• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تبت میں ۷؍شدت کا زلزلہ،۱۶؍افراد ہلاک،۶۵؍افرادزخمی

Updated: October 24, 2026, 2:05 PM IST | Agency | Beijing

سیکڑوں مکانات منہدم، ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری۔

Relief workers active following the earthquake. Photo: INN
زلزلے کے بعد امدادی کارکن سرگرم۔ تصویر: آئی این این

چین کے خود مختار علاقے تبت میں ۷؍ شدت کے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم ۱۶؍ افراد ہلاک ہوگئے۔ حکام نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔خبر رساں ایجنسیوں اے ایف پی، اے پی اور رائٹرز کے مطابق شمالی تبت کے ایک دور افتادہ علاقے میں جمعرات کی رات ۱۰؍ بج کر۳۳؍ منٹ پر زلزلہ آیا۔ جمعہ کو بھی متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری رہیں۔چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق  زلزلے کے باعث بجلی اور مواصلات کا نظام متاثر ہوا ہے۔رائٹرز کے مطابق کم آبادی والے بلند پہاڑی شہر ناگچو کے حکام نے بتایا کہ زلزلے میں۶۵؍ افراد تک زخمی ہوئے ہیں لیکن بعض دیگر رپورٹوں میں زخمیوں کی تعداد اس سے کچھ کم بتائی گئی ہے۔یہ جنوری ۲۰۲۶ء کے بعد چین میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے:فرانس: احتجاج کے پیش نظر دکانداروں نے مدافعتی ہتھیاروں کا ذخیرہ کیا: رپورٹ

حکام کے مطابق کم از کم۳۳۹؍ مکانات اور مویشیوں کے ۲۰؍ باڑے منہدم ہوگئے ہیں۔سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری ویڈیوز میں عوام کو اپنے مکانات سے باہر نکلتے اور سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں یا کھلی جگہوں پر پناہ لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ایک پہاڑی علاقے میں تھا جو ناگچو سے تقریباً ۱۹۰؍ کلومیٹر مشرق شمال مشرق اور تبت کے دارالحکومت لہاسہ سے تقریباً۳۹۰؍کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔

الجزیرہ کی نامہ نگار کترینا یو نے بیجنگ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ چینی حکومت نے امدادی کارروائیوں کے لئے۱۶۰۰؍ اہلکار تعینات کئے ہیں لیکن تقریباً ۴۸۰۰؍میٹر کی بلندی پر واقع متاثرہ علاقے تک پہنچنا مشکل ہے، کیونکہ متعدد سڑکیں بند ہیں یا چٹانیں کھسکنے سے متاثر ہوئی ہیں۔ آئندہ برف باری کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK