مہاوترن کے دفتر کی بجلی بند کر کے موم بتی کی روشنی میں افسران کو کام کرنے پر مجبور کیا۔
شیوسینا (شندے)کے اراکین نےمہاوترن کے دفتر پہنچ کر بجلی بند کردی تھی۔ تصویر: آئی این این
حاجی ملنگ اور اطراف کے علاقوں میں گزشتہ کئی دنوں سے بجلی کی بار بار کٹوتی کے باعث مقامی شہری سخت پریشان ہیں۔ اس مسئلہ سے طلبہ،تاجر اور عام شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ شہریوں کا الزام ہے کہ مسلسل شکایات کے باوجود مہاوترن کی انتظامیہ نے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا۔ اسی کے خلاف شیو سینا (شندے) نے مہاوترن کے دفتر پر احتجاجی مورچہ نکالا۔ اس دوران مظاہرین نے مہاوترن کے افسران کے دفتر کی بجلی تقریباً ایک گھنٹے کیلئے بند کر دی اور موم بتیاں جلا کر انوکھے انداز میں احتجاج کیا۔
تفصیلات کے مطابق حاجی ملنگ پہاڑی اور گرد و نواح میں طویل عرصے سے بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ چل رہا ہے جس کی وجہ سے معمولاتِ زندگی بری طرح مفلوج ہوچکے ہیں۔ شدید گرمی اور غیر یقینی لوڈ شیڈنگ نے طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں اور چھوٹے کاروباری طبقے کو سنگین نقصانات سے دوچار کر رکھا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمہ کے سامنے درجنوں بار شکایات اور استدعا کے باوجود صورتحال میں کوئی سدھار نہیں آیا۔
انتظامیہ کی اسی مبینہ لاپروائی کے خلاف شیو سینا (شندے ) کے کارکنوں اور مکینوں کا ایک بڑا احتجاجی مورچہ مہاوترن کے دفتر پہنچا۔ اس دوران مظاہرین نے ایک انوکھا قدم اٹھاتے ہوئے افسران کے چیمبر کی بجلی تقریباً ایک گھنٹے کےلئے بند کردی اور میز پر موم بتیاں روشن کرکے محکمے کو اندھیرے میں دھکیل دیا۔مظاہرین نے واضح کیا کہ اس علامتی اقدام کامقصد ایئر کنڈیشنڈ دفاترمیں بیٹھنے والے افسران کو یہ باور کرانا تھا کہ گھنٹوں بجلی سے محروم عام شہری کن اذیت ناک حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔مظاہرین سے خطاب کرتےہوئے کارپوریٹر مہیش گائیکواڑ نے کہا کہ علاقے میں بجلی کی بلا تعطل ترسیل عوام کا بنیادی حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگرمہاوترن انتظامیہ نے بجلی بحران کا فوری حل نہ نکالا تو آئندہ دنوں میں شیو سینا اسٹائل میں اس سے کہیں زیادہ شدید اور جارحانہ احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔