• Wed, 14 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲؍ دن بس، ٹیکسی اور رکشاکم ہونے سے مسافروں کو دشواریاں ہوں گی

Updated: January 14, 2026, 11:57 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

جمعرات کی شب تک ایک ہزار اسکول بسیں، بیسٹ کی ۱۱۰۰؍ بسیں، ایک ہزار ٹیکسیاں اورایک ہزار آٹو رکشے الیکشن ڈیوٹی کیلئے استعمال ہوں گے۔ انتظامیہ سے متبادل انتظامات کا مطالبہ۔

Rickshaws are seen at the NCP rally on the last day of the election campaign. Picture: Inquilab
انتخابی مہم کے آخری دن این سی پی کی ریلی میں رکشے نظر آرہے ہیں۔ تصویر: انقلاب
بی ایم سی انتخابات کیلئے جمعرات کی شب تک ایک ہزار سے زائد اسکول بسوں، بیسٹ کی ۱۱۰۰؍ بسیں، ایک ہزار ٹیکسیاں اورایک ہزار آٹورکشے  الیکشن ڈیوٹی کیلئے استعمال ہوں گے جس کی وجہ سے  شہریوںکو آمدورفت میں شدید دشواریاں ہوسکتی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیاںنہ ہونے سے بس اسٹاپ، ٹیکسی اور آٹو رکشا اسٹینڈ  پرمسافروں کی بھیڑ ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں  سفر میںتاخیر اور لوگوں کو ذہنی پریشانی کا شکار ہونا پڑے گا ۔واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نےبی ایم سی کے انتخابات کیلئے بڑے پیمانے پر پبلک ٹرانسپورٹ  کی گاڑیاں مہیا کرانےکی درخواست کی ہے۔ ۲؍ دن تک  گاڑیاں  بڑی تعداد میں کم ہونے سے شہریوں کو آمدورفت  میں پریشانی ہوگی ۔
اطلاع کےمطابق بیسٹ  کی تقریباً ۴۰؍فیصد بسیں ۲؍ دن تک مسافروں کیلئے دستیاب نہیں ہوں گی کیونکہ جمعرات کو ہونے والے میونسپل کارپوریشن الیکشن سے قبل ایک ہزار سے زیادہ بسیں الیکشن ڈیوٹی کیلئے استعمال کی جائیں گی۔
بیسٹ حکام کے مطابق’’  جمعرات تک ایک ہزار ۶۵؍ بسیں انتخابات سے متعلق کام کیلئے تعینات کی جائیں گی جس کے نتیجے میں شہر بھر میں بسوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ توقع ہے کہ اس کمی سے بس اسٹاپ پر انتظار کا وقت بڑھے گا اور سفر کے نظام الاوقات پر بھی اثر پڑے گا۔ یہ بسیں اس مدت کے دوران پوری طاقت سے نہیں چلیں گی جس سے مسافروں کے انتظار کے اوقات اور سفر کے دورانیے پر اثر پڑ سکتا ہے۔بیسٹ کی کل ۲؍ہزار ۷۴۳؍ بسیں ہیں،جن میں سے تقریباً ۱۱۰۰؍بسوںکو الیکشن ڈیوٹی کیلئے دیا گیا ہے۔یہ بسیں پولنگ عملے، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) اور دیگرچیزوں کو ممبئی بھر کے پولنگ بوتھوں تک پہنچانے کیلئے استعمال کی جائیں گی۔
انتخابی مقاصد کیلئے پرائیویٹ اور کمرشیل گاڑیوں کے بڑے پیمانے پر استعمال کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ پر دباؤ پڑتا ہے۔ ممبئی بھر میں الیکشن ڈیوٹی کیلئے ۴؍ہزار سےزیادہ آٹو رکشا، ٹیکسی، بسیں، کاریں اور ٹیمپو تعینات کئے گئے ہیں۔
انتخابی ڈیوٹی کیلئے باضابطہ طور پر متعدد گاڑیاں طلب کی گئی ہیں، بڑی تعداد میں کاریں اور بسیں خصوصی طورپر انتخابی مہم کیلئے پرائیویٹ آپریٹرس سے کرایے پر لی گئی ہیں۔ ریجنل ٹرانسپورٹ آفسیز (آر ٹی اوز) کے حکام کے مطابق  مہاراشٹر سے باہر کی رجسٹرڈ۱۴۲؍گاڑیوں کو بھی انتخابات میں استعمال کرنےکی مشروط اجازت دی گئی ہے جن میں اُترپردیش اوربہار کی گاڑیاں شامل ہیں۔یہ گاڑیاں سیاسی ریلیوں اور روڈ شوز کیلئے شہر میں موجود ہیں۔
مہاراشٹراسٹیٹ اسکول بس اونرس اسوسی ایشن کے صدر انل گرگ نے اس نمائندے کوبتایاکہ ’’ایک ہزار سے زیادہ اسکول بسوںکو بھی الیکشن کےکاموںکیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں سرکاری بسوں ، نجی ٹیکسیوں اور آٹورکشوںکوبھی بڑی تعدادمیں الیکشن ڈیوٹی کیلئے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے بدھ اور جمعرات کو پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم بری طرح متاثر رہےگا۔ اتنی بڑی تعدادمیں گاڑیوں کی تعیناتی سے عام لوگوں کوشدید تکلیف ہوسکتی ہے،خاص طور پر دفتر جانے والے، بزرگ شہریوں اور یومیہ اُجرت پر کام کرنے والےافراد جو پبلک ٹرانسپورٹ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔‘‘انہوں نےیہ بھی کہاکہ ’’ممبئی پہلے ہی بھیڑ سے بھری بسوں، بس اسٹاپ پر طویل انتظار اور مصروف اوقات کے دوران آٹورکشا اور ٹیکسیوں کی محدود دستیابی  سے جھوجھ رہی ہے ۔ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیاں کم ہونے سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔ الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام سے درخواست ہے کہ وہ اس طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لیں، متبادل انتظامات، مرحلہ وار تعیناتی یا اضافی ٹرانسپورٹ سہولیات کا جائزہ لیں  تاکہ عوام کوکسی طرح کا سمجھوتہ نہ کرناپڑے۔شہر کی لائف لائن کو مفلوج کئے بغیر جمہوریت کو مضبوط کرنا ہوگا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK