Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران پر امریکی پابندیوں سے کن ممالک پر اثر پڑیگا؟

Updated: August 25, 2026, 2:20 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

مالی پابندیوں سے صرف ایران نہیں بلکہ اس کے کئی شراکت دار متاثر ہوسکتے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

چین: چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے ۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین کی نجی ریفائنریوں نے ایرانی تیل کی خریداری کا ایک ایسا نظام قائم کیا ہے جس میں تیل کو مختلف ممالک، بالخصوص ملائیشیا اور  انڈونیشیا  کے ذریعےفروخت کیا جاتا ہے۔رائٹرز کے مطابق یہ تیل مختلف درمیانی اداروں کے ذریعے ایک محدود تجارتی نیٹ ورک میں منتقل ہوتا ہے اور ادائیگیاں چینی کرنسی میں کی جاتی ہیں جس سے اس تجارت کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے گزشتہ اپریل میں ایک چینی آزاد ریفائنری پر ایرانی تیل کی اربوں ڈالر کی خریداری کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں اور چینی بینکوں کو بھی خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے ایرانی تیل کی تجارت میں سہولت فراہم کی تو انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایرانی تیل  کی۸۰؍ فیصد سے زیادہ کھیپ چین جاتی ہے۔ کیپلر کے تخمینے کے مطابق چین نے ۲۰۲۵ء  میں اوسطاً روزانہ۱۳؍ لاکھ۸۰؍ ہزار بیرل ایرانی تیل خریدا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: اُترپردیش میں ایک بھی مسلم کو بلٹ پروف جیکٹ نہیں ملی، حکومت پر جانبداری کا الزام

 ترکی:ایران اور ترکی کے درمیان بھی اہم اقتصادی تعلقات ہیں۔ ترکی ایران سے قدرتی گیس درآمد کرتا ہے جبکہ ایران کو تیار شدہ مصنوعات برآمد کرتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً۵؍سے۶؍ ارب ڈالر ہے جس میں ترکی کی ایران کو برآمدات تقریباً۳؍ ارب ڈالر ہیں۔ترکی اپنی قدرتی گیس کی ضروریات کا ایک حصہ ایران سے پورا کرتا ہے اور ایرانی گیس ترکی کی مجموعی درآمدات کا تقریباً۱۳؍ فیصد ہے۔
عراق:عراق اور ایران کے درمیان تجارت ۲۰۲۵ء میں ۱۰؍ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ ایران بنیادی طور پر عراق کو خوراک، صارفین کی اشیاء اور دیگر مصنوعات برآمد کرتا ہے۔ ۲۰۲۶ء میں جنگ کے آغاز کے بعد سرحدی گزرگاہوں میں رکاوٹوں، سیکوریٹی خطرات اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کے باعث دونوں ملکوں کی تجارت متاثر ہوئی۔عراقی حکام کے مطابق بغداد ایران کو قدرتی گیس کے عوض سالانہ۴؍  سے۵؍ ارب ڈالر ادا کرتا ہے۔ یہ گیس عراق میں بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔اگر امریکہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کیں تو بغداد کیلئے ایرانی توانائی کی ادائیگیاں جاری رکھنا اور بیک وقت امریکی پابندیوں سے بچنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو میں ہر خاندان کو سالانہ تین ایل پی جی سلنڈر مفت ملیں گے

عمان:عمان کے ایران کے ساتھ طویل عرصے سے دوستانہ تعلقات ہیں اور مسقط کئی مرتبہ ایران اور دیگر ممالک، خصوصاً امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ۲۰۲۵ء میں عمان اور ایران کے درمیان اشیاء کی مجموعی تجارت تقریباً ۱ء۵؍ارب ڈالر رہی جبکہ رواں سال کے پہلے ۴؍ ماہ میں یہ تجارت ۳۴۵؍ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان:ایران اور پاکستان کے درمیان بھی کئی برس سے تجارتی روابط موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تیل، گندم، چاول، مویشیوں اور ادویات کی تجارت ہوتی ہے جس کا ایک بڑا حصہ غیر رسمی ذرائع سے انجام پاتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے ساتھ تجارت یا امداد میں شامل ممالک کے خلاف امریکی کارروائی پاکستان کیلئے بھی بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو۱۰؍ ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم کر رکھا ہے۔غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق غیر رسمی تجارت سمیت دونوں ملکوں کے درمیان درآمدات و برآمدات کا حجم تقریباً۴؍  ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔گزشتہ جون میں اسلام آباد میں عارضی معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے تجارتی تعاون بڑھانے کیلئے تیزی سے اقدامات بھی کیے ہیں۔امریکی پابندیوںکے سبب پاکستان پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’چڑھاوا چوری‘ کے بعد اب اُترپردیش میں ۵؍سرکاری اسکولوں کے ’چوری‘ ہو جانے کاالزام

ہندوستان:امریکی پابندیوں کے دباؤ کے باعثہندوستان اور ایران کی تجارت میں ۲۰۲۰ء  کے بعد نمایاں کمی آئی۔دونوں ممالک کی دوطرفہ تجارت مالی سال۲۰-۲۰۱۹ء میں ایک سال پہلے کے۱۷؍ ارب ڈالر سے کم ہو کر تقریباً۴ء۸؍ ارب ڈالر رہ گئی۔ہندوستانی وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق مالی  سال ۲۶-۲۰۲۵ء میں یہ تجارت مزید کم ہو کر۱ء۶۳؍ارب ڈالر رہ گئی۔اس تجارت میں ہندوستان کی برآمدات کا حصہ تقریباً۱ء۳؍ارب ڈالر ہے جن میں بنیادی طور پر اناج، چائے، کافی اور مسالے شامل ہیں۔ہندوستانی حکام ماضی میں مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ یہ برآمدات انسانی ضروریات سے متعلق ہیں اور انہیں پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا جانا چاہئے۔مگرامریکہ کی جانب سے نئی وسیع ترپابندیوںکے باعث واشنگٹن کی نظر اس پر بھی ہوگی کہ وہ  نئی دہلی کے ساتھ کیا اور کیسے روابط رکھتا ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK