پنویل میونسپل کارپوریشن کے قیام کو ۱۰؍ مکمل ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک اس کی حدود میں میٹر کے ذریعے رکشا شروع نہ ہونے کی وجہ سے عوام ناراض ہیں۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 10:47 AM IST | Wasim Ahmed Patel | Panvel
پنویل میونسپل کارپوریشن کے قیام کو ۱۰؍ مکمل ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک اس کی حدود میں میٹر کے ذریعے رکشا شروع نہ ہونے کی وجہ سے عوام ناراض ہیں۔
پنویل میونسپل کارپوریشن کے قیام کو ۱۰؍ مکمل ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک اس کی حدود میں میٹر کے ذریعے رکشا شروع نہ ہونے کی وجہ سے عوام ناراض ہیں۔ ایک مقامی شخص کے مطابق یہاں پر رکشا ڈرائیور کے ذریعے میٹر کا استعمال نہیں ہوتا ہے اور من مانا کرایہ وصول کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہاں پر ہر روز ہزاروں رکشا چلتے ہیں لیکن ہمیں میٹر کے ذریعے رکشا چلنے کاانتظار ہے۔ قریب میں نوی ممبئی میں میٹر کے ذریعے رکشا چلتا ہے تو یہاں پر کیوں نہیں؟ ایسا سوال لوگ کر رہے ہیں ۔اسکول کالج ، بس اسٹینڈ ریلوے اسٹیشن اور بازار میں رکشا کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اور یہاں پر ان کی من مانی عروج پر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اونچے جھوپڑوں کیخلاف کارروائی کی مخالفت
خاص طور سے جب خواتین اور چھوٹے بچے ہوتے ہیں ۔ رات کے وقت یہ اپنا کرایہ بڑھالیتے ہیں اور لوگ مجبوری میں ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سلسلے میں مقامی سماجی تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے بارہا کوشش کی، ان کی یونین کے ساتھ میٹنگ بھی کی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ان کی یونین ہڑتال کی دھمکی دیتی ہے۔ آر ٹی او اور ٹریفک پولیس کبھی کبھار ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے لیکن اس میں تسلسل نہیں رہتا ہے۔ مسافروں کے جیب پر بھاری بوجھ پڑتا ہے۔ ایک رکشا ڈرائیور کے مطابق سی این جی کا ریٹ ہمیشہ بڑھتا ہے، مہنگائی بھی کافی بڑھ گئی ہے، ہمیں اپنا گھر بھی دیکھنا ہے لیکن لوگ سوال یہ بھی کر رہے ہیں کہ کیا مہنگائی صرف ان کے لئے بڑھ گئی ہے ؟کیونکہ رکشا میں امیر لوگ تو بیٹھتے ہیں ہی نہیں، اس کا استعمال یا تو غریب یا متوسط طبقے کے لوگ کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ڈپٹی آر ٹی او جیش چوہان کے مطابق ہم نے اس سلسلے میں کئی دفعہ میونسپل کارپوریشن نے رکشا یونین کے ساتھ میٹنگ کی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور ان پر کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔ ہم اکثر رکشا ڈرائیور کے خلاف کارروائی کرتے ہیں ۔ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر کوئی ڈرائیور میٹر کے مطابق کرایہ وصول نہیں کرتا ہے تو اس کا فوٹو نکال کر تحریری طور پر ہمارے پاس شکایت کریں۔ ہمارا ٹول فری نمبر بھی موجود ہے۔ اس پر بھی شکایت کر سکتے ہیں ۔