Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوا میں انسداد تبدیلی مذہب بل کو کابینہ کی منظوری، عمر قید تک سزا کی تجویز

Updated: August 28, 2026, 11:06 AM IST | Agency | Panaji

یہ بل۳۱؍ اگست سے شروع ہونے والے اسمبلی کے تین روزہ مانسون اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

The Goa Assembly session is about to begin. Picture: INN
گوا اسمبلی اجلاس شرو ع ہونے والا ہے۔ تصویر: آئی این این

گوا حکومت نے تبدیلی مذہب کے خلاف ایک سخت قانون لانے کی راہ ہموار کردی ہے۔ ریاستی کابینہ نے گوا پروہیبیشن آف اَن لا فل کنورژَن آف ریلیجن بل۲۰۲۶ء کو اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ بل۳۱؍ اگست سے شروع ہونے والے اسمبلی کے تین روزہ مانسون اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ مجوزہ قانون میں طاقت، جبر، ناجائز اثر و رسوخ، لالچ، دھوکہ دہی یا شادی کے ذریعے مبینہ طور پر کرائی جانے والی تبدیلی مذہب  کے خلاف سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بنگلور: یونیورسٹی میں چیف جسٹس کو مدعو کرنے پر احتجاج، تقسیم اسناد تقریب منسوخ

بل کے تحت غیر قانونی مذہبی تبدیلی کے مرتکب افراد کو عمر قید تک کی سزا دی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کم از کم۵۰؍ہزار روپے جرمانے اور متاثرہ شخص کو۵؍ لاکھ روپے تک معاوضہ دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق اگر کسی شادی کے تعلق سے یہ ثابت ہوتا ہےکہ صرف غیر قانونی  تبدیلی مذہب کے مقصد سے کی گئی ہے تو ایسی شادی کو باطل قرار دینے کی تجویز بھی رکھی گئی ہے۔مجوزہ بل میں مذہبی شخصیات کو بھی اس قانون کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔ غیر قانونی تبدیلی میں ملوث پائے جانے والی  مذہبی شخصیات کے لیے سخت سزاؤں کی تجویز ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے معاملات میں کم از کم ۳؍ سے۱۰؍ سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے جبکہ بعض دیگر دفعات کے تحت سزا مزید سخت ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جیل میں قید رکن پارلیمنٹ الراشد کی ساتھی اراکین سے، پی ایف آئی چیف کی رہائی کیلئے کوشش کی اپیل

مجوزہ قانون میں نابالغ، خاتون، معذور یا ذہنی بیماری میں مبتلا شخص، یا درج فہرست ذات و قبائل کے فرد کی مبینہ غیر قانونی مذہبی تبدیلی کیلئے زیادہ سخت سزا کی تجویز دی گئی ہے۔ایسے معاملات میں۵؍ سے۱۴؍ سال تک کی سخت قید اور کم از کم ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے کابینہ میں منظوری کے باوجود  واضح ر ہے کہ یہ بل ابھی قانون نہیں بنا ہے۔ اسے پہلے اسمبلی میں پیش کیا جائے گاجہاں اس پر بحث اور منظوری کے بعد ہی یہ قانون کی شکل اختیار کرے گا۔تاہم ریاست میں حزب اختلاف اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں نے اس قانون کی ضرورت اور اس کی بعض سخت دفعات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایک آزاد رکن اسمبلی نے بل کو سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK