Updated: August 25, 2026, 1:55 PM IST
| New Delhi
پہلگام دہشت گردانہ حملے اور آپریشن سیندور کے بعد واہگہ-اٹاری بارڈر بند ہونے سے کئی پاکستانی سندھی دلہنوں کی ہندوستان میں شادیوں کا معاملہ التوا کا شکار ہوگیا تھا۔ اب حکومتِ ہند کی خصوصی اجازت کے بعد ۱۵۰؍ سے زائد دلہنیں اپنے اہل خانہ کے ساتھ مختلف ممالک کے راستے ہندوستان پہنچ کر شادی کے بندھن میں بندھنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔
۱۵۰؍ سے زائد پاکستانی سندھی دلہنیں جن کی پہلے ہندوستانی مردوں سے منگنی ہوئی تھی لیکن پہلگام دہشت گردانہ حملے، اس کے بعد آپریشن سیندور کے دوران واہگہ اٹاری بارڈر کی بندش کے بعد وہ ہندوستان کا سفر نہیں کرسکی تھیں، آخر کاراب اپنی شادی کیلئے ہندوستان کا سفر کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ پاکستان سے آنے والے سندھی تارکین وطن کیلئے کامکرنے والے ر اجیش جھمبیا بتاتے ہیں کہ مرکزی حکومت نے بعد میں دلہنوں اور ان کے رشتہ داروں کو ویزا جاری کیا جس سے انہیں دوسرے ممالک کے ذریعے ہندوستان پہنچنے کی اجازت دی گئی۔ جھمبیا نے کہا، ’’بالآخر طویل انتظار ختم ہوا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایل اینڈ ٹی کی بڑی چھلانگ، مشرق وسطیٰ میں ۱۵؍ ہزار کروڑ سے زائد کے معاہدہ پر دستخط کئے
جھمبیانے پی ٹی آئی سے گفتگو میں کہاکہ دلہنوں اور تقریباً ۴۵۰؍ ان کے ساتھ آنے والے رشتہ داروں کو لازمی طور پر ہوائی سفر کرنے اور ہندوستان پہنچنے کیلئے مربوط پروازوں کا استعمال کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔ انہوں نےمزید کہا، ’’دلہن اور ان کے رشتہ دار دبئی، سری لنکا اور دیگر ممالک کے ٹرانزٹ راستوں سے ہندوستان پہنچے ہیں۔ ‘‘ جھمبیا نے کہا کہ پاکستان کے صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کو پریشانی سے ک سرحد پار ازدواجی رشتوں میں منسلک ہونے کی اجازت ملی ہے۔ تاہم، جموں کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے بڑے دہشت گردانہ حملے کے بعدجس میں ۲۶؍ شہری مارے گئے، ہندوستان نے جواب میں آپریشن سیندور شروع کیا اور واہگہ-اٹاری بارڈر بند کر دیاگیا، زمینی سرحد پار کے سفر کو منسوخ کر دیاگیا۔ وہ آگے بتاتے ہیں کہ، ’’تقریباً ۱۵۰؍ دلہنیں تھیں جن کی شادیاں ناگپور، رائے پور، جودھ پور، پونے اور ہندوستان کے دیگر شہروں میں ہونی تھیں۔ ‘‘ان دلہنوں اور ان کے اہل خانہ نے پاکستان کے صوبہ سندھ میں گھوٹکی میں ایک ممتاز ہندو مذہبی عبادت گاہ شادانی دربار کے روحانی سربراہ، رائے پور میں مقیم سنت یودھیشتر لال شادانی سے رابطہ کیا۔ مندر کی انتظامیہ نے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا اور حکام پر زور دیا کہ وہ ان خاندانوں کو ویزا دینے کی اجازت دیں تاکہ وہ ہندوستان کا سفر کرسکیں۔ اس کے بعد وزارت داخلہ نے خصوصی ہوائی سفر کے مشروط ویزوں کی اجازت دی جس سے دلہنوں کے پہلے بڑے گروپ کو اپریل اور اگست ۲۰۲۶؍ کے درمیان ہندوستان آنے کی اجازت دی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ظہران ممدانی کوئی اینٹی نیشنل نہیں کہ میں ان سے مل نہیں سکتا‘‘
جھمبیا نے کہا، ’’اس سال اپریل سے، پاکستان سے ۱۵۰؍ دلہنیں اور ان کے اہل خانہ شادیوں کیلئے دبئی، عمان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے راستے ہندوستان آئے ہیں جن میں ناگپور کے ۱۵؍ معاملے شامل ہیں۔ جھمبیا نے یہ بھی بتایا کہ فی الحال تقریباً ۳۰۰ ؍ مزید پاکستانی-سندھی خواتین نے ہندوستانی حکومت سے درخواست کی ہے کہ انہیں بھی ویزا جاری کیا جائے وہ ویٹنگ لسٹ میں ہیں۔