نجی دواخانو ں میں مریض احتیاطی تدابیراختیار نہیں کررہے ہیں ، ڈاکٹروں کو تشویش

Updated: June 27, 2020, 4:00 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

لاک ڈائون میں نرمی کے بعد سے شہریوں میں کووڈ ۱۹؍کا خوف کم ہوگیاہے جس کی وجہ سے لاپروائی کی متعدد شکایتیں سامنے آرہی ہیں ۔ جنرل پریکٹیشنرس کے مطابق مریض کلینک میں ماسک پہنے بغیر آرہے ہیں ، سماجی دوری کا کوئی لحاظ نہیں رکھ رہے ہیں ، مزید علاج کیلئے طبی جانچ کروانے اور میونسپل اسپتال جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے تو وہ انکار کردیتے ہیں اس سے ڈاکٹروں کے بھی متاثر ہونے کااندیشہ ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

لاک ڈائون میں نرمی کے بعد سے شہریوں میں کووڈ ۱۹؍کا خوف کم ہوگیاہے جس کی وجہ سے وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں لاپروائی برت رہے ہیں جس سے کووڈ۱۹؍ کے معاملات میں اضافہ کا اندیشہ ہے۔ شہر و مضافات کے نجی ڈاکٹروں کے مطابق مریض کلینک میں ماسک پہنے بغیر آرہےہیں ، سماجی دوری کا کوئی لحاظ نہیں کررہے ہیں ، انہیں مزید علاج کیلئےطبی جانچ کرنے اور میونسپل اسپتال جانے کا مشورہ جاتا ہے تو وہ انکار کردیتے ہیں ۔ ناگپاڑہ سیوڑی ، گھاٹ کوپر، ساکی ناکہ اور اندھیری کے ڈاکٹروں کے مطابق شہریوں کی لاپروائی سے وبا پھیلنے اور ان کے سبب ڈاکٹروں کےبھی متاثر ہونےکا اندیشہ ہے۔
 ناگپاڑہ پر واقع دائود نرسنگ ہوم میں بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر بھرت پرمار کےمطابق لاک ڈائون میں ڈھیل دینےکاہرگز یہ مطلب نہیں ہےکہ کووڈ۱۹؍کےاثرات ختم ہوگئےہیں لیکن ایسا سمجھ کر جو لوگ لاپروائی برت رہےہیں ، وہ بہت بڑی بھول کررہے ہیں ۔ جب سے لاک ڈائون میں نرمی کی گئی ہے،بیشتر افراد نے ماسک پہننا چھوڑدیاہے، سماجی دوری نہیں رکھی جارہی ہے، صاف صفائی کا خیال نہیں رکھا جارہاہے جس سے وبا کے مزید پھیلنے کاامکان ہے۔ کووڈ ۱۹؍ پر قابوپانےکیلئے سماجی دوری اور ماسک پہننا َلازمی ہے لیکن ڈھیل کی وجہ سے میرے کلینک پر خاص طورپر پسماندہ طبقے اور جھوپڑپٹی کےعلاقوں سے جولوگ آرہےہیں ،وہ لاپروائی کا مظاہرہ کررہےہیں جبکہ اونچے طبقے کے لوگ اب بھی بچوں کو ساتھ نہیں لارہے ہیں اور ماسک اور سماجی دوری کے اُصول پر عمل کررہےہیں ۔جو لوگ لاپروائی کررہے ہیں ، ان کی وجہ سے ہمیں بھی وبا سے متاثر ہونے کاخطرہ لاحق ہے۔
 سیوڑی کے ڈاکٹر قیصر جمال نے بتایاکہ کووڈ۱۹؍ کے خوف سے لاک ڈائون کےدوران اپنے تحفظ کیلئے بیشتر ڈاکٹروں نے کلینک بند کردیئے تھے جس کی وجہ سے سیاسی لیڈران، شہری انتظامیہ اورسماجی کارکنوں نے ڈاکٹروں پر دبائو ڈال کرانہیں کلینک کھولنے پر آمادہ کیا تھا۔ لاک ڈائون میں نرمی دیئے جانےکےبعد مریضوں کی لاپروائی سے دوبارہ وہی صورتحال پیدا ہورہی ہے ۔ کووڈ۱۹؍ سے محفوظ رہنے کیلئے جس طرح کےحفاظتی اقدامات پر عمل کرنا ہے ، شہری وہ نہیں کررہے ہیں جس سے مریضوں کےعلاوہ ہمیں بھی خطرہ لاحق ہے۔اس کی ایک مثال میں یہاں پیش کرنا چاہوں گا۔گزشتہ دنوں ہمارے علاقےکی ایک ۴۸؍سالہ خاتون کھانسی کی شکایت لے کر آئی ۔ میں نے ۲؍دن تک اسے دوا دی لیکن افاقہ نہ ہونےکی صورت میں اس کوخون کی جانچ کا مشورہ دیاتو اس نےانکار کردیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ا س کےگھر کے کئی افراداسی طرح کی شکایت میں مبتلاہوگئے۔ ایسے مریضوں کی وجہ سے ہم ڈاکٹروں کی پریشانی بڑھ رہی ہے ۔وہ ڈاکٹر کےمشورے کےمطابق علاج نہیں کرتےہیں جس کی وجہ سےاپنے ساتھ وہ ہمیں بھی متاثرکرسکتےہیں ۔
 جوہوگلی ،اندھیری کے ڈاکٹر احتشام حسین خان کے بقول ویسےتو میرے کلینک میں کئی طبقے کے لوگ آتے ہیں مگر آدیواسی، دھنگرسماج اور مسلم خواتین جس لاپروائی کا مظاہرہ کررہی ہیں ، اس سےمجھے اپنی حفاظت پر خاص توجہ دینی پڑرہی ہے۔ مسلم خواتین نے نوس پیس کوماسک سمجھ لیا ہے، بچوں کو بغیر ماسک پہنائے لے کرچلی آتی ہیں ۔ انہیں سمجھائو توکہتی ہیں کہ لاک ڈائون اور کوروناوائرس ختم ہوگیا ہے اسی لئےتو حکومت نے ڈھیل دی ہے۔ ان خواتین سے بحث کرنا وقت ضائع کرنا ہے۔ مجبوراً میں نےاپنے پیسے سے کلینک میں ماسک لاکر رکھاہے تاکہ ماسک نہ پہننے والوں کو ماسک دیاجاسکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کلینک آنے والے افراد ایک تو ماسک پہن کرنہیں آتےہیں ، دوسرے سماجی دوری بھی نہیں رکھتے اور ڈاکٹر کے بالکل قریب بیٹھ کر گفتگوکی کوشش کرتےہیں ۔ اس طرح کی لاپروائی سے پریشان ہوکر میں نے اپنے لئے ایک مخصوص کیبن بنایا ہے تاکہ سماجی دوری قائم رہے۔
 انہوں نےمزید بتایا کہ ’’روزانہ میرے کلینک میں جو مریض آرہےہیں ، ان کے معائنہ کے بعد مزید علاج کیلئے انہیں اگر بی ایم سی اسپتال جانےکا مشورہ دیاجاتاہےتو وہ ناراض ہوجاتےہیں ۔ کہتے ہیں ہمیں وہاں مارنےکیلئے بھیج رہےہیں کیا۔ تم دوا دےدو،باقی ہماری قسمت ۔ ہم وہاں نہیں جائیں گے ۔‘‘ ساکی ناکہ کے ڈاکٹر افروز رفیق شیخ کےمطابق ’’ لاک ڈائون میں ڈھیل اور کووڈ ۱۹؍ سےمتعلق وہاٹس ایپ پر مختلف افواہوں سے ہمارےمعاشرہ میں کئی غلط فہمیاں پھیل رہی ہیں ۔مثلاً کووڈ ۱۹؍مسلمانوں کے خلاف ایک سازش ہے اور مسلمانوں کو اسپتال میں کووڈ کے علاج کے نام پر انجکشن دےکر مارنےکی کوشش کی جارہی ہے۔ ان افواہوں کی وجہ سے بھی ہمارے لوگ بی ایم سی اسپتالوں میں علاج کیلئے نہیں جارہےہیں اور ٹیسٹ بھی نہیں کروارہے ہیں ۔ انہیں خوف ہے کہ کووڈ کا ٹیسٹ پازیٹیو آیاتو ان کی موت ہوجائے گی جبکہ ایساکچھ نہیں ہے۔ بخار، کھانسی ،سردی ، بدن درد اور سانس لینےمیں تکلیف کووڈکی علامتیں ہیں ۔ اس مرض کے شدت اختیار کرنےکیلئے ۷؍دن درکار ہوتےہیں ۔ اس دوران ڈاکٹر کا تجویز کردہ میڈیکل ٹیسٹ کروالیں ، اگر اس ڈاکٹر سے مطمئن نہ ہوں تو دیگر ڈاکٹر سے رابطہ کرلیں ۔کووڈ۱۹؍ کے علاج کیلئے چیسٹ (سینے) کے امراض کے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اس کےعلاوہ پرہیز کرنا بہت ضروری ہے لیکن ہمارے لوگ بڑی لاپروائی برت رہے ہیں جس سے ڈاکٹروں کیلئے بھی خطرہ پیداہورہاہے۔‘‘  گھاٹ کوپر کےڈاکٹر ارون مشرا نےکہاکہ روزی روٹی بھی ضروری ہے لیکن اس میں ہمیں کسی طرح کی لاپروائی نہیں کرنی چاہئے۔ یہ ٹھیک ہےکہ کووڈ۱۹؍ سےلوگ ٹھیک ہورہے ہیں مگر یوں ہی تو ٹھیک نہیں ہورہےہیں بلکہ اس کے لئے جدوجہد کی جارہی ہے۔ اموات کم ہورہی ہیں مگر جانیں تو جارہی ہیں اس لئے ہمیں اپنے ملک اور قوم کیلئے کسی طرح کی لاپروائی نہیں کرنی چاہئے ۔ ساری احتیاطی تدابیرپر عمل کریں تبھی ہمارا معاشرہ محفوظ رہےگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK