اسکول انفرا اسٹرکچر سیل نے شہر کی۶؍ اسکول کی عمارتوں کی فوری مرمت کی تحویز پیش کی تھی جسےایجوکیشن کمیٹی نے منظوری دے دی ہے۔
EPAPER
Updated: June 01, 2026, 3:00 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
اسکول انفرا اسٹرکچر سیل نے شہر کی۶؍ اسکول کی عمارتوں کی فوری مرمت کی تحویز پیش کی تھی جسےایجوکیشن کمیٹی نے منظوری دے دی ہے۔
محکمۂ موسمیات نے عنقریب مانسون کی آمد کی اطلاع دی ہے۔ وہیں شہر اور مضافات میں بی ایم سی کی پرانی اور خستہ حال اسکولوں کا جائزہ لینے کے بعد ۶؍ اسکولیں ایسی پائی گئی ہیں جو نہ صرف مخدوش ہوچکی ہیں بلکہ انتہائی خستہ حال ہونے کے سبب ان کی فوری طور پر مرمت کی ضرورت ہے۔ اسکول انفرا اسٹرکچر کی پیش کردہ تجویز پر اسٹینڈنگ کمیٹی نے مذکورہ اسکولوں کی مرمت کی اجازت بھی دے دی ہے لیکن ۱۴؍ جون سے اسکولیں شروع ہوں گی جس کی وجہ سے ۶؍ اسکولوں میں زیر تعلیم ۳؍ ہزار سے زائد بچوں کے تعلیمی نقصان ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ بی ایم سی محکمہ تعلیم کےاس فیصلہ سے والدین ممکنہ حادثہ اوربچوں کے تحفظ کے علاوہ تعلیم میں ہونے والی رکاوٹ کیلئے فکر مندہیں ۔
شہر اور مضافات میں موجود بی ایم سی اسکولوں کی تعمیری ساخت کا پتہ لگانے پربھانڈوپ، گھاٹکوپر، چمبور اور مانخورد میں واقع ۶؍ بی ایم سی اسکول کی عمارتیں مخدوش قرار دی گئی تھیں ۔ اس ضمن میں موصولہ آڈٹ رپورٹ میں ان اسکولوں میں فوری مرمت کا کام کئے جانے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ تاہم مذکورہ علاقوں میں موجود اسکولوں کی فوری مرمت سے متعلق تجویز پیش کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کے اسکول انفرا سٹرکچر سیل نے مرمت کی تجویز پیش کی۔ ساتھ ہی مرمت پرخطیر رقم خرچ ہونے اور ۹؍ تا ۱۵؍ ماہ میں مرمت کا کام مکمل ہونے کی بھی اطلاع دی۔ جمعہ کو بی ایم سی اسٹینڈنگ کمیٹی میں ۳۰؍ سے ۳۲؍ فیصد ہی ایجو کیشن کمیٹی ممبران نے مرمت کی ہامی بھری تھی، اس کے باوجود ۲۷۔ ۲۰۲۶ء کے شروع ہونے والے تعلیمی سال میں دوران تعلیم ہی مرمت کا کام شروع کرنے کی تجویز کو منظور کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: سینٹرل ریلوے: اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ملتوی
ایک طرف بی ایم سی نے انتہائی مخدوش اسکولوں کیلئے ۳۳ء۷۲؍کروڑ کا فنڈمنظور کیا ہے۔ وہیں تعطیلات میں مذکورہ اسکول کی مرمت کا کام شروع نہ کرنے اور ۱۴؍ جون کو عین اسکول شروع ہونے پر مرمت کی اجازت دینےاور تعلیم سلسلہجاری رکھنےکےفیصلہ سے والدین اپنے بچوں تحفظ سے متعلق فکر مند ہیں ۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بھانڈوپ، گھاٹکوپر، چمبور اور مانخورد میں واقع ۶؍ اسکولوں میں ایک دو نہیں بلکہ ۳؍ ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔
اسکول انفرا سٹرکچر سیل کی تحویز اور اسٹینڈنگ کمیٹی کی تعلیمی کمیٹی ممبران کی منظوری کے سبب طلبہ کے ہونے والے تعلیم نقصان سے متعلق انقلاب سے بات چیت کے دوران چند طلبہ کے والدین نے اس فیصلہ کو غلط قراردیا ہے۔
اس پر مانخورد چیتا کیمپ اردو میڈیم اسکول میں چوتھی جماعت میں زیر تعلیم طالب علم کی والدہ شبینہ قریشی کا کہنا تھا کہ ’’ برسوں سے اسکول کی خستہ حال چھتوں، ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں اور ناقص و انتہائی خراب بیت الخلا ءکو درست کرنے اور مرمت کرنےکی مسلسل شکایت کی جاتی رہی ہے لیکن یہ کام تعطیلات میں ہونا چاہئے، اس کام کو دوران تعلیم نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس کے علاوہ مرمت کے دوران دھول مٹی سے طلبہ کی صحت خراب ہونے علاوہ مرمت کے دوران کوئی حادثہ پیش آنے کا خطرہ بھی لا حق ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ممبئی میں بارش، درجۂ حرارت میں کمی، یکم جون سے مزید بارش کی پیش گوئی
وہیں بروے نگر میونسپل اسکول اور ٹیمبی پاڑہ اسکول میں زیر تعلیم طلبہ کے والدین ساگر چوان اور آرتی کامبلے کا کہنا تھا کہ ’’ مرمت کے دوران پیدا ہونے والی آلودگی سے یقینی طورپر طلبہ کی تعلیم میں خلل پڑے گا اس لئے مرمت کا کام اسکول کی تعطیلات کے درمیان ہی کیا جانا چاہئے۔ ‘‘
بی ایم سی محکمہ تعلیم کے ایک سینئر افسر نے مذکورہ ۶؍ اسکولوں کی مرمت کے کام کو منظوری ملنے اور کام کا سلسلہ جون سے شروع ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسکولوں کے اسٹرکچرل آڈٹ کے بعدفوری طور پر مذکورہ اسکولوں میں مرمت کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم مرمت کےدوران تعلیم میں خلل نہ پڑے اس بات کا بھی خیال رکھا جائے گا اور طلبہ کی حفاظت کے لئے تمام احتیاطی تدابیر کو بروئے کار لایا جائے گا۔ ‘‘