• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دسویں کے امتحان سے محرومی سے میڈیکل کی منزل تک، ایک غیر معمولی سفر

Updated: October 24, 2026, 1:47 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

جنرل سرجن بننے کے اعزاز میں ڈاکٹر شاریہ انصاری کیلئے بھیونڈی میں جلسۂ تہنیت، مقررین کی مسلم طالبات کو سرجری کے میدان میں آگے آنے کی ترغیب۔

From right to left: Dr. Nazia Ansari, Professor Waheeda Hafeez-ur-Rehman Momin, Dr. Shariya Ansari, and her father, Shafiq Ansari. Dr. Shariya Ansari is being presented with a memento by the organizers in recognition of her achievement. Photo: INN
دائیں سے بائیں: ڈاکٹر نازیہ انصاری، پروفیسر وحیدہ حفیظ الرحمٰن مومن، ڈاکٹر شاریہ انصاری اور ان کے والد شفیق انصاری۔ ڈاکٹر شاریہ انصاری کو ان کی کامیابی پر منتظمین کی جانب سے میمنٹو پیش کیا جا رہا ہے۔ تصویر: آئی این این

دسویں جماعت کے امتحان میں بیٹھنے سے محرومی نے ایک طالبہ کے دل میں ایسا عزم پیدا کیا کہ اس نے ڈاکٹر بن کر اپنے والدین اور نانا کا خواب پورا کرنے کی ٹھان لی۔ والد کی مضبوط سرپرستی، والدہ کی حوصلہ افزائی اور نانا کی دعاؤں کے سہارے اس طالبہ نے نہ صرف میڈیکل کی تعلیم مکمل کی بلکہ جنرل سرجری جیسے شعبے میں مہارت حاصل کرکے بھیونڈی کی خاتون ایم ایس (جنرل سرجن) بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ یہ کہانی ڈاکٹر شاریہ شفیق انصاری کی ہے جن کی کامیابی کو مقررین نے محض ایک فرد کی حصولیابی نہیں بلکہ مسلم طالبات کے لئے نئی راہیں کھولنے والی پیش رفت قرار دیا۔

ڈاکٹر شاریہ انصاری کی اسی کامیابی کے اعتراف میں کرن ویمنز ویلفیئر سوسائٹی اور بزم یارانِ ادب کے اشتراک سے جی ایم مومن ویمنز کالج کے آڈیٹوریم میں جلسۂ تہنیت منعقد کیا گیا۔ شہر کے طبی، تعلیمی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اس موقع پر ان کی حوصلہ افزائی کی اور امید ظاہر کی کہ ان کی کامیابی سے مزید مسلم طالبات جنرل سرجری جیسے اہم شعبے میں تخصص حاصل کرنے کی طرف راغب ہوں گی۔معروف ماہرِ امراضِ قلب،ڈاکٹر عفان امتیاز خان (ڈی ایم) نے کہا کہ بھیونڈی کو پہلی مسلم خاتون جنرل سرجن ملنا خوش آئند ہے۔ ڈاکٹر شاریہ کی کامیابی ایم بی بی ایس مکمل کرنے والی یا زیرِ تعلیم مسلم طالبات کیلئے حوصلے کا باعث بنے گی اور انہیں جنرل سرجری کے میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دے گی۔

یہ بھی پڑھئے:رائے گڑھ میں طلبہ کی شدید کمی، ضلع پریشد کے۳۶۰؍ اسکول بند ہونے کے دہانے پر

سینئر ماہرِ امراضِ نسواں ڈاکٹر نازیہ ایاز انصاری (ایم ایس) نے ڈاکٹر شاریہ کی کامیابی کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایم بی بی ایس کے بعد بہت سی طالبات امراضِ نسواں، امراضِ چشم یا کان، ناک اور گلے کے شعبوں میں تخصص کو ترجیح دیتی ہیں جبکہ جنرل سرجری کی طرف نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر شاریہ نے اپنی ہمت سے اس تاثر کو بدلنے میں کردار ادا کیا ہے۔

معروف عالم دین مولانا مجاہد اقبال ندوی نے کہا کہ باحجاب مسلم خواتین کا جنرل سرجری کے میدان میں آگے آنا معاشرے کی ایک اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پردے کا اہتمام کرنے والی بعض خواتین مرد جنرل سرجن سے آپریشن کرانے سے گریز کرتی ہیں اور بعض اوقات اس ہچکچاہٹ کے باعث اپنی صحت کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر شاریہ اس کمی کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

معروف آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر محدث مشتاق مومن نے ڈاکٹر شاریہ کو عملی میدان میں ہمت اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی اور طبی شعبے میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

شہر کی معروف تعلیمی و سماجی شخصیت پروفیسر وحیدہ حفیظ الرحمٰن مومن نے صدارتی خطاب میں ان ماؤں کو خراجِ تحسین پیش کیا جو اپنے بچوں کی تعلیم کے تئیں سنجیدہ رہتی ہیں اور انہیں اعلیٰ تعلیم دلانے کیلئے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہوتی ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر شاریہ کو تلقین کی کہ وہ طب کے شعبے میں خدمتِ خلق کے جذبے کو ہمیشہ مقدم رکھیں اور اپنے نانا اور والدین کے خوابوں کو نیک تعبیر دیں۔

جلسے کے اختتام پر شہر کی نمائندہ تنظیموں اور سرکردہ شخصیات کی جانب سے ڈاکٹر شاریہ شفیق انصاری کو میمنٹو، شال اور گلدستے پیش کرکے تہنیت پیش کی گئی۔ پروگرام کی نظامت وی وا کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ایڈوکیٹ سلیم یوسف شیخ نے کی جبکہ رسمِ شکریہ شاہد حسن فاروقی نے ادا کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK