Updated: November 29, 2025, 2:04 PM IST
| New Delhi
پتانجلی پر گائے کا جعلی گھی فروخت کرنے کا الزام ہے۔ اس کے بعد کمپنی پر مجموعی طور پر۴۰ء۱؍ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ پتانجلیکا گھی دو لیب ٹیسٹوں میں ناکام رہا۔پتانجلی اور دو دیگر منسلک کمپنیوں کو غیر معیاری گھی فروخت کرنے پر ۴ء۱؍ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ اتراکھنڈ فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے یہ فیصلہ جاری کیا۔
جعلی گھی۔ تصویر:آئی این این
فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے اسسٹنٹ کمشنر آر کے شرما نے بتایا کہ یہ کیس پتانجلی گائے کے گھی کے ۲۰۲۰ء کے نمونے سے متعلق ہے۔ یہ نمونہ پتھورا گڑھ کے کاسنی علاقے میں کرن جنرل اسٹور سے معمول کے معائنے کے دوران حاصل کیا گیا تھا۔شرما نے مزید بتایا کہ نمونے کو ابتدائی طور پر جانچ کے لیے اتراکھنڈ (رُدرا پور) کی ایک لیب میں بھیجا گیا تھا۔ جب ٹیسٹ کے نتائج واپس آئے تو پتہ چلا کہ گھی فوڈ سیفٹی کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ یعنی یہ ناقص معیار کا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لیباریٹری کی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس گھی کے استعمال سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ بیماری کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شیخ حسینہ کو سنائی گئی سزائے موت ہند۔ بنگلہ دیش تعلقات کیلئے آزمائش ہوگی
گھی کی دوبارہ جانچ
۲۰۲۱ءمیں پتانجلی کو نوٹس بھیجا گیا، لیکن کمپنی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد کمپنی کے اہلکاروں نے خود ہی نمونے کی دوبارہ جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ نمونے کی جانچ مرکزی لیب میں کی جائے۔پتانجلی کو اس کے لیے ۵۰۰۰؍ روپے کی فیس لی گئی۔اس کے بعد ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۲۱ء کو حکام کی ایک ٹیم غازی آباد (یوپی) میں نیشنل فوڈ لیب گئی۔ وہاں گھی کے نمونے کی دوبارہ جانچ کی گئی۔ ۲۶؍ نومبر۲۰۲۱ء کو نیشنل فوڈ لیب نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ میں گھی کا نمونہ فوڈ سیفٹی ٹیسٹ میں بھی ناکام ہوا۔ اس رپورٹ کا تقریباً دو ماہ تک بغور مطالعہ اور سمجھا گیا۔ اس کے بعد کیس کو ۱۷؍ فروری ۲۰۲۲ء کو عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت نے جرمانہ عائد کیا۔اپنے فیصلے میں، عدالت نے پتانجلی آیوروید لمیٹڈ پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا۔ اس کے ڈسٹری بیوٹر، برہما ایجنسی کو۲۵؍ہزار روپے جرمانہ کیا گیا اور جس دکان (کرن جنرل اسٹور) سے نمونہ لیا گیا تھا اس پر ۱۵؍ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ پتھورا گڑھ کے ایڈوڈیکیٹنگ آفیسر/ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یوگیندر سنگھ کی عدالت نے جمعرات کو یہ فیصلہ سنایا۔ فوڈ سیفٹی آفیسر دلیپ جین نے کیس سے متعلق تمام ثبوت عدالت میں پیش کئے۔