Updated: July 29, 2026, 8:11 PM IST
| Gaza
غزہ کی ۱۱؍ سالہ فلسطینی بچی لیان الغوغہ نے کہا ہے کہ ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی جانب سے ان کے نام بھیجے گئے خصوصی ویڈیو پیغام نے انہیں یہ یقین دلایا ہے کہ ’’غزہ کے بچوں کی آواز دنیا تک پہنچ سکتی ہے۔‘‘ لیان نے مقامی فنکاروں کے ساتھ مل کر پیڈرو سانچیز کا ایک دیوار گیر (Mural) بنایا تھا، جس کے جواب میں ہسپانوی وزیراعظم نے نہ صرف ان کا شکریہ ادا کیا بلکہ کہا کہ اسپین غزہ کے بچوں کو ’’سنتا ہے، دیکھتا ہے، ان کی پروا کرتا ہے اور انہیں نہیں بھولے گا۔‘‘
غزہ کی ۱۱؍ سالہ فلسطینی بچی لیان الغوغہ۔ تصویر: ایکس
غزہ کی ۱۱؍ سالہ فلسطینی بچی لیان الغوغہ کے لیے فن مصوری محض ایک شوق نہیں بلکہ اپنے دکھ، امید اور پیغام کو دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ چند روز قبل انہوں نے مقامی فنکاروں کے ساتھ مل کر غزہ کی ایک تباہ حال دیوار پر ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی تصویر پر مشتمل ایک دیوار گیر (Mural) بنایا، جس کے ذریعے اسپین کی جانب سے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کیا گیا۔ لیان کو ہرگز توقع نہیں تھی کہ ان کا یہ فن پارہ چند ہی دنوں میں میڈرڈ تک پہنچ جائے گا اور خود ہسپانوی وزیراعظم اس کا جواب دیں گے۔ بعد ازاں پیڈرو سانچیز نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے لیان کا نام لے کر ان کا شکریہ ادا کیا اور غزہ کے بچوں کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم آپ کی آواز سنتے ہیں، ہم آپ کو دیکھتے ہیں، ہم آپ کی پروا کرتے ہیں، اور ہم آپ کو نہیں بھولتے۔‘‘
انہوں نے مزید امید ظاہر کی کہ ’’مجھے امید ہے کہ غزہ کے بچے جلد ہی اپن
ے اسکولوں میں بغیر خوف کے دوبارہ تصویریں بنا سکیں گے اور امن کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں گے۔‘‘ انادولو ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے لیان الغوغہ نے بتایا کہ وزیراعظم کا پیغام ان کے لیے ناقابلِ یقین لمحہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں حیران رہ گئی اور بے حد خوش ہوئی۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ کسی ملک کا وزیراعظم میری بنائی ہوئی تصویر دیکھے گا، میرے لیے ویڈیو ریکارڈ کرے گا اور میرا نام لے کر میرا ذکر کرے گا۔ یہ ناممکن لگتا تھا۔ یہ میری زندگی کے خوش ترین لمحات میں سے ایک تھا اور اس نے مجھے امید دی کہ ہماری آواز دنیا تک پہنچ سکتی ہے۔‘‘
لیان نے بتایا کہ جنگ کے بعد مصوری ان کی زندگی کا اہم حصہ بن گئی ہے اور ہر تصویر ان کے لیے ایک نئی کہانی بیان کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں چاہتی ہوں کہ میری تصویر یہ پیغام دے: غزہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اب ختم ہونی چاہیے۔ ہم نے بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ ہم نے بغیر کسی قصور کے سب کچھ کھو دیا۔ ہم معصوم بچے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’غزہ اور اس کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہمیں صرف خبروں میں نہ دیکھے بلکہ ہماری تکلیف کو سمجھے۔‘‘ لیان کے والد محمود الغوغہ نے بھی اس ردعمل کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی کئی برسوں سے مصوری کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کر رہی ہے، لیکن اس مرتبہ دنیا کے ایک سربراہِ حکومت کی جانب سے براہِ راست جواب ملنا پورے خاندان کے لیے امید کا پیغام بن گیا۔ ان کے مطابق اس سے لیان کو یہ احساس ہوا کہ اس کی محنت اور پیغام رائیگاں نہیں گیا۔
واضح رہے کہ یہ میورل اس وقت بنایا گیا جب اسپین غزہ کی جنگ کے حوالے سے یورپ کے ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے مسلسل جنگ بندی کا مطالبہ کیا، فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا اور غزہ میں انسانی بحران پر اسرائیل کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ اسی اظہارِ یکجہتی کے اعتراف میں مقامی فلسطینی فنکاروں نے پیڈرو سانچیز کی تصویر دیوار پر بنائی تھی۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی کے بعد تعمیرِ نو پر تقریباً ۷۰؍ ارب ڈالر لاگت آنے کا امکان ہے، جبکہ جاری جنگ میں ۷۳؍ ہزار سے زائد افراد ہلاک اور ایک لاکھ ۷۴؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ اسی پس منظر میں لیان جیسے بچے فن اور مصوری کو اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔
لیان کا کہنا ہے کہ وہ مصوری جاری رکھیں گی کیونکہ انہیں اب یقین ہو گیا ہے کہ ایک بچے کی آواز بھی دنیا کے طاقتور ایوانوں تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایک تصویر کسی وزیراعظم کو جواب دینے پر مجبور کر سکتی ہے تو شاید یہی فن دنیا کو غزہ کے بچوں کی تکلیف بھی محسوس کرا سکے۔