اوچا کے مطابق ان حملوں میں گولہ بارود استعمال ہوا، فلسطینیوں کی املاک کو آگ لگائی گئی اور زیتون کے درختوں کو تباہ کر دیا گیا۔
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 2:01 PM IST | Agency | Ramallah
اوچا کے مطابق ان حملوں میں گولہ بارود استعمال ہوا، فلسطینیوں کی املاک کو آگ لگائی گئی اور زیتون کے درختوں کو تباہ کر دیا گیا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی کٹائی کا موسم آنے پر فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے حملے بڑھ گئے ہیں۔ رواں مہینے کے پہلے دو ہفتوں میں ایسے ۱۶۰؍ حملے کئے گئے جبکہ اسرائیلی سیکوریٹی فورسیز نے بھی ان کی سرپرستی کی یا ایسی کارروائیوں میں براہ راست حصہ لیا۔ہنگامی امدادی امور کیلئے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ ان حملوں میں گولہ بارود استعمال ہوا، فلسطینیوں کی املاک کو آگ لگائی گئی اور زیتون کے درختوں کو تباہ کر دیا گیا۔گزشتہ دنوں آبادکاروں نے فصل کی کٹائی کے موقع پر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ایک صحافی پر حملہ کیا اور فلسطینی آبادی کا دورہ کرنے والے یورپی سفارت کاروں کو بھی نشانہ بنایا۔اوچا نے رکن ممالک اور امدادی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ محض مذمتی بیانات دینے کے بجائے فلسطینی آبادیوں کے تحفظ کے لئے فوری مداخلت کریں کہ زیتون کی فصل کا حالیہ موسم بھی تشویشناک انداز میں شروع ہو رہا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے نقل و حرکت پر کڑی پابندیوں کے باعث ہزاروں فلسطینی کسانوں کی اپنے زیتون کے درختوں تک رسائی مسدود ہو گئی ہے۔ گزشتہ تین برس کے دوران ان پابندیوں میں شدت آئی ہے۔ اوچا کے مطابق آبادکاروں کو فلسطینیوں کی زمینوں پر جا کر ان کی فصلیں لوٹنے کی اجازت بھی دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:وینزویلا میں دو سال بعد ملک گیر مظاہرے
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کے سربراہ اجیت سنگھے نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے مطابق زیتون کے درخت ان کی اجتماعی شناخت اور زمین سے ان کے تعلق کی علامت ہیں۔ ان کی تباہی فلسطینیوں کی بے دخلی اور ان کے علاقوں پر قبضے کا ہتھکنڈا ہے۔فلسطینی وزارت زراعت کے مطابق اکتوبر۲۰۲۳ءسے اب تک زیتون کے شعبے کو۱۵؍ کروڑ۷۰؍ لاکھ ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ اس عرصہ کے دوران غزہ میں زیتون کے ۲۰؍ لاکھ درختوں میں سے۹۰؍ فیصد تباہ کر دیئے گئے۔مغربی کنارے میں۲۰۲۳ءسے اب تک زیتون کے ۲؍لاکھ۸۶؍ ہزار درختوں کو نقصان پہنچایا گیا جن میں ایک لاکھ رواں سال متاثر ہوئے۔ یہ نقصان فصل کی کٹائی کا سیزن شروع ہونے سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔
اجیت سنگھے نے شہریوں کے تحفظ کےلئے کام کرنے والے’کلسٹرگروپ‘ کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک فصل کی کٹائی کے موسم میں خطرے سے دوچار آبادیوں میں اپنی سفارتی موجودگی بڑھائیں اور حملہ آوروں کو روکیں۔