• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اونچے جھوپڑوں کیخلاف کارروائی کی مخالفت

Updated: September 23, 2026, 10:44 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی جانب سے بی ایم سی کمشنر، میئر اور وزیر اعلیٰ کو خطوط، وعدہ خلافی کا الزام، بازآباد کاری کا مطالبہ۔

An atmosphere of fear and panic prevails among the owners and residents of the elevated huts. Photo: INN
اونچے جھوپڑوں کے مالکان اور ان میں رہنے والوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ تصویر: آئی این این

یکم اکتوبر سے ۱۴؍ فٹ اور اس سے زیادہ اونچے جھوپڑوں کے خلاف ۳؍ مہینوں کی خصوصی مہم کی کارروائی کے بی ایم سی کے اعلان سے ہنگامہ برپا ہوگیا ہے، ایک طرف جہاں اس اعلان سے اونچے  جھوپڑوں کے مالکان اور ان میں رہنے والوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے وہیں دوسری جانب اپوزیشن پارٹیوں نے اس فیصلے کو رکوانے کیلئے خط و کتابت شروع کردی ہے۔ اگرچہ خود بی جے پی نے بھی بی ایم سی کمشنر کو اس فیصلہ پر روک لگانے کی تحریری درخواست کی ہے لیکن اپوزیشن لیڈران کا ماننا ہے کہ ایسا ہونا بہت مشکل ہے کہ برسراقتدار پارٹی کو اتنے بڑے فیصلے کی خبر ہی نہ ہو اور ان کی مرضی  کے بغیر یہ اعلان کیا گیا ہو۔

اپوزیشن لیڈران کا کہنا ہےکہ ۱۴؍ فٹ سے زیادہ اونچے ڈھانچوں کو قانونی حیثیت دینے کی بات الیکشن سے قبل بی جے پی نے کی تھی اور اب ۱۴؍فٹ کے ہی جھوپڑوں کو منہدم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایس آر اے کے تحت ان تمام جھوپڑوں کی بازآباد کاری کی جائے اور ان کیلئے متبادل انتظام کئے بغیر کسی جھوپڑے کو ہاتھ نہ لگایا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: شہزادی ڈائنا پر ارل اسپینسر کی متنازع کتاب کی قیمت لانچ کے پہلے ہی دن نصف کر دی گئی

رکن اسمبلی اور سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر کے صدر ابو عاصم اعظمی نے بتایا کہ انہوں نے ۲۲؍ ستمبر کو ہی وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر روک لگائی جائے کیونکہ یہ جھوپڑے آج ایک دو دنوں میں نہیں بنے ہیں بلکہ برسوں پرانے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی سے پہلے ان بی ایم سی افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے جو ان مقامات پر غیرقانونی تعمیرات روکنے کے ذمہ دار تھے۔ اگر وہ سبکدوش ہوچکے ہیں تو انہیں جیل بھیجا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’بی ایم سی ان جھوپڑوں کی تعداد ۳۹؍ ہزار بتا رہی ہے تو اس میں رہنے والوں کی تعداد کتنی ہوگی؟ اگر یہ کارروائی شروع ہوتی ہے تو پورے شہر میں نظم و نسق کا مسئلہ پیدا ہوجائے گا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ایس آر اے اسکیم کے تحت ان کی بازآباد کاری کی جائے اور انہیں متبادل رہائش ملنے سے پہلے ایک اینٹ بھی نہ ہٹائی جائے۔‘‘

بی ایم سی میں کانگریس کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی نے اس تعلق سے بتایا کہ انہوں نے بی ایم سی کمشنر اشوینی بھیڈے اور میئر ریتو تائوڑے کو خط لکھ کر واضح کیا ہے کہ کانگریس اونچے جھوپڑوں کو منہدم کرنے کے حق میں بالکل نہیں ہے اور ان کا مطالبہ ہےکہ انہدامی کارروائی کے بجائے ان کی بازآبادکاری کی جائے۔ پہلے متبادل گھر دیئے جائیں ،اس کے بعد انہدامی کارروائی کی جائے۔

اس میں یہ بھی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ۲۰۲۶ء کے الیکشن کے وقت مہایوتی اتحاد نے ۴۰؍ لاکھ سستے مکانات تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ جو ممبئی واسی شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں انہیں واپس لایا جائے گا تو  اس وعدے کوپورا کیا جائے اور انہی مکانات میں جھوپڑا واسیوں کی بھی باز آباد کاری کی جائے۔

یہ بھی پڑھئے:ممتا پارٹی کےنام ونشان کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

انہوں نے نشاندہی کی کہ خود بی ایم سی کے ہائوس لیڈر اور بی جے پی کارپوریٹر گنیش کھنکر اس کارروائی پر سوال اٹھا رہے ہیں تو پھر برسراقتدار پارٹی اور میونسپل انتظامیہ میں تال میل کہاں ہے؟

سابق میونسپل کارپوریٹر محسن حیدر نے بھی وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو خط لکھ کر مجموعی طور پر اس مہم کی مخالفت تو کی ہی ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے خصوصیت سے ان جھوپڑوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جن کا ایس آر اے کے تحت سروے ہوچکا ہے اور انہیں باز آبادکاری کیلئے ’اینیکشر ۲‘ میں شامل کرلیا گیا ہے۔

اپوزیشن کےخطوط میں کیا سوالات کئے گئے ؟

اپوزیشن کے خطوط میں سوالات کئے گئے ہیں کہ اگر اس طرح کی کارروائی کرنی تھی تو بی ایم سی نے غیرقانونی جھوپڑوں کو کئی دہائیوں سے آباد کیوں رہنے دیا؟ سروے کرکے انہیں دستاویز کیوں دیئے گئے؟ فوٹو پاس کیوں جاری کئے گئے؟ میونسپل کارپوریشن کے اسیسمنٹ اور پراپرٹی ٹیکس کے ریکارڈ کیوں بنائے گئے؟ شہری سہولتیں کیوں فراہم کی گئیں؟ جن افسران نے غیرقانونی جھوپڑے بننے دیئے ان کیخلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟ بی ایم سی انتظامیہ کی ناکامیوں کا پورا خمیازہ ان جھوپڑا واسیوں کو ادا کرنے پر کیوں مجبور کیا جارہا ہے؟ مزید یہ کہ حکومت کے جھوپڑ پٹی سے پاک ممبئی کے وعدے کا کیا ہوا؟ جس میں انہیںمکانات فراہم کئے جانے تھے؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK