Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ اچھی کارکردگی کا صلہ ضرور ملتا ہے‘‘

Updated: August 14, 2026, 1:07 PM IST | Agency | New Delhi

عاقب نبی نے کہا کہ انہیں یقین تھا کہ دیر سویر ہندوستان کی ٹیسٹ ٹیم میں انہیں منتخب کر لیا جائےگا۔

Auqib Nabi. Picture: INN
عاقب نبی۔ تصویر: آئی این این

جموںکشمیر کے تیز گیند باز عاقب نبی اور مدھیہ پردیش کے آل راؤنڈر سارانش جین کا ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم میں شمولیت کا طویل انتظار بالآخر ختم ہوگیا۔ دونوں کو سری لنکا کے خلاف ۲؍ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لئے پہلی بار ہندوستانی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔عاقب نبی کو جسپریت بمراہ کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جو انجری کے باعث سیریز سے باہر ہوگئے ہیں، جبکہ سارانش کو گھریلو کرکٹ میں مسلسل عمدہ کارکردگی کے بعد ٹیم میں جگہ ملی ہے۔عاقب نبی کیلئے ٹیم میں شمولیت گزشتہ سیزن میں شاندار ڈومیسٹک کارکردگی کا انعام ہے۔ انہوں نے جموں کشمیر کو پہلی بار رنجی ٹرافی کا خطاب دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور کافی عرصے سے قومی ٹیم کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: مچل اسٹارک ٹیسٹ میں سب سے زیادہ وکٹ لینے والے بائیں ہاتھ کے بولر

۲۹؍سالہ عاقب نے کہا کہ انہیں یقین تھا کہ مسلسل اچھی کارکردگی انہیں ایک دن ہندوستانی ٹیم تک ضرور پہنچائے گی۔ انہوں نے بی سی سی آئی کی جانب سے جاری ویڈیو میں سارانش سے کہا ’’مجھے امید تھی، لیکن ایک کرکٹر کی سوچ یہی ہونی چاہیے کہ کارکردگی پیش کرے اور باقی لوگ اسے دیکھ رہے ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ آج نہیں تو کل مجھے ٹیم میں بلایا جائے گا کیونکہ جب آپ کئی برس تک اچھی کارکردگی پیش کرتے ہیں تو آپ کی محنت کا صلہ ضرور ملتا ہے۔

انہوں نے کہا’’میرا کام وکٹیں لینا اور کارکردگی پیش کرنا ہے، باقی اوپر والے پر چھوڑ دینا چاہیے۔ جب میرا نام آیا تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میری فیملی بہت خوش ہے اور میرے خیال میں اس سے بڑی خوشی کوئی نہیں ہوسکتی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: زدران اور اٹل کی سنچریوں سے افغانستان نے سیریز جیت لی

وہیںسارانش کا سفر اس سے کہیں طویل رہا ہے۔ ۳۳؍ سالہ آل راؤنڈر نے ۱۵۔۲۰۱۴ء سیزن میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا تھا اور۲۲ ۔۲۰۲۱ء میں مدھیہ پردیش کی رنجی ٹرافی جیتنے والی ٹیم کا حصہ رہے تھے، جس نے فائنل میں ممبئی کو شکست دی تھی۔برسوں کے انتظار کے باوجود سارانش نے ہندوستان کے لئے کھیلنے کا خواب نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا ’’ٹیسٹ کرکٹ میں صبر رکھنا ضروری ہے اور اگر آپ ہندوستان کے لئے ٹیسٹ کھیلنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے بھی صبر رکھنا ہوگا۔ ۱۵۔۲۰۱۴ء میں رنجی ٹرافی میں ڈیبیو کیا تھا۔ یہ ایک طویل سفر رہا ہے، جس میں بہت محنت اور قربانیاں شامل ہیں، لیکن مجھے یقین تھا کہ ایک دن میں ہندوستان کے لئے ضرور کھیلوں گا۔ اس کامیابی میں میری فیملی کا بہت بڑا کردار ہے۔‘‘

سارانش کیلئے ہندوستانی ٹیم کے ڈریسنگ روم میں گھلنا ملنا نسبتاً آسان رہا کیونکہ وہ ٹیم کے بیشتر کھلاڑیوں کے ساتھ پہلے کرکٹ کھیل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا’’جب میں ٹیم میں شامل ہوا تو مجھے کوئی بڑا فرق محسوس نہیں ہوا کیونکہ ۷۰؍ سے ۸۰؍فیصد کھلاڑیوں کے ساتھ میں پہلے کرکٹ کھیل چکا ہوں اور اس لئے میں جلد ہی سب کے ساتھ گھل مل گیا۔‘‘

آپ بنگلور نہیں سری لنکا جا رہے ہیں

ٹیم انڈیا میں اپنے سلیکشن کے تعلق سے عاقب نبی نے بتایا کہ وہ بنگلور میں سینٹر آف ایکسی لینس کے کیمپ میں شرکت کیلئے پرواز پکڑنے کی تیاری میں ایئرپورٹ پر موجود تھے، جب انہیں فون پر بتایا گیا کہ انہیں اب بنگلور کیلئے نہیں بلکہ سری لنکا کیلئے روانہ ہونا ہے۔ عاقب نے کہا’’شروع میں مجھے یقین ہی نہیں آیا۔ یہ غیر متوقع تھا کیونکہ ٹیم کا پہلے ہی اعلان ہوچکا تھا۔ کافی دیر بعد مجھے یقین ہوا کہ میرا انتخاب ٹیم میں ہوگیا ہے۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK