تبدیلی کے نعروں کے بیچ فتح کا یقین، میونسپل اسکول، اسپتال، پانی اورسڑکوں پر گڑھوںکے مسائل کےحل کاعزم۔
وارڈ نمبر ۱۹؍ میں سماجوادی کی پد یاترا۔ تصویر: آئی این این
بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے الیکشن کیلئے انتخابی مہم کے خاتمے کے بعدعوام کے رجحان کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے وارڈ نمبر ۱۹؍ کی سرگرم شخصیت امتیاز خان نے بتایا کہ ’’یہ وارڈ فیصلہ کن موڑ پر ہے۔ ہم نے ملاقاتوں میں اندازہ لگایا کہ یہاں کے عوام تھک چکے ہیں اوراب اپنے علاقے میں ترقی چاہتے ہیں اوراس لئے وہ ایسے امیدواروں کو منتخب کرنے کے حق میں ہیں جو دیانت دار اور خدمت کا جذبہ رکھتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’اسی وجہ سے سماج وادی پارٹی کے امیدواروں کی جیت کا قوی امکان ہے۔‘‘ واضح رہے کہ اس وارڈ میں سماجوادی پارٹی نے سلمہ بانو اکرم شیخ، علقمہ عبداللہ انصاری، امن عبید خان (راجو) اور سروج بھگوان ٹاورے کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ جمشید انصاری نے عوامی مسائل اور انتخابی مہم کی گہماگہمی کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’سماجوادی پارٹی نے وارڈ نمبر ۱۹؍ سے جو امیدوار میدان میں اتارے ہیں وہ اعتماد، خدمت اور عوامی امید کی علامت بن چکے ہیں۔ انہیں جس طرح عوامی تائید ملی ہے اور الیکشن کے قریب آتے آتےاس میں جو اضافہ ہوا ہے، جس طرح پدیاترا کے دوران ان کا جگہ جگہ خیر مقدم کیاگیاا س سے لگتا ہے کہ وارڈ نمبر ۱۹؍ کے ووٹرس کو ان سے کافی امیدی ہیں۔‘‘ اس ضمن میں جب اس نمائندہ نے سلمہ بانو اکرم شیخ سے گفتگو کی تو انہوں نے بتایا کہ ’’ہم نے گھر گھر جاکر ووٹ ہی نہیں مانگے،یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ کامیاب ہوتے ہی عوامی خدمت میں جٹ جائیں گے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ میونسپل اسکولوں میں تعلیم کے معیار کو بلند کرنا، وارڈ میں پانی کی فراہمی میں خاطر خواہ اضافہ، ہیلتھ سینٹروں میں ضروری سہولتوں کی دستیابی اور سڑکوں پر موجود گڑھوں اور بارش کے پانی کی نکاسی کے دیرینہ مسئلے کا مستقل حل ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے صاف صفائی اورپرشورام ٹاورے اسٹیڈیم کی خستہ حالی کو دورکی بھی یقین دہانی کرائی۔