Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماں کا بڑھاپا.... جب بچپن لوٹ آتا ہے

Updated: August 25, 2026, 2:36 PM IST | Dr. Sharmeen Ansari | Mumbai

بڑھاپے میں بھی انسان کی بہت سی ضرورتیں دوسروں سے وابستہ ہو جاتی ہیں۔ یادداشت کمزور ہونے لگتی ہے، باتیں دہرائی جانے لگتی ہیں، قدم آہستہ پڑنے لگتے ہیں اور کبھی کبھی معمولی سی بات بھی دل پر اثر کر جاتی ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم بچپن کی ہر کمزوری کو معصومیت سمجھ کر معاف کر دیتے ہیں مگر بڑھاپے کی کمزوریوں کو بوجھ سمجھتے ہیں۔

Can we not lovingly accept every frailty of the mother who, in our childhood, handled our every stubborn demand with love? Picture: INN
بچپن میں جس ماں نے ہماری ہر ضد کو محبت سے سنبھالا، کیا ہم اس کے بڑھاپے کی ہر کمزوری کو محبت سے قبول نہیں کرسکتے۔ تصویر: آئی این این

ایک بچہ ایک ہی سوال بار بار پوچھے تو ہمیں اس کی معصومیت اچھی لگتی ہے۔ وہ ایک ہی قصہ دس مرتبہ سنائے تو ہم مسکرا کر سنتے ہیں۔ وہ ضد کرے تو اسے بہلاتے ہیں، اس کے آنسو پونچھتے ہیں، اس کی خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کھانا نہ کھائے تو ماں لقمہ لے کر اس کے پیچھے پیچھے پھرتی ہے، کبھی پیار سے، کبھی کھیل کے بہانے، کبھی اس کی پسند کی چیز بنا کر اسے کھلاتی ہے۔ بچہ رات کو ایک بار آواز دے تو ماں اپنی نیند قربان کرکے اٹھ جاتی ہے۔ اسے بخار ہو تو ماں کی آنکھوں سے نیند غائب ہو جاتی ہے۔ اس کے چہرے پر ذرا سی اداسی آئے تو ماں کا دل بے چین ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پارلر جیسا پیڈی کیور گھر پر: بارہ آسان اسٹیپس

لیکن وقت گزرتا ہے۔ وہی بچہ بڑا ہو جاتا ہے، اپنی تعلیم، ملازمت، شادی، بچوں اور مصروفیات میں گم ہو جاتا ہے، اور وہ ماں آہستہ آہستہ عمر کے اس حصے میں داخل ہو جاتی ہے جہاں اسے کسی کے سہارے، کسی کی توجہ اور کسی کی محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب اگر وہ ایک ہی بات دوبارہ کہہ دے تو ہمیں جھنجھلاہٹ ہوتی ہے۔ وہ اپنی پرانی یادیں سنائے تو ہم کہہ دیتے ہیں، ’’امی! یہ بات آپ پہلے بھی بتا چکی ہیں۔‘‘ وہ کسی بات پر اصرار کرے تو ہمیں اس کی ضد نظر آتی ہے، اس کی عمر اور بے بسی نہیں۔ وہ کھانا نہ کھائے تو ہم کہہ دیتے ہیں، ’’جب بھوک لگے گی تو خود کھا لے گی۔‘‘

ذرا سوچئے، یہ وہی ماں ہے جس نے ہماری ایک آواز پر اپنی نیند قربان کر دی تھی۔ جس نے ہمارے بخار میں پوری پوری رات ہمارے ماتھے پر ہاتھ رکھا تھا۔ جس نے ہماری بھوک کے لئے اپنی بھوک بھلا دی تھی۔ جس نے ہماری چھوٹی سی تکلیف کو بھی اپنی سب سے بڑی پریشانی سمجھا تھا۔ آج اگر اس کے ہاتھ کانپتے ہیں، قدم ڈگمگاتے ہیں، آواز میں کمزوری ہے یا یادداشت پہلے جیسی نہیں رہی تو کیا ہماری محبت بھی کم ہو جانی چاہئے؟ کیا ماں کے بڑھاپے نے اسے ہماری محبت کا کم حقدار بنا دیا ہے؟ شاید نہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بڑھاپے میں ماں کو ہماری ضرورت اس وقت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جب ہم بچے تھے۔ بچپن میں اسے ہماری جسمانی حفاظت کرنی تھی، مگر بڑھاپے میں اسے ہماری قربت اور احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچپن میں وہ ہمیں گود میں اٹھاتی تھی، اب شاید اسے خود کسی کے سہارے کی ضرورت ہو۔ بچپن میں ہم اس کے پیچھے پیچھے چلتے تھے، اب اسے ہمارے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔ بچپن میں ہم رات کو ڈر کر اسے پکارتے تھے، اب شاید رات کی خاموشی میں وہ ہمیں پکارتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اے سی سے ڈرائی آئیز کا خطرہ: اِن باتوں کا دھیان رکھیں

ایک عورت کے بڑھاپے کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ عورت اپنی پوری زندگی کسی نہ کسی کیلئے جیتی ہے۔ بیٹی کیلئے ماں کا بڑھاپا شاید سب سے زیادہ دل کو چھو لینے والا مرحلہ ہوتا ہے۔ وہی ماں جو کبھی بیٹی کے بال سنوارتی تھی، آج خود بیٹی سے کہتی ہے، ’’ذرا میرے بال بنا دو۔‘‘ وہی ہاتھ جنہوں نے کبھی بیٹی کے کپڑے تہہ کئے تھے، آج کپڑے تہہ کرتے ہوئے تھک جاتے ہیں۔ وہی ماں جس نے کبھی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر اسے سڑک پار کرائی تھی، آج سڑک پار کرتے ہوئے بیٹی کو اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامنا پڑتا ہے۔ یہ زندگی کا عجیب مگر خوبصورت سفر ہے۔ رشتے اپنی جگہ نہیں بدلتے، صرف ذمہ داریاں بدل جاتی ہیں۔ کل ماں سہارا تھی، آج بیٹی کو سہارا بننا ہے۔ کل ماں ہماری آواز سنتے ہی دوڑ کر آتی تھی، آج شاید اسے ہماری آواز سننے کیلئے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کل ہم اس کے بغیر ایک رات نہیں رہ سکتے تھے، آج وہ کئی کئی دن ہماری ایک جھلک دیکھنے کو ترس جاتی ہے۔ اس سے پہلے کہ اس کی آواز ہمیشہ کیلئے خاموش ہو جائے، اس سے پہلے کہ اس کی کرسی خالی ہو جائے، اس سے پہلے کہ اس کا فون ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جائے، اس سے پہلے کہ ہم صرف اس کی تصویر سے باتیں کرنے لگیں.... اس کے پاس بیٹھ جائیں۔ کیونکہ ماں کے جانے کے بعد دنیا کی کوئی دولت ہمیں وہ ایک لمحہ واپس نہیں دے سکتی جس میں ہم اس کے پاس بیٹھ سکتے تھے، مگر بیٹھے نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: تحفہ دینا چاہئے مگر اِن باتوں کا خیال رکھیں

ہم اکثر اپنی ماؤں کیلئے بڑی بڑی چیزیں کرنا چاہتے ہیں مگر ماں کو اکثر بڑی چیزیں نہیں چاہئیں۔ اسے یہ یقین چاہئے کہ اس کی بیٹی اسے بھولی نہیں۔ اسے یہ احساس چاہئے کہ عمر نے اسے غیر ضروری نہیں بنا دیا۔ اسے معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اب بھی کسی کی ضرورت ہے، کسی کی دعا ہے، کسی کی دُنیا ہے۔

جب تک ماں ہمارے درمیان ہے، اس کے پاس بیٹھ جائیے۔ اس کی بات سن لیجئے۔ اس کے ساتھ چائے پی لیجئے۔ اسے کبھی باہر لے جائیے۔ اس کے ہاتھ چوم لیجئے۔ اسے بے وجہ گلے لگا لیجئے۔ اور کبھی اچانک اس سے کہہ دیجئے  ’’امی، آپ میرے لئے بہت قیمتی ہیں۔‘‘ شاید وہ کچھ نہ کہے۔ شاید صرف مسکرا دے۔ شاید اس کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں۔ لیکن یقین کیجئے، وہ اس ایک جملے کو اپنے دل میں بہت دنوں تک سنبھال کر رکھے گی۔

اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں کو صحت، عزت، سکون اور لمبی عمر عطا فرمائے، اور ہمیں ان کے بڑھاپے کا سہارا، ان کی تنہائی کا ساتھی اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کی توفیق عطا فرمائے (آمین۔)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK