• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وینزویلا میں دو سال بعد ملک گیر مظاہرے

Updated: October 24, 2026, 1:58 PM IST | Agency | Caracas

مظاہرین کا آزادانہ انتخابات کرانے کا مطالبہ،اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو کےمطابق انتخابات جولائی۲۰۲۷ء تک کرائے جانے چاہئیں۔

Supporters of opposition leader and Nobel Peace Prize laureate María Corina Machado have gathered in the capital, Caracas. Photo: INN
دارالحکومت کراکس میںا پوزیشن لیڈر اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو کے حامی جمع ہیں۔ تصویر: آئی این این

وینزویلا کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے آزادانہ انتخابات اور دیگر سیاسی اصلاحات کے مطالبے پر سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا۔ تقریباً ۲؍ سال میں اپوزیشن کا یہ پہلا ملک گیر مظاہرہ تھا۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے لیکن سابق صدر نکولس مادورو کی جگہ نئے صدر کے انتخاب کیلئے ووٹنگ کی تاریخ اب تک مقرر نہیں کی گئی ہے۔ مادورو کو جنوری میں امریکی فوجی کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔اپوزیشن لیڈر اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو نے کہا ہے کہ انتخابات جولائی۲۰۲۷ء تک کرائے جانے چاہئیں۔ وہ ۲۰۲۴ء کے متنازعصدارتی انتخابات کے بعد تقریباً ایک سال تک روپوش رہنے کے بعد ملک سے باہر ہیں۔ماچاڈو کی سیاسی تحریک وینتے وینزویلا نے دارالحکومت کراکس کے علاوہ والینسیا، ماراکے، سان کرسٹوبل اور ماراکائیبو سمیت کئی شہروں میں مظاہروں کا اہتمام کیا۔

شمالی ماراکے میں سیکڑوں مظاہرین کے ساتھ شریک ۱۸؍ سالہ کاسمیٹولوجی کی طالبہ لیوسماری ہرنانڈیز نے کہا، ’’یہ سب دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ تبدیلی ممکن ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’ڈالر کی قدر میں اضافے اور تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات سمیت متعدد مسائل کی وجہ سے انہیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن انہیں اپنے ملک اور مستقبل کے لیڈر اور صدر ماریا کورینا سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔‘‘ہرنانڈیز نے مزید کہا، ’’میں اس سے پہلے بھی احتجاج کے لئے نکلی تھی، جب حالات کہیں زیادہ مشکل تھے۔ آج مجھے اپنی آواز بلند کرنے کی خواہش ہے اور میں پہلے سے بھی کم خوف محسوس کرتی ہوں۔‘‘وینزویلا میں۳؍ جنوری سے طویل عرصے سے برسراقتدار یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف وینزویلا (پی ایس یو وی) کی ڈیلسی روڈریگز عبوری صدر کے طور پر حکومت چلا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:پیرس کے نواح میں فائرنگ، ایک ہلاک، ۵؍ زخمی؛ مسلم مخالف عناصر شامل ہونے کا دعویٰ

پی ایس یو وی کی قیادت پر سیاسی مخالفین کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، من مانی گرفتاریوں، قید اور تشدد کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں۔امریکہ کی جانب سے سابق صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرکے قید کرنے کے لئے فوجی کارروائی کے بعد بھی پی ایس یو وی وہائٹ ہاؤس کی حمایت سے اقتدار میں برقرار رہی۔

سرکاری فورسیز کی موجودگی محدود رہی

وینزویلا کی سوشلسٹ تحریک۱۹۹۹ء سے پہلے آنجہانی صدر ہوگو شاویز اور بعد میں مادورو کی قیادت میں اقتدار میں ہے۔ ماضی میں حکومت نے مظاہرین کیخلاف سیکوریٹی فورسیز تعینات کی ہیں لیکن جمعرات کو احتجاج کے مقامات پر سرکاری فورسیز کی موجودگی محدود رہی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK