ٹرائی نے تجویز پیش کی، ۲۰؍ سال کیلئے اسپیکٹرم دیا جائےگا، عرضی گزاروں میں اسٹارلنک کا نمبر سب سے آخری۔
EPAPER
Updated: November 07, 2026, 1:20 PM IST | Agency | New Delhi
ٹرائی نے تجویز پیش کی، ۲۰؍ سال کیلئے اسپیکٹرم دیا جائےگا، عرضی گزاروں میں اسٹارلنک کا نمبر سب سے آخری۔
ٹیلی کام ریگولیٹری اتھاریٹی آف انڈیا (ٹرائی) نے سیٹیلائٹ کمیونی کیشن کیلئے نیا ضابطہ جاتی نظام متعارف کرانے کی تجویز پیش کی ہے، جس سے مستقبل میں اسمارٹ فون صارفین اپنے موبائل فون پر براہِ راست سیٹیلائٹ کنیکٹی وٹی حاصل کرسکیں گے۔ اس سہولت سے ان علاقوں میں بھی کنیکٹی وٹی فراہم کرنے میں مدد ملے گی جہاں روایتی موبائل نیٹ ورک دستیاب نہیں ہے یا اس کی رسائی محدود ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جرمن کار ساز کمپنیاں چین کے مقابلے میں بے بس، چینی آٹو موبائل صنعت کوبرتری حاصل
ٹرائی نے۵؍نومبر کو اپنی سفارشات محکمہ ٹیلی کمیونی کیشن کو بھیج دی ہیں۔ نئی تجویز کے تحت سیٹیلائٹ کمیونی کیشن نیٹ ورک فراہم کرنے والی کمپنیوں کیلئے الگ اجازت نامے کا نظام بنایا جائے گا۔ ٹرائی نے سفارش کی ہے کہ اس سہولت کو۲۷ءکی عالمی ریڈیو کمیونی کیشن کانفرنس کے فیصلے کا انتظارکئے بغیر مخصوص شرائط کے ساتھ اجازت دی جائے۔نئے نظام کے تحت اسٹارلنک، ایمیزون لیو اور ٹاٹا کی نیلکو جیسی کمپنیاں اپنا سیٹیلائٹ نیٹ ورک ٹیلی کام آپریٹروں کو فراہم کرسکیں گی۔ ریلائنس جیو، بھارتی ایئرٹیل اور ووڈافون آئیڈیا جیسی کمپنیاں اس بنیادی ڈھانچے کے ذریعے صارفین کو خدمات دے سکیں گی۔ٹرائی نے سیٹیلائٹ نیٹ ورک فراہم کرنے والی کمپنیوں کے اجازت نامے کی مدت زیادہ سے زیادہ۲۰؍سال رکھنے اور مزید۲۰؍ سال تک تجدید کی گنجائش کی تجویز پیش کی ہے۔ ٹرائی نے انکشاف کیا ہےکہ اس کیلئے درخواست دینے والوں میں ایلون مسک کا اسٹار لنک سب سے آخر ی ہے۔