینہ امریکی مداخلت کے الزامات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں، جب تحقیقاتی پلیٹ فارم Drop Site News نے ایک خفیہ پاکستانی سفارتی سائفر شائع کیا۔ مبینہ دستاویز میں امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار ڈونالڈ لو اور واشنگٹن میں پاکستان کے اس وقت کے سفیر اسد مجید خان کے درمیان گفتگو درج ہے۔ کیبل میں مبینہ طور پر کہا گیا کہ اگر عمران خان عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ہٹا دیے جائیں تو ’’واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا۔‘‘
پاکستان میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے سے متعلق مبینہ غیر ملکی سازش کا معاملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جب ایک لیک شدہ پاکستانی سفارتی کیبل منظر عام پر آنے کے بعد پاکستان کی سیاست میں شدید بحث شروع ہو گئی۔ امریکی تحقیقاتی پلیٹ فارم Drop Site News نے مبینہ طور پر اصل خفیہ سفارتی سائفر شائع کیا ہے، جسے عمران خان برسوں سے اپنی حکومت کے خلاف ’’غیر ملکی سازش‘‘ کا ثبوت قرار دیتے رہے ہیں۔ کیبل، جسے ’’I-0678‘‘ کے نام سے شناخت کیا گیا، مارچ ۲۰۲۲ء میں واشنگٹن میں پاکستان کے اس وقت کے سفیر اسد مجید خان اور امریکی محکمہ خارجہ کے جنوبی اور وسطی ایشیا امور کے اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونالڈ لوکے درمیان ملاقات کی تفصیلات بیان کرتی ہے۔ یہ ملاقات اپریل ۲۰۲۲ء میں عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے سے چند ہفتے پہلے ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے : ایران پر ممکنہ نئے حملوں کی خبروں پر تشویش کی لہر
لیک شدہ سائفر کے مطابق، ڈونالڈ لونے مبینہ طور پر کہا تھا کہ اگر عمران خان عدم اعتماد کے ووٹ میں ہٹا دیے جائیں تو ’’واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا‘‘، جبکہ اگر وہ اقتدار میں برقرار رہے تو پاکستان کو امریکہ اور یورپ کی جانب سے ’’تنہائی‘‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عمران خان نے اقتدار سے ہٹائے جانے کے فوراً بعد الزام لگایا تھا کہ ان کی آزاد خارجہ پالیسی، روس اور چین کے ساتھ تعلقات، اور یوکرین جنگ میں ’’غیر جانبدار‘‘ مؤقف واشنگٹن کو ناگوار گزرا۔ خاص طور پر فروری ۲۰۲۲ء میں ان کا ماسکو دورہ، جو روس کے یوکرین پر حملے کے دن ہوا، امریکہ میں شدید تنقید کا باعث بنا تھا۔ لیک شدہ کیبل میں مبینہ طور پر امریکی حکام نے پاکستان کی ’’aggressively neutral‘‘ پالیسی پر تشویش ظاہر کی۔ اس کے جواب میں پاکستانی سفیر نے مؤقف اختیار کیا کہ یوکرین سے متعلق پاکستان کی پالیسی کسی ایک فرد کا فیصلہ نہیں بلکہ بین الادارہ مشاورت کا نتیجہ تھی۔
عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے لیک شدہ دستاویز کو اپنے مؤقف کی ’’سب سے مضبوط عوامی تصدیق‘‘ قرار دیا ہے۔ پارٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ کیبل ثابت کرتی ہے کہ بیرونی دباؤ پاکستان کی اندرونی سیاست پر اثر انداز ہوا۔ دوسری جانب امریکہ مسلسل ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔ ڈونالڈ لو نے ماضی میں امریکی کانگریس میں بیان دیتے ہوئے عمران خان کے الزامات کو ’’سازشی نظریہ‘‘ اور ’’مکمل جھوٹ‘‘ قرار دیا تھا۔ پاکستان کی سابق اتحادی حکومتوں، خصوصاً پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ان دعوؤں کو مسترد کیا اور کہا کہ عمران خان کی برطرفی مکمل طور پر آئینی اور پارلیمانی عمل کے تحت ہوئی۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے دو الگ الگ اجلاسوں میں امریکی بیانات کو ’’پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت‘‘ قرار دیتے ہوئے واشنگٹن کو باضابطہ احتجاجی مکتوب بھی بھیجا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے : اقوام متحدہ کی نمائندہ کا اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف منظم تشدد کا الزام
اپریل ۲۰۲۲ء میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے عمران خان پاکستان کی تاریخ میں پہلے وزیر اعظم بنے جنہیں پارلیمانی ووٹ کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا گیا۔ بعد ازاں انہیں بدعنوانی اور سرکاری راز افشا کرنے سمیت کئی مقدمات میں سزا سنائی گئی اور وہ اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیک شدہ سائفر نے نہ صرف پاکستان کی داخلی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کی ہے بلکہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات، فوج کے کردار اور خارجہ پالیسی کے فیصلوں پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔