ابھی ایک ہفتہ تک مسافروں کو اسی طرح کی پریشانی کا سامنا کرنا ہوگا۔ ویسٹرن ریلوے انتظامیہ نےمسافروں سے تعاون کی اپیل کی۔
دادر میں مسافر ٹرین کا انتظار کررہےہیں۔ تصویر: انقلاب، ستیج شندے
ویسٹرن ریلوے میں جاری ایک ماہ کے بلاک کا آخری مرحلہ چل رہا ہے مگر روزانہ بڑی تعداد میں ٹرینیں رد کئے جانے سے مسافروں کو زبردست دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ خاص طور پر شب میں۱۱؍ بجے سے جب ٹرینوں کے منسوخ کئے جانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو مسافروں کی پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ اس تعلق سے ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک ہفتہ مزید یہی حالات رہیں گے۔۱۸؍جنوری کے بعد حالات پوری طرح نہ صرف معمول پر آجائیں گے بلکہ مزید سہولتیں بھی ملیں گی اور سفر آسان ہوگا۔واضح ہوکہ یومیہ سو سے ڈیڑھ سو اور کبھی اس سے بھی زائد ٹرینیں کینسل کی جارہی ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسافروں کا کافی وقت ضائع ہوتا ہے اور ان کو دقت پیش آتی ہے۔
مسافروں کی پریشانی ان ہی کی زبانی
’ریلوے کنسلٹیٹیو کمیٹی‘ کے سابق رکن منصور عمر درویش نے کہا کہ چھٹی لائن کا کام کیا جارہا ہے اور ابھی ایک ہفتہ اور کیا جائے گا مگر ریلوے انتظامیہ کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ممبئی کے لاکھوں مسافروں کی کیا حالت ہوگی؟ آج صورتحال یہ ہے کہ مسافر ٹرین کے انتظار میں رہتے ہیں اور اچانک اعلان کردیا جاتا ہے کہ فلاں ٹرین کینسل کردی گئی ہے، اس لئے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے پھر کام شروع کیا جائے تاکہ مسافروں کو پریشانی نہ ہو۔
عبدالرحمن نام کے ایک مسافر نے کہا کہ رات میں۱۱؍ بجے کے بعد سے جب ٹرینیں کینسل کی جاتی ہیں تو اس قدر بھیڑ بھاڑ ہوجاتی ہے کہ ٹرین میں بیٹھنا تو دور کھڑا رہنا دشوار ہوتا ہے اور ویرار لوکل ٹرین کی بھیڑ بھاڑ کا تو حال ہی مت پوچھئے۔ اس لئے ہمارا یہی کہنا ہے کہ کسی بھی پروجیکٹ کے شروع کرنے سے پہلے مسافروں اور ان کی پریشانی کو سامنے رکھا جائے ۔ خود ریلوے انتظامیہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ویسٹرن ریلوے کے ۴۰؍لاکھ مسافر کس طرح اپنی منزل تک پہنچتے ہیں؟
عبدالغفار نام کے ایک اور مسافر کے مطابق انہیں کاندیولی سے ممبئی سینٹرل جانا ہوتا ہے ، پھر بھنڈی بازار دوکان پر جاتے ہیں لیکن ادھر تقریباً ۲۰؍ دن سے یہ سوچنا پڑتا ہے کہ گیارہ بجے سے قبل ٹرین پکڑلی جائے، ورنہ وقت بھی ضائع ہوگا اور پریشانی بھی ہوگی۔
صرف ایک ہفتہ اور انتظار کرنا ہوگا
ویسٹرن ریلوے کے چیف پی آر او ونیت ابھیشیک نے نمائندہ انقلاب کو بتایا کہ چھٹی لائن کا کام تیزی سے آگے بڑھایا جارہا ہے ، امید ہے کہ طے شدہ تاریخ۱۸؍ جنوری تک کام پورا کرلیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بلاک کے دوران بڑی تعداد میں ٹرینیں منسوخ کئے جانے کے سبب مسافروں کو کافی پریشانی ہورہی ہے مگر یہ کام مسافروں کی سہولت کے پیش نظر کیا جارہا ہے۔ کام پورا ہوجانے کے بعد مسافروں کو کافی سہولت ہوگی اور آج جو تاخیر ہورہی ہے ، آنیوالے وقتوں میں ان کا وقت بچے گا اور وہ بھیڑ بھاڑ سے بھی نجات پائیں گے۔
ٹرینیں بڑھانے کی گنجائش ہوگی
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے علاوہ ٹرینیں بڑھانے کی گنجائش ہوگی اور خاص طور پر لوکل اور طویل مسافتی ٹرینوں کے لئے الگ الگ روٹ ہوں گے۔ اس وقت ایسا نہیں ہے، اسی کے لئے کوشش کی جارہی ہے اور یہ پروجیکٹ اسی کا اہم حصہ ہے۔