• Tue, 03 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غلط شناخت کے سبب سڈنی میں پاکستانی نژاد شہری کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

Updated: December 16, 2025, 11:24 AM IST | Agency | Sydney

سڈنی میں ایک حملہ آور کی شناخت نوید اکرم کے طور پر ہوئی ہےجبکہ ایک دوسرے شہری کا نام بھی نوید اکرم ہےجس نے فائرنگ واقعے کی مذمت کی ہے۔

The attacker was identified as Naveed Akram, but the police have not yet identified the attackers. Picture: INN
حملہ آور نوید اکرم لیکن پولیس نے ابھی تک حملہ آوروں کی شناخت نہیں بتائی ہے۔ تصویر: آئی این این
 آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم ایک پاکستانی نژاد شخص نے انکشاف کیا ہے کہ بونڈی بیچ فائرنگ واقعے میں ملوث حملہ آور کے طور پر اس کی تصویر آن لائن بڑے پیمانے پر شیئر کیے جانے کے بعد اسے ’جان سے مارنے کی دھمکیاں‘ ملی ہیں اور وہ اپنے گھر سے باہر نکلنے میں ’خوفزدہ‘   ہے۔اتوار کو بونڈی ساحل پر یہودیوں کے حنوکا کی ایک تقریب میں۲؍ حملہ آوروں نے فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں۱۶؍ افراد ہلاک ہوئے جو۱۹۹۶ء کے بعد آسٹریلیا کا سب سے بدترین واقعہ ہے۔
پولیس نے اب تک حملہ آوروں کے نام ظاہر نہیں کیے ہیں، جو کہ باپ اور بیٹا بتائے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کے محرکات کا انکشاف کیا ہے۔ تاہم مختلف نیوز چینلز نے ان کی شناخت بالترتیب ساجد اکرم اور نوید اکرم کے نام سے کی ہے۔
آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے پیر کو صحافیوں کو بتایا کہ دو حملہ آوروں میں سے ایک باپ ہے جو پہلی بار۱۹۹۸ء میں طالب علم ویزا پر آسٹریلیا آیا تھا۔ وہ جائے وقوع پر ہی مارا گیا تھا۔ وزیر داخلہ کے مطابق حملہ آور کا بیٹا جو آسٹریلوی نژاد شہری ہے شدید زخمی ہے اور پولیس کی نگرانی میں سڈنی کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہے۔
’میں وہ شخص نہیں ہوں‘
آسٹریلیا کے ’ایس بی ایس نیوز‘ نے  ایک ایسا ویڈیو نشر کیا ہے جس میں نوید اکرم نے جو اپنا کاروبار چلاتا ہے اور۲۰۱۸ء میں آسٹریلیا آیا تھا، کہا’ ’میڈیا رپورٹس کے مطابق، حملہ آوروں میں سے ایک کا نام نوید اکرم ہے۔ میرا نام بھی نوید اکرم ہے۔بدقسمتی سے، ہمارے نام ایک جیسے ہیں۔‘‘ اس نے مزید کہا’’’میں صرف آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ شخص ایک مختلف شخص ہے۔‘‘اکرم نے فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا’’’وہ میں نہیں ہوں، اور میرا اس واقعے یا اس شخص سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
’زندگی کو خطرہ ہے‘
نوید ا کرم نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ان کی تصاویر کو فائرنگ کے واقعے سے مت جوڑیں، وہ ’تناؤ اور خوف‘ کا شکار ہیں۔اس نے مزید کہا کہ ’’مجھے واقعی آپ کی مدد کی ضرورت ہے کیونکہ یہ زندگی کو خطرہ پہنچانے والا واقعہ ہے اور اس سے بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔میں تو اب باہر بھی نہیں نکل سکتا۔‘‘سڈنی کے شمال مغربی مضافات میں رہنے والے۳۰؍ سالہ نوید اکرم نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں اتوار کی رات تقریباً ساڑھے۹؍بجے پہلی بار معلوم ہوا کہ انہیں غلطی سے حملہ آور سمجھا جا رہا ہے۔واضح رہےکہ جس نوید اکرم کی تصویر حملہ آور کے طورپر سامنے آئی ہےاس کا ڈرائیونگ لائسنس بھی سامنے آیا ہےجس کے مطابق وہ ۲۴؍ سال کا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK