Inquilab Logo Happiest Places to Work

مکہ دفاعی معاہدے نے پورے خطے میں اتحاد اور امن کا پیغام بھیجا: پاکستانی وزیراعظم

Updated: August 28, 2026, 7:57 PM IST | Islamabad

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے نے پورے خطے میں اتحاد اور امن کا پیغام بھیجا ہے، ترکی پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ہوئے اس معاہدے میں اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی تعاون کو گہرا کرنے اور خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینے کا عہد کیا گیا۔

Pakistani Prime Minister Shahbaz Sharif. Photo: INN.
 پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف۔ تصویر: آئی این این

 پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اس ماہ کے اوائل میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے پورے خطے میں اتحاد اور امن کا پیغام بھیجا ہے۔وزیراعظم دفتر کے بیان کے مطابق، شریف نے یہ ریمارکس سعودی عرب کے وزیر ماحولیات، پانی اور زراعت عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی سے ملاقات کے دوران دیے۔ واضح رہے کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے۷؍ اگست کو مکہ میں سہ فریقی سربراہی اجلاس کے دوران مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس میں اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی تعاون کو گہرا کرنے اور خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینے کا عہد کیا گیا۔اس معاہدے پر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے الصفا محل میں منعقدہ اجلاس کے دوران دستخط کیے۔ شریف نے کہا کہ’’ مشترکہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کو مزید قریب لایا اور پورے خطے میں اتحاد اور امن کا پیغام بھیجا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران کی امریکہ کو سخت دھمکی، محسن رضائی کانیتن یاہو کو جہنم بھیجنے کا انتباہ

دوسری جانب بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ اگر تین بانی اراکین کی طرف سے مدعو کیا گیا تو وہ اس معاہدے میں شامل ہونے پر مثبت طور پرغور کرے گا۔وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے جمعرات کو پارلیمنٹ کو بتایا، ’’معاہدے میں شامل ہونا یا نہ ہونا ابھی تک سامنے نہیں آیا، کیونکہ یہ معاہدے میں شامل فریقین کے ارادے سے مشروط ہے۔ اگر وہ بنگلہ دیش کو شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں، تو ہم یقیناً اس پر مثبت غور کریں گے۔‘‘ بنگلہ دیش کے بیانات کے جواب میں، پاکستان کے وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو دہرایا کہ’’ یہ معاہدہ ایک دفاعی فریم ورک ہے جس کا مقصد امن کا تحفظ اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے۔‘‘ اندرابی نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا، ’’ایک ابھرتے ہوئے سیکورٹی ڈھانچے کے طور پر، (یہ معاہدہ) ان ممالک کے لیے کھلا ہے جو اجتماعی ذمہ داریوں اور مشترکہ سلامتی کے مفادات کے عہدکی پاسداری کریں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’کسی بھی باضابطہ درخواست پر ریاض اور انقرہ میں اپنے شراکت داروں سے مشاورت کے بعد غور کیا جائے گا۔ تاہم، (معاہدے) کے عملی نفاذ کا مرحلہ ابتدائی ہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK