Inquilab Logo Happiest Places to Work

مقبوضہ فلسطین میں دیودار کے جنگلات اور ماحولیاتی تباہی کی حقیقت بے نقاب

Updated: April 26, 2026, 3:09 PM IST | Jerusalem

مقبوضہ فلسطین میں دیودار کے درختوں کی بڑے پیمانے پر شجرکاری کو ماہرین نوآبادیاتی پالیسی اور ماحولیاتی تبدیلی سے جوڑتے ہیں۔ ۱۹۴۸ء کے بعد جیوش نیشنل فنڈ کے تحت مقامی درختوں کی جگہ غیر مقامی پائن لگائے گئے، جس سے نہ صرف دیہات کے آثار مٹ گئے بلکہ ماحولیات بھی متاثر ہوئی۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ درخت مقامی آب و ہوا کے لیے موزوں نہیں اور اب بڑے پیمانے پر خشک سالی اور آگ کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی انواع جیسے زیتون دوبارہ ابھر رہی ہیں۔

Olive Tree. Photo: X
زیتون کا درخت۔ تصویر: ایکس

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں دیودار (پائن) کے وسیع جنگلات کو اب صرف شجرکاری نہیں بلکہ ایک بڑے تاریخی اور ماحولیاتی عمل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ جنگلات خاص طور پر ۱۹۴۸ء کے بعد جیوش نیشنل فنڈ کے تحت لگائے گئے، جب لاکھوں فلسطینیوں کی بے دخلی کے بعد زمین کے قدرتی اور ثقافتی نقشے کو تبدیل کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق مقامی درختوں جیسے زیتون، انجیر، بلوط اور بادام کو ہٹا کر یورپی طرز کے پائن درخت لگائے گئے، جو اس خطے کی بحیرہ روم اور نیم خشک آب و ہوا کے لیے موزوں نہیں تھے۔ فلسطینی سائنسداں مازن قمسیہ کے مطابق، یہ ایک ’’ماحولیاتی تبدیلی‘‘ تھی جس کا مقصد زمین کو ایک مختلف شناخت دینا تھا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پائن کے درخت نہ صرف خشک گرمیوں میں زندہ رہنے میں کمزور ہیں بلکہ یہ آگ کے لیے انتہائی حساس بھی ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس زیتون جیسے مقامی درخت پانی محفوظ رکھتے ہیں اور قدرتی طور پر آگ کو پھیلنے سے روکتے ہیں۔ حالیہ سائنسی سرویز میں جنوبی علاقوں میں لگائے گئے جنگلات میں ۵۰؍  فیصد سے زیادہ پائن درختوں کی اموات سامنے آئی ہیں۔ خود جیوش نیشنل فنڈکے حکام نے اسے ’’ درختوں کی اموات‘‘ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ اور مغربی کنارے میں بلدیاتی انتخابات، مایوسی کے باوجود فلسطینی ووٹ دینے نکلے

واضح رہے کہ ۲۰۲۵ء میں یروشلم کے پہاڑی علاقوں میں لگنے والی بڑی آگ نے اس مسئلے کو مزید واضح کر دیا، جہاں پائن کے جنگلات نے آگ کو شدت دی، جبکہ جلنے کے بعد ان کے نیچے پرانے فلسطینی دیہات کے آثار اور صدیوں پرانی زرعی چھتیں دوبارہ سامنے آئیں۔ برازیل کی ساؤ پولو یونیورسٹی سے وابستہ ماہر لوکس فرانتے کے مطابق، جب مقامی کمیونٹیز کو بے دخل کیا جاتا ہے تو صرف لوگ نہیں بلکہ ان کے ساتھ جڑا ماحولیاتی علم بھی ختم ہو جاتا ہے، جس سے زمین کی قدرتی توازن متاثر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان سے بنی میناشی کمیونٹی کے ۲۴۰؍ یہودی اسرائیل پہنچے، آبادکاری پر تنازع

اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں اب تک تقریباً ۱۰؍ لاکھ زیتون کے درخت تباہ کیے جا چکے ہیں، جو فلسطینیوں کے لیے نہ صرف معاش بلکہ ثقافتی شناخت کی علامت بھی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے جیسے غیر مقامی پائن درخت کمزور ہو رہے ہیں، ویسے ویسے مقامی انواع جیسے زیتون اور انجیر دوبارہ قدرتی طور پر اگنا شروع ہو گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین اپنی اصل ماحولیاتی حالت کو بحال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ معاملہ صرف سیاست یا تاریخ تک محدود نہیں بلکہ ایک گہرے ماحولیاتی بحران کی نشاندہی بھی کرتا ہے، جہاں زمین، آب و ہوا اور حیاتیاتی تنوع سب متاثر ہو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK