او آئی سی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فلسطین کی یو این کی مکمل رکنیت پر عمل کرنے اور اسرائیلی خلاف ورزیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا، اس کے علاوہ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی۔
EPAPER
Updated: January 29, 2026, 7:04 PM IST | New York
او آئی سی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فلسطین کی یو این کی مکمل رکنیت پر عمل کرنے اور اسرائیلی خلاف ورزیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا، اس کے علاوہ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی۔
تنظیم اسلامی تعاون (او آئی سی) نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنے، احتساب کو یقینی بنانے اور اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کو آگے بڑھانے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔بدھ کو کونسل میں او آئی سی کی طرف سے ایک بیان دیتے ہوئے، ترکی کے اقوام متحدہ کے ایلچی احمد یلدز نے کہا کہ اکتوبر۲۰۲۵ء میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے درمیان ہونے والا جنگ بندی معاہد ایک اہم موڑتھا، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ اس پر عمل درآمد خطرے میں ہے۔یلدز نے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی نے بڑے پیمانے پر تشدد کو کم کر دیا ہے اور انسانی امداد کو بڑھانے میں مدد کی ہے، تاہم اسرائیل کے بار بار حملوں اور انسانی امداد پر جاری پابندیوں کی وجہ سے، جو فلسطینی آبادی تک زندگی بچانے والی امداد پہنچنے میں رکاوٹ ہیں، بشمول یو این آر ڈبلیو اے اور بین الاقوامی انسانیت نواز تنظیموں کے خلاف مزید قابل مذمت اقدامات اور قبضہ کرنے والی طاقت کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی دیگر خلاف ورزیوں کے سبب یہ معاہدہ خطرات کا شکار ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں جنگ بندی سےلاکھوں بچوں کی زندگی میں بہتری آئی ہے : اقوام متحدہ
انہوں نے جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا،’’ہم غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے امریکہ کے صدر ٹرمپ کی مسلسل کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں،‘‘ لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کے اقدامات حقیقی پیشرفت کو کمزور کرتے رہتے ہیں۔یلدز نے کہا، ’’ہم اسرائیل کی جارحیت، خاص طور پر غزہ پٹی اور (مقبوضہ) مغربی کنارے میں، بشمول یروشلم کے مقدس مقامات پر تاریخی اور قانونی حیثیت کی خلاف ورزیوں کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں،‘‘ اور مزید کہا کہ ’’یہ غیر قانونی اقدامات جنگ بندی معاہدے کے نفاذ میں رکاوٹ ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: لبنان: گزشتہ ۳؍ ماہ میں اسرائیل نے جنگ بندی کی۶؍ ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کی ہیں
بعد ازاں او آئی سی نے بھی معاہدے سے وابستہ غزہ پٹی کے انتظام کے لیے فلسطینی کمیٹی کی تشکیل کے اعلان کی حمایت کی، جو ایک عارضی منتقلی ادارے کے طور پر فلسطینیوں کو اپنے علاقے میں اپنے معاملات کی نگرانی میں مدد فراہم کرے گا۔فیصلہ کن بین الاقوامی کارروائی کی اپیل کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ’’ہم فلسطین کی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کا مطالبہ کرتے ہیں ، مزید یہ کہ یہ اقدام ایک منصفانہ اور پائیدار امن اور کثیر الجہتی نظام کےقیام کے لیے ضروری ہے۔‘‘ دریں اثناء او آئی سی نے دہرایا کہ ’’مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے اسرائیل کا مقبوضہ عرب علاقوں بشمول مقبوضہ شامی گولان سے مکمل انخلاء اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔‘‘ اس کے علاوہ فلسطین سے باہر اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے، تنظیم نےشام اور لبنان میں اسرائیل کی بار باردخل اندازی کی جانب توجہ مبذول کرائی۔آخر میں،یلدز نے او آئی سی کے حوالے سے سلامتی کونسل مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنے، احتساب کو یقینی بنانے اور غیر قانونی اسرائیلی قبضے اور فلسطینی عوام کو درپیش ناانصافیوں کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدام کرے۔‘‘