پٹنہ :کورونا کےبعد قوت برداشت میں کمی، معمولی بات پر قتل کی نوبت آجاتی ہے

Updated: June 09, 2022, 1:01 PM IST | Inquilab News Network | Patna

سب ڈویژن پٹنہ سٹی کے لوگ کام کی پریشانیوں، کاروبار میں بڑھتی ہوئی مسابقت، کاروبار ٹھیک سے نہ چلنےاور احساس کمتری وغیرہ کی وجہ سے ناراض ہو رہے ہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کووڈ کے دور کے بعد پٹنہ سٹی کے باشندوں میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ کووڈ کے دور میں نجی شعبے میں نوکریاں ختم ہو گئی ہیں۔ دو سالوں کے دوران شہریوں کی قوت برداشت میں کمی آئی ہے۔ لوگ معمولی باتوں پر جھگڑتے ہیں اور شکایت پولیس تک پہنچ جاتی ہے۔ بہت سے معاملات میں غصہ قتل  کا   سبب بھی بنتا جا رہا ہے ۔ ان دنوں عام طو رپربے روزگاری، زائد رقم ادا نہ کرنے، راستے میں گاڑی کا پاس نہ دینے، موٹر سائیکل کو ٹکر مارنے، کسی دکان کے سامنے کھڑا ہونے اور پانی پھیلانے وغیرہ جیسی معمولی باتوں پر بھی جھگڑا ہوجاتا ہے۔   اس سلسلے میںایس ایچ او نے بتایا کہ انہیں لگتا ہے کہ کورونا کے بعد لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ ہو  نے لگے ہیں۔ گنجان آبادی والے سب ڈویژن پٹنہ سٹی کے لوگ کام کی پریشانیوں، کاروبار میں بڑھتی ہوئی مسابقت، کاروبار ٹھیک سے نہ چلنے، شکوک و شبہات کے بڑھتے ہوئے رجحان  اور احساس کمتری کی وجہ سے ناراض ہو رہے ہیں۔ اندر سے پریشان آدمی ناراض ہو جاتا ہے۔ اس سے بچنے کیلئے خاندانی ماحول کو بہتر بنانا ہوگا  اورایسے ماحول میں رہنا ہوگا جہاں ہر وقت لوگ مصروف رہتے ہیں۔ 
 موبائل پر دوسرے سے بات کرنے پر بیوی کا قتل
 ۸؍ اپریل کو عالم گنج تھانہ حلقہ کے گائےگھاٹ لوہا گودام کے پاس۳۰؍ سالہ رینو دیوی کے ذریعہ موبائل پر کسی سے بات چیت کرنے سے ناراض ہوکرشوہر نیرج کمار نے گھر میں رکھے چاقو سے بیوی رینو کاقتل کردیا۔ بیوی کو قتل کرنے کے بعد ناراض شوہر نے بھی خود چاقوسے اپنے گلے پر وار کرکے خودکشی کی کوشش کی۔ بعد ازاں پولیس نے اسے جیل بھیج دیا۔
گھورنے  پر پیر میں گولی ماری
  ۲۴؍اپریل کی رات مہندی گنج تھانہ حلقہ کے لوہا کے پل کے پاس رہنے والا رام دیو چوہان اپنے دروازے کے پاس کھڑا تھا۔ تب ہی بدمعاشوں نے کہا کہ آنکھیں کیوں دکھا رہے ہو؟ گھور کیوں رہے ہو؟ اسی بات پربدمعاشوں نے رام دیو کی ٹانگ میں گولی مار کر زخمی کر دیا۔
صرف ایک ہزار روپےنہ دینے پر تاجر کا قتل
؍  ۳۰؍مارچ کوچوک تھانہ حلقہ کےبھوتنی گلی میں ایک ہزار روپے نہیں دینے پر دن دہاڑے چار بدمعاشوں نے ۵۵؍ سالہ تھوک کاروباری پرمود باگلا کے جسم پر نصف درجن گولی مار کر کے قتل کردیا۔ والد کو بچانے آئے ۲۲؍سالہ لڑکا ابھیشیک باگلا عرف گولو کو بھی بدمعاشوں نے پیٹ میں گولی مار کر زخمی کردیا۔ فیکٹری ملازم وکیش اگروال عروف چھوٹو کو بھی پیٹ کے پاس سے گولی چھوتی ہوئی نکل گئی۔ کاروباری کا قتل کرکے بدمعاش مسلسل فائرنگ کرتے ہوئے اشوک راج پتھ کی طرف نکل گئے۔
مارپیٹ کا بدلہ آٹھ ماہ بعد قتل کرکے لیا
 مہندی گنج تھانہ حلقہ کے لوہا کا پل مہادیو مندر کے پاس ۲۵؍ مئی کی رات سابق کرایہ دار انکت نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے ٹن ٹن مہتو کا چاقو سے گود کر قتل کردیا۔ اس  واردات کی وجہ آٹھ ماہ پہلے ہونے والا تنازع اور مارپیٹ بتائی گئی ہے۔ ناراض انکت نے آٹھ ماہ بعد انتقام کے جذبے سے قتل کردیا۔
ماہرنفسیات کا کیا کہنا ہے؟
  اس سلسلے میںجبشری گرو گووند سنگھ  اسپتال کے ریٹائرڈ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ  ڈاکٹر ایم پی ترپاٹھی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ قوت برداشت میں کمی آئی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔  اس سلسلے میںسب ڈویژن کےتھانہ کے انچارجوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ پولیس کے پاس شہریوں کے رویے کا کوئی ڈاٹا نہیں ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ لوگ غیر ضروری باتوں پر ناراض ہو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK