Updated: February 23, 2026, 6:03 PM IST
| Tehran
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر تہران میں ہندوستانی سفارت خانے نے ملک میں موجود تمام ہندوستانی شہریوں کو دستیاب ذرائع نقل و حمل کے ذریعے فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ وزارت خارجہ نے ایران کے سفر سے گریز کرنے کا مشورہ بھی دہرایا ہے، جبکہ خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تہران میں قائم ہندوستانی سفارتخانے نے ایک تازہ ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے ایران میں موجود طلبہ، زائرین، کاروباری افراد اور سیاحوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک چھوڑنے کی تیاری کریں۔ یہ ہدایت ۱۴؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو جاری ابتدائی نوٹس کا تسلسل ہے، جس میں شہریوں کو مظاہروں سے دور رہنے اور مقامی میڈیا پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ سفارت خانے نے غیر رجسٹرڈ ہندوستانی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوراً رجسٹریشن مکمل کریں اور اپنے پاسپورٹ اور شناختی دستاویزات ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں۔
ہنگامی رابطہ نمبرز بھی جاری کیے گئے ہیں:
+989128109115، +989128109109، +989128109102، +989932179359

وزارت خارجہ کی ہدایات
وزارت خارجہ نے ۱۴؍ فروری کو ایک تازہ ایڈوائزری میں ہندوستانی شہریوں کو اگلے نوٹس تک ایران کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ۵؍ جنوری ۲۰۲۶ء کی ایڈوائزری میں بھی غیر ضروری سفر سے بچنے اور ایران میں موجود شہریوں کو سفارت خانے میں رجسٹریشن کی تاکید کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: میکسیکو: ایل مینچو ہلاک، ملک بھر میں ریڈ الرٹ، ہم آہنگی کی اپیل
امریکہ ایران کشیدگی کا پس منظر
ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ اگلا دور ۲۵؍ فروری کو عمان میں طے ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے درمیان سخت بیانات کے تبادلے نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، جس میں یو ایس ایس ابراہم لنکن کی بحیرہ عرب میں تعیناتی، فورڈ یو ایس ایس جیرالڈ آر کی مغربی ایشیا کی جانب پیش قدمی اور قطر کے العدید ایئر بیس اور بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے سے فوجیوں کا جزوی انخلا شامل ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پر ممکنہ محدود امریکی حملے کے خدشات بھی زیر بحث ہیں، اگرچہ کسی باضابطہ فیصلے کا اعلان نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: میکسیکو: کارٹیل لیڈر ہلاک،ہندوستانی شہریوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت
خطے میں غیر یقینی صورتحال
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے خطے میں احتیاطی اقدامات کے طور پر فوجیوں کی نقل و حرکت کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام رہتے ہیں تو خطے میں سیکوریٹی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، جس کے اثرات خلیجی ممالک اور جنوبی ایشیا تک پہنچ سکتے ہیں۔