پاکستان میں مسجد میں بم دھماکے کےبعد امریکہ نے پاکستان میں موجود شہریوں کیلئے سفری ہدایات جاری کی ہیں، انہیں بھیڑ بھاڑ سے دور رہنے اور چوکنا رہنے اور دی گئی ہدایات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی۔
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 4:05 PM IST | Islamabad
پاکستان میں مسجد میں بم دھماکے کےبعد امریکہ نے پاکستان میں موجود شہریوں کیلئے سفری ہدایات جاری کی ہیں، انہیں بھیڑ بھاڑ سے دور رہنے اور چوکنا رہنے اور دی گئی ہدایات پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے نے مضافات میں واقع امام بارگاہ قصر خدیجۃ الکبریٰ مسجد میں خودکش دھماکے کے بعد امریکی شہریوں کے لیے سیکورٹی ایڈوائزری جاری کی ہے۔واضح رہے کہ یہ حملہ جمعہ کی نماز کے دوران ہوا جس میں کم از کم ۳۱؍ افراد ہلاک اور۱۶۹؍ دیگر زخمی ہوئے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بعد ازاں پاکستان میں موجود امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ، بڑے عوامی اجتماعات سے پرہیز کریں،ذاتی سیکورٹی کا جائزہ لیں،تازہ معلومات کے لیے مقامی میڈیا کو فالو کریں، شناختی دستاویزات ساتھ رکھیں اور مقامی حکام سے تعاون کریں، سفارت خانے نے شہریوں سے چوکنا رہنے کی اپیل کی ہے اور ضرورت پڑنے پر اسلام آباد دفتر سے رابطے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پیرس میں فلسطین، کانگو اور سوڈان کے حق میں یکجہتی ریلی
دریں اثناء سیکورٹی ذرائع کے مطابق، دھماکا کرنے والے کو مسجد کے گیٹ پر ہی روک لیا گیا تھا۔ گواہوں کے مطابق دھماکے سے پہلے رضاکار سیکورٹی اہلکاروں اور حملہ آور کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔اسلامک اسٹیٹ گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جو۲۰۰۸ء کےمیریٹ ہوٹل کے دھماکے کے بعد اسلام آباد کا سب سے خونریز واقعہ ہے۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور ایک پاکستانی شہری تھا جو حال ہی میں افغانستان گیا تھا۔ اسلام آباد اور پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں راتوں رات کی چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران حملہ آور کے رشتہ داروں سمیت کئی مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ کارروائی کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔تاہم ملک بھر میں دہشتگرد حملوں میں اضافے کے درمیان حکام تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بعد ازاں تقریباًڈیڑھ درجن متاثرین کی تدفین میں۲۰۰۰؍ سے زائد سوگواروں نے شرکت کی، جن میں سینئر سرکاری اہلکار اور مقامی لیڈر شامل تھے۔ دیگر متاثرین کی تدفین ان کے آبائی علاقوں میں ہوگی۔