Updated: April 18, 2026, 10:11 PM IST
| Gaza
فلسطینی حقوق تنظیم نے اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی پر خبر دار کیا ، فلسطینی سنٹر فار ہیومن رائٹس کے مطابق، ہزاروں افراد سخت اور جان لیوا حالات میں رکھے گئے ہیں، اور یہ طرزِ عمل جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
فلسطینی سنٹر فار ہیومن رائٹس (پی سی ایچ آر) نے جمعہ کو خبردار کیا کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکیوں میںبے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، جس میں وسیع پیمانے پر تشدد، جبری گمشدگی اور من مانی حراستیں شامل ہیں۔غزہ پٹی میں قائم اس حقوق گروپ نے’’ یوم فلسطینی قیدی‘‘ کے موقع پر ایک بیان میں کہا کہ ہزاروں فلسطینی،سخت اور جان لیوا حالات میں رکھے گئے ہیں، اور ان کے ساتھ کیے جانے والے طرزِ عمل جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔بعد ازاں تنظیم نے کہا کہ اس نے سیکڑوں قیدیوں کی شہادتیں محفوظ کی ہیں، جن میں خواتین، بچے، صحافی اور طبی عملہ شامل ہیں، جنہوں نے شدید ناروا سلوک جیسے مارپیٹ، نیند سے محرومی، بھوک اور طبی نظراندازی کے ساتھ جنسی تشدد کی تفصیلات دی ہیں۔ساتھ ہی پی سی ایچ آر نے کہا کہ بہت سے قیدیوں کو تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں وکیلوں، خاندان کے افراد اور بین الاقوامی کمیٹی آف ریڈ کراس تک رسائی سے روک دیا گیا ہے، جبکہ سیکڑوں کا انجام نامعلوم ہے، جس سے جبریگمشدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹائم میگزین نے جنگی مجرم نیتن یاہو کو ۱۰۰؍ بااثر شخصیات میں شامل کیا
تنظیم کے مطابق، اکتوبر۲۰۲۳ء میں غزہ میں اسرائیلی فوجی مہم کے بعد سے غیر قانونی حراست میں شدت آئی ہے، جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقے میں عام شہریوں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کیا گیا۔کمیشن برائے امور فلسطینی قیدیان و سابق قیدیان کے اعداد و شمار کے مطابق، اپریل تک۹۶۰۰؍ فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، جن میں۸۴؍ خواتین اور۳۵۰؍ بچے شامل ہیں۔ جبکہ غزہ کے کم از کم ۱۲۵۱؍ قیدیوں کو اسرائیل کے،غیر قانونی جنگجو قانون کے تحت بغیر الزام کے رکھا گیا ہے۔فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی نے خبر دی کہ اسرائیلی حراست میں کم از کم۸۹؍ فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں غزہ کے۵۲؍ شامل ہیں، اگرچہ حقیقی تعداد اس سے زیادہ ہونے کا اندازہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں کوڑے کرکٹ کے بحران کے باعث ماحولیاتی اور صحت کی تباہی کا خطرہ
پی سی ایچ آر نے ۲۰۲۶ء کے اوائل میں۳۰۰؍ سے زائد نامعلوم لاشوں کی واپسی پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جن میں سے اکثر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بوسیدہ یا مسخ شدہ تھیں، جس سے غزہ میں فورنسک وسائل پر پابندیوں کے باعث شناخت کی کوششیں پیچیدہ ہوگئیں۔گروپ نے اسرائیل کی حالیہ قانون سازی پر بھی تنقید کی جو فوجی عدالتوں میں سزا یافتہ بعض قیدیوں کے لیے سزائے موت کی اجازت دیتی ہے، اور خبردار کیا کہ یہ اس کی بیان کردہ ماورائے عدالت کارروائیوں کو قانونی شکل دے سکتی ہے۔بعدازاں پی سی ایچ آر نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر پابندیاں اور اسلحے کی پابندی عائد کرے، اور بین الاقوامی فوجداری عدالتسے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی قیدیوں کے خلاف مبینہ جرائم کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرے۔