Updated: March 25, 2026, 10:03 PM IST
| Jerusalem
پی ایف اے کا یہ مطالبہ، فیفا کی حالیہ تادیبی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اسرائیلی فیڈریشن کی جانب سے انسدادِ امتیاز کی ذمہ داریوں کی ”متعدد خلاف ورزیوں“ کی نشان دہی کی گئی ہے۔ فیفا نے گزشتہ ہفتے آئی ایف اے پر ایک لاکھ ۹۰ ہزار ۷۰۰ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔
فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن (پی ایف اے) نے فٹ بال کی عالمی گورننگ باڈی ’فیفا‘ سے مطالبہ کیا کہ نسل پرستی اور امتیازی سلوک کے خلاف قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن (آئی ایف اے) کو بین الاقوامی مقابلوں سے معطل کیا جائے۔ البیرہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایف اے کے سربراہ جبریل رجوب نے کہا کہ ہم عالمی کھیلوں کے اداروں سے اسرائیل کے اخراج کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے۔
پی ایف اے کا یہ مطالبہ، فیفا کی حالیہ تادیبی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اسرائیلی فیڈریشن کی جانب سے انسدادِ امتیاز کی ذمہ داریوں کی ”متعدد خلاف ورزیوں“ کی نشان دہی کی گئی ہے۔ فیفا نے گزشتہ ہفتے آئی ایف اے پر ایک لاکھ ۹۰ ہزار ۷۰۰ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: فرانسسکا البانیز کا اسرائیل پر ’تشدد کی پالیسی‘ اپنانے کا الزام؛ عالمی بےحسی نےمظالم کی راہ ہموار کی
جبریل رجوب نے اسے ”اہم فیصلہ“ قرار دے کر اس کی ستائش کی، تاہم جرمانے کے ”مطلوبہ کم از کم حد سے بھی کم“ ہونے کی نشان دہی کی۔ انہوں نے دلیل دی کہ اسرائیل کے خلاف معطلی سمیت مزید سخت کارروائی ضروری ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی پایا گیا کہ آئی ایف اے ’بیتار یروشلم‘ (Beitar Jerusalem) کے خلاف ”مسلسل اور دستاویزی نسل پرستانہ رویہ“ پر معنی خیز کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔ رجوب نے اسرائیلی فٹ بال پر ”نسل پرستانہ نوعیت“ کا حامل ہونے کا الزام لگایا اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے کلبوں کو آئی ایف اے کے ڈھانچے میں شامل کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں کم از کم پانچ ایسے کلب اس وقت اسرائیلی لیگز کا حصہ ہیں، جبکہ اقوامِ متحدہ بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں۔ رجوب نے غزہ کے تنازع کے وسیع تر اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک غزہ میں اسرائیل کی جنگی کارروائیوں ۱۰۰۷ فلسطینی کھلاڑی اور کوچز ہلاک ہوچکے ہیں اور کھیل کی ۲۶۵ تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوجیوں نے ۱۸؍ ماہ کے بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا
ان الزامات کے باوجود، فیفا نے پہلے ایک الگ تحقیقات کے بعد اسرائیلی لیگز میں بستیوں پر مبنی کلبوں کی شرکت کے حوالے سے کارروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسرائیل کی ’یوئیفا‘ کی رکنیت برقرار ہے، جو یورپ بھر میں فٹ بال مقابلوں کی نگرانی کرتا ہے۔
فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ وہ سخت اقدامات کیلئے فیفا پر دباؤ بنانا جاری رکھے گی۔