رواں سال پاکستانی فوجی سربراہ عاصم منیر کا ایران کا تیسرا دورہ ،امریکہ ایران جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان ثالث کا کردارادا کررہا ہے۔
EPAPER
Updated: August 25, 2026, 2:10 PM IST | Agency | Islamabad
رواں سال پاکستانی فوجی سربراہ عاصم منیر کا ایران کا تیسرا دورہ ،امریکہ ایران جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان ثالث کا کردارادا کررہا ہے۔
پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسیز فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران امریکہ مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کے سلسلے میں پیر کو ایران پہنچے ۔ ایران کی وزارت خارجہ نے اتوار کو ان کے دورے کی تصدیق کی تھی۔یہ رواں سال عاصم منیر کا ایران کا تیسرا دورہ ہے۔ پاکستان مسلسل امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے کیلئے ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔پاکستانی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دورے کی تصدیق کی، تاہم اس کے ایجنڈے کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)، وزارت خارجہ اور وزارت اطلاعات نے بھی دورے سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا۔ قابل ذکر ہے کہ اس بار دورے کا اعلان اسلام آباد کے بجائے تہران کی جانب سے کیا گیا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ دورہ خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو آگے بڑھائے گا۔ ان کے مطابق عاصم منیر قیام کے دوران اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: پہلگام حملے، آپریشن سیندور کے وقت سے پھنسیں۱۵۰؍ پاکستانی دلہنیں ہندوستان پہنچیں
یہ دورہ عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان صرف چار دن کے اندر ہونے والی دو ٹیلی فونک گفتگو کے بعد ہو رہا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں لیڈروں نے علاقائی صورتحال اور مغربی ایشیا میں امن، استحکام اور سلامتی کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔عاصم منیر نے رواں سال پہلی مرتبہ اپریل میں ایران کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے چند روز بعد ہوا تھا، جو چار دہائیوں سے زائد عرصے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی پہلی کوشش تھی، تاہم کسی اہم پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی۔انہوں نے مئی میں بھی ایران کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورہ ایسے وقت ہوا جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت کا عندیہ دیا تھا۔ان کا تازہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم اویو) کے تحت جاری سفارتی عمل تقریباً تعطل کا شکار ہے اور واشنگٹن ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔