تیز بارش کے سبب مزید دقت۔ اب بھی بیشتر شہری لاعلم۔ بی ایل او نے کم وقت دینے کے ساتھ ۱۰؍ الگ مسائل بتائے۔ جولائی مہینے کو اس کام کے لئے انتہائی نامناسب وقت قرار دیا۔
EPAPER
Updated: July 05, 2026, 11:25 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
تیز بارش کے سبب مزید دقت۔ اب بھی بیشتر شہری لاعلم۔ بی ایل او نے کم وقت دینے کے ساتھ ۱۰؍ الگ مسائل بتائے۔ جولائی مہینے کو اس کام کے لئے انتہائی نامناسب وقت قرار دیا۔
اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر) میں عوام اور بی ایل او کو پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں۔ مسلسل ہونے والی تیز بارش کے سبب مزید دقت ہورہی ہے۔ دوسری جانب اب بھی بیشتر شہری لاعلم ہیں، کچھ تو کہتے ہیں کہ یہ ایس آراے ہے یا ایس آئی آر، یعنی انہیں اس کا فرق بھی معلوم نہیں۔ ان کے لئے ۲۰۰۲ء کی فہرست رائے دہندگان حاصل کرنا، اپنا نام تلاش کرنا اوربوتھ لیول آفیسر(بی ایل ) کو تفصیلات مہیا کرانابڑا مسئلہ ہے، حالانکہ مختلف سیاسی جماعتوں، کارپوریٹرس، تنظیموں اور ذمہ دار اشخاص اس تعلق سے رائے دہندگان کی مسلسل مدد کررہے ہیں پھر بھی کئی طرح کےمسائل ہیں ۔
کچھ علاقوں میں ابھی تک بی ایل او نہیں آئے ہیں
۳۰؍جون سے جاری گھر گھر جاکر رائے دہندگان کوفارم دینے کے تعلق سےنمائندۂ انقلاب نے معلومات حاصل کیں توپتہ چلا کہ ۵؍ دن گزرجانے کےباوجود بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں اب بھی بی ایل او نہیں آئے ہیں جبکہ یہ کام جولائی کے اخیرتک پورا کرنا ہے۔ ایک ایک بی ایل او کے ذمے ۱۲۰۰؍ تا ۱۴۰۰؍ رائے دہندگان کی تفصیل حاصل کرکے ان کے فارم بھرنا ہے۔ سوال یہ ہےکہ کیا محض ۲۵؍دن میں یہ کام پورا ہوسکے گا؟
شہریوں نے کیا کہا؟
اندھیری جوہو گلی میں مقیم عبدالرحمٰن خان نے بتایاکہ ’’ اب تک ہمارے علاقے میں بی ایل او کا پتہ نہیں ہے، فارم وغیرہ ہم لوگوں کونہیں ملا ہے۔ ‘‘ جوگیشوری ہل پارک علاقے میں مقیم عبدالرحیم انصاری نےبتایاکہ’’ کہا جارہا ہے کہ بی ایل او آنے والے ہیں، چھپا ہوا فارم دیں گے، اسے بھرکر کچھ دستاویزات کے ساتھ دینا ہوگا مگر ابھی تک کوئی آیانہیں ہے۔ ‘‘
نمائندے نے مالونی کے بعض حصوں میں معلومات حاصل کیں اورکچھ دفاتر میں جاکر دیکھا تو یہاں بھی حالات کچھ اسی طرح کے ہیں۔ گیٹ نمبر ۶؍ میں ایک دفتر میں دیکھا کہ بی ایل اواوربی ایل اے وغیرہ بیٹھے ہیں۔ یہاں دو دن میں ۶۰؍ فارم دیئے گئے ہیں جبکہ محض ۱۲- ۱۰؍ فارم ہی بھر کرجمع کرائےگئے ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: میرا بھائندر: درخت گرنے سے زخمی موٹر سائیکل سوار کی دورانِ علاج موت
بی ایل او (نام بالقصد نہیں لکھا جارہا ہے )سے یہ پوچھنے پر کہ آپ گھرگھر کیوں نہیں جارہے ہیں توانہوں نے بتایاکہ’’ معلومات نہیں ہے، پہلے دفتر میں بیٹھ کر لوگوں کے ذریعے علاقے میں پیغام بھجوارہے ہیں کہ لوگ آئیں اورفارم لے کربھریں، جو لوگ نہیں آئیں گے، ان کے گھر جاؤں گا۔ ‘‘انہوں نے دیگر ۱۰؍ پریشانیاں بھی گنوائیں۔
بی ایل اونے کن ۱۰؍پریشانیوں کی نشاندہی کی
(۱)الیکشن کمیشن کابرابر تعاون نہیں ہے۔ مثلاً اس تعلق سے باقاعدہ سرکیولر جاری کیا جانا چاہئے تھا کہ بی ایل او کو ان کے شعبے سے ریلیز کردیا جائے(۲)کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کیا جارہا ہے(۳)کوئی ڈوائس نہیں دیا گیا اورنہ ہی خرچ دیا جارہا ہے (۴)یہ ٹیم ورک ہے، تنہا آدمی کا کام نہیں ہے۔ اسی لئے بغیر عوام کے تعاون کے یہ کام ممکن نہیں ہے(۵)۲۰۰۲ء کی لسٹ نکالنے کا کوئی سسٹم نہیں ہے، یہ بڑا مسئلہ ہے(۶)فارم بھرنے میں بڑی دشواری آرہی ہے(۷) لوگوں کو منظم انداز میں کچھ نہیں بتایا گیا، صرف آرڈر جاری کردیا گیا (۸) سب سے حیران کن یہ ہے کہ یہ کام ایسی طوفانی بارش میں کیا جارہا ہے جب عام آدمی کا چلنا محال ہوتا ہے، آدمی چھتری سنبھالے گا، کاغذ پکڑے گا یا پھر فارم بھرے گا(۹) اتنے اہم کا م کے لئے وقت بہت کم دیا گیا ہے۔ ۱۲۰۰؍تا ۱۴۰۰؍ رائے دہندگان کا فارم بھرنا، ان کاوقت پرملنا، نہ ملنے پر ان کو نوٹس دینا کہ وہ وقت پررہیں، یہ سب مسائل ہیں (۱۰) اتنا کم وقت دینے کا مقصد سمجھ میں نہیں آرہا ہے جبکہ مہاراشٹر میں کوئی الیکشن بھی نہیں ہونے والا ہے۔ مسائل پر کھل کر کچھ کہنے پردھمکی اور ایف آئی آر درج کی جارہی ہے۔ اسی سبب بی ایل اواورشہری دونوں پریشان ہیں ۔