• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جرمن کار ساز کمپنیاں چین کے مقابلے میں بے بس، چینی آٹو موبائل صنعت کوبرتری حاصل

Updated: November 06, 2026, 9:07 PM IST | New Delhi

جرمنی کی مشہور اور دنیا بھر میں اپنی اعلیٰ معیار کی انجینئرنگ کے لیے پہچانی جانے والی کار ساز کمپنیاں چین کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی آٹو موبائل صنعت کے سامنے مشکلات سے دوچار ہوگئی ہیں۔

Wolksvagon.Photo:INN
فاکس ویگن۔ تصویر:آئی این این

جرمنی کی مشہور اور دنیا بھر میں اپنی اعلیٰ معیار کی انجینئرنگ کے لیے پہچانی جانے والی کار ساز کمپنیاں چین کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی آٹو موبائل صنعت کے سامنے مشکلات سے دوچار ہوگئی ہیں۔ کئی دہائیوں تک چینی بازار میں بھاری منافع کمانے والی جرمن کمپنیاں اب وہاں اپنی مارکیٹ میں حصہ داری برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کررہی ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں، جدید ٹیکنالوجی، کم قیمت اور تیزی سے نئے ماڈل پیش کرنے کی صلاحیت نے چینی کمپنیوں کو مضبوط برتری دلادی ہے، جس کے نتیجے میں فاکس ویگن، بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز بینز جیسی بڑی جرمن کمپنیوں کی فروخت متاثر ہوئی ہے۔ اس بحران کے اثرات اب جرمنی میں بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں کمپنیوں نے اخراجات کم کرنے اور ملازمتوں میں کمی کے منصوبے تیار کیے ہیں۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، یورپ کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی ووکس ویگن کو چین میں کاروبار کی خراب صورت حال کے باعث ستمبر کے اختتام پر ختم ہونے والی تین ماہ کی مدت میں ۵ء۸؍ ارب یورو (تقریباً ۶ء۵؍ ارب ڈالر) کا نقصان اٹھانا پڑا۔ کمپنی کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے۔ فاکس ویگن گروپ، جس کے تحت ۱۰؍ برانڈز کام کرتے ہیں، اپنی کاروباری سرگرمیوں کی تنظیم نو کررہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دہائی کے اختتام تک ایک لاکھ ۲۰؍ ہزار تک ملازمتیں ختم کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز بینز بھی ملازمتوں میں کمی اور اخراجات پر قابو پانے کے اقدامات کررہی ہیں۔ ان تینوں بڑی جرمن کمپنیوں نے رواں سال منافع کے حوالے سے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:حسام حسن کی معطلی کے بعد محمد صلاح کو مصر کی قومی فٹبال ٹیم کا عبوری کوچ بنانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق، جرمنی کی تین بڑی کار ساز کمپنیوں ووکس ویگن، بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز بینز کی چین میں سالانہ گاڑیوں کی فروخت ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان تقریباً ایک تہائی کم ہوکر ۳۸ء۷؍ لاکھ رہ گئی۔ اس کے برعکس چینی کار ساز کمپنیوں کی اپنے ملک کی مارکیٹ میں حصہ داری اسی مدت کے دوران ۳۷ء۸؍ فیصد سے بڑھ کر ۶۵ء۳؍ فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ چینی صارفین اب مقامی کمپنیوں کی گاڑیوں کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔
چین کی کمپنیوں نے الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے۔ بی وائی ڈی اور ایکسپینگ جیسی کمپنیاں جدید بیٹری ٹیکنالوجی، بہتر ڈیجیٹل سہولتوں اور نسبتاً کم قیمت والی گاڑیوں کے ذریعے صارفین کی توجہ حاصل کررہی ہیں۔ چین کی حکومت نے بھی الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے سبسڈی، چارجنگ اسٹیشنوں کے وسیع نیٹ ورک اور دیگر سہولتوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ اس حکمت عملی نے مقامی کمپنیوں کو عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنایا ہے۔
 جرمن کار ساز کمپنیوں کی کامیابی کا ایک بڑا سبب ان کی پیٹرول اور ڈیزل انجن بنانے کی مہارت رہی ہے۔ کئی دہائیوں تک جرمن انجینئرنگ کو مضبوط، پائیدار اور اعلیٰ کارکردگی والی گاڑیوں کی علامت سمجھا جاتا رہا، لیکن آٹو موبائل صنعت میں تیزی سے آنے والی تبدیلی نے اس برتری کو چیلنج کردیا ہے۔ چین میں الیکٹرک اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی مقبولیت بڑھنے کے بعد روایتی انجنوں پر انحصار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑرہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اُرمیلا ماتونڈکر نے کلاسیکی گیت ’میرے پیا گئے رنگون‘ پر پرفارمنس دیا

چائنا پیسنجر کار ایسوسی ایشن کے مطابق، چین میں گزشتہ ماہ نئی توانائی والی گاڑیوں کی فروخت کا تناسب ریکارڈ ۶۷ء۸؍ فیصد تک پہنچ گیا۔ اس میں الیکٹرک اور دیگر جدید توانائی سے چلنے والی گاڑیاں شامل ہیں۔ اس صورت حال میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر زیادہ انحصار کرنے والی جرمن کمپنیوں کے لیے مقابلہ مزید سخت ہوگیا ہے۔ فاکس ویگن روایتی انجن والی گاڑیوں کے شعبے میں اب بھی مضبوط مقام رکھتی ہے، لیکن چین میں صارفین کی ترجیحات تیزی سے تبدیل ہورہی ہیں۔
 ماہرین کے مطابق جرمن کمپنیوں نے طویل عرصے تک اپنی برانڈ شناخت اور انجینئرنگ کی شہرت پر زیادہ بھروسہ کیا اور چینی حریفوں کی ترقی کی رفتار کا بروقت اندازہ نہیں لگایا۔ دوسری جانب چینی کمپنیوں نے گاڑیوں میں جدید سافٹ ویئر، ڈجیٹل سہولتوں، تفریحی نظام اور اسمارٹ ٹیکنالوجی کو اہمیت دی۔ چینی صارفین، خصوصاً نوجوان خریدار، اب صرف گاڑی کی طاقت اور انجن کی کارکردگی نہیں دیکھتے بلکہ اس میں موجود ڈجیٹل سہولتوں، رابطے کی ٹیکنالوجی اور قیمت کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔
جرمن کار ساز کمپنیوں کے لیے ایک اور مشکل یہ ہے کہ ان کے ہاں نئے ماڈل تیار کرنے اور بازار میں پیش کرنے کا عمل نسبتاً طویل ہوتا ہے، جبکہ چینی کمپنیاں بہت کم وقت میں نئے ماڈل اور جدید خصوصیات کے ساتھ گاڑیاں متعارف کرارہی ہیں۔ اس تیز رفتار مقابلے میں جرمن کمپنیوں کو اپنی مصنوعات اور کاروباری طریقہ کار دونوں میں تبدیلی لانا پڑرہی ہے۔ چین میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے جرمن کمپنیاں اب اپنی انجینئرنگ اور تحقیق کے بعض اہم شعبوں کو چین منتقل کررہی ہیں۔ فاکس ویگن نے چین کے شہر ہیفی میں قائم اپنے مرکز کے ذریعے گاڑیوں کو ابتدا سے لے کر مکمل تیاری تک مقامی طور پر ڈیزائن کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ووکس ویگن اور بی ایم ڈبلیو دونوں چین میں تیار ہونے والی گاڑیوں کو ایشیا پیسیفک کے دیگر بازاروں میں برآمد کرنے کے امکانات بھی تلاش کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ٹیسلا سائبرٹرک کی پیداوار کم کرکے سائبرکیب کی تیاری بڑھائے گی

فاکس ویگن کی کم قیمت الیکٹرک گاڑی آئی ڈی ایوری ون  جسے ۲۰۲۷ء میں یورپی بازار میں پیش کرنے کا منصوبہ ہے، اس میں بھی چین میں تیار کی جانے والی الیکٹرک موٹر استعمال کی جائے گی۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو اولیور بلوم نے کہا ہے کہ فاکس ویگن کو چین کی آٹو موبائل صنعت کا حصہ سمجھا جاسکتا ہے اور کمپنی چینی حریفوں کی طرح کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مرسڈیز بینز کے چیف ایگزیکٹیو اولا کیلینیئس نے بھی اکتوبر میں کہا تھا کہ کمپنی چین کے لیے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرے گی، تاہم دنیا کی سب سے بڑی اور سخت مقابلے والی آٹو موبائل مارکیٹ سے دستبردار ہونا کوئی متبادل نہیں ہے۔
 جرمنی کی آٹو موبائل صنعت ملک کی معیشت اور روزگار کے اہم ستونوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس شعبے میں فروخت کی کمی، پیداواری اخراجات میں اضافہ اور چینی کمپنیوں سے سخت مقابلہ جرمنی کی صنعتی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اگر جرمن کمپنیاں الیکٹرک گاڑیوں اور جدید ڈجیٹل ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے میں کامیاب نہ ہوئیں تو آنے والے برسوں میں انہیں مزید ملازمتیں ختم کرنے اور پیداواری ڈھانچے میں تبدیلی کرنے پر مجبور ہونا پڑسکتا ہے۔
موجودہ صورت حال نے واضح کردیا ہے کہ عالمی آٹو موبائل صنعت ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ اب صرف روایتی انجینئرنگ، برانڈ کی شہرت اور طاقتور انجن کامیابی کی ضمانت نہیں رہے۔ بیٹری ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر، ڈیجیٹل سہولتیں، کم لاگت اور تیز رفتار جدت مستقبل کی آٹو موبائل صنعت میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔ جرمن کمپنیوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی تاریخی برتری کو برقرار رکھتے ہوئے اس نئے صنعتی دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو کتنی جلد تبدیل کرسکتی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK