۴۲؍سال قبل ’ناگوری کلینک اینڈ نرسنگ ہوم‘ شروع کیاتھا جہاں وہ غریب مریضوں سےمعمولی فیس لیتے تھے
ڈاکٹر محمد قاسم ناگوری۔ تصویر: آئی این این
یہاں کے معروف ’ناگوری کلینک اینڈ نرسنگ ہوم ‘کے مالک ڈاکٹر محمد قاسم ناگوری (۷۵؍سال )کا جمعرات کوانتقال ہوگیا ۔ان کی تدفین ناریل واڑی قبرستان میں ہوئی ۔ پسماندگان میں بیوہ، ۲؍بیٹے اور ۵؍بیٹیاں ہیں۔
ڈاکٹر قاسم ناگوری گزشتہ ۴؍ مہینے سے کوما میں تھے۔ جمعرات کی علی الصباح دورۂ قلب سے ان کی موت ہوگئی۔ انہوں نے مورلینڈروڈ پرواقع اپنی رہائش گاہ پر آخری سانس لی۔ مغرب کی نماز کےبعد انہیں ناریل واڑی قبرستان میں سپرد خاک کیاگیا۔ اس وقت رشتےدار ، عزیز و اقارب ، ڈاکٹرس اور ان کے مریض بڑی تعداد میںموجود تھے۔ وہ انتہائی شریف النفس، منکسر المزاج اور غریب مریضوں کے ہمدرد تھے۔ انہوںنے ناگوری کلینک اینڈ نرسنگ ہوم غریب مریضوںکارعایتی فیس پر علاج کرنے کیلئے ۴۲؍ سال قبل شروع کیاتھا۔وہ اپنے پیشے سےمتعلق بہت اُصول پرست اوروقت کے پابند تھے۔ صبح ۸؍بجے دواخانہ پہنچ جاتے ،ان کے پہنچنے سے پہلے ان کے مریضوںکی طویل قطار ان کی منتظر ہوتی۔ ۳؍ شفٹوںمیں رات ۱۲؍بجے تک مریضوںکے علاج میں مصروف رہتے۔ ماہر قلب ڈاکٹر ہونے کےباوجود فیس کے نام پر مریض سے صرف ۷۰؍روپےلیتے تھے۔ علاوہ ازیں انہوںنے اپنی پریکٹس کےدوران مساجد کے امام، موذن اور خادمین کاعلاج ہمیشہ مفت میں کیا۔
ان کے دونوں فرزند یوسف ناگوری اور یونس ناگوری بھی طب کے پیشہ سے وابستہ ہیں۔ ناگوری کلینک اینڈ نرسنگ ہوم کی باگ ڈور فی الحال ڈاکٹر یوسف ناگوری سنبھال رہےہیں۔
ناگوری دواخانےمیں واقع پیتھالوجی ڈپارٹمنٹ کے انچارج ڈاکٹر آصف خان نے انقلاب کوبتایاکہ ’’ ڈاکٹر محمد قاسم ناگوری ایک غریب پرور ڈاکٹر تھے ۔ انہوںنے پیسوں کو کبھی اہمیت نہیں دی بلکہ طب کے پیشے کو خدمت کے طورپر انجام دیا۔ ‘‘