Inquilab Logo Happiest Places to Work

منہدم بلڈنگ میں دوسرے دن بھی لوگ پھنسے رہے

Updated: July 10, 2026, 8:27 AM IST | Pune

پمپری چنچوڑ میں کچرا پلانٹ کی منہدم بلڈنگ سے ۱۴؍ لوگوں کو بحفاظت نکال لیا گیا مگر ۹؍ لوگوں کو نکالنے میں اب تک کامیابی نہیں ملی

The pile of garbage that caused the building to collapse is being removed (Agency)
کچرے کا ڈھیر ہٹایا جا رہا ہے جو بلڈنگ گرنے کا سبب بنا( ایجنسی)

پونے میں موسلادھار بارش کی وجہ سے بدھ کو پمپری چنچوڑ کے موشی علاقے میں واقع کچرا پلانٹ میں ایک خوفناک حادثہ پیش آیا۔ دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے کچرے کا ایک بہت بڑا پہاڑ  پلانٹ کے دفتر کی تین منزلہ عمارت پر گر گیا تھا ۔ عمارت ہزاروں ٹن کچرے کے بوجھ  کے سبب  ایک ہی لمحے میں منہدم ہوگئی اور اس میں ۲۳؍ کارکنان پھنس گئے۔ اندر پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کا کام جمعرات کو بھی جاری رہا۔ اطلاع کے مطابق جمعرات کو ۱۴؍ مزدوروں کو ملبے سے نکال لیا گیا تھا جبکہ ۹؍ مزدور ہنوز ملبے تلے دبے ہوئے تھے ۔ خبر لکھے جانے تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی کہ ان لوگوں کو نکالنے میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ 
  البتہ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ این ڈی آر ایف کی مدد سے ان کو بچانے کیلئے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ شدید بارش سے ہونے والی اس تباہی سے شہری خوفزدہ ہیں۔ یاد رہے کہ پونے شدید بارش سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بعض مقامات پر سیلاب آیا جبکہ کئی حادثات پیش آئے۔ اسی طرح، پمپری۔چنچوڑ کے موشی کچرا ڈپو میں بدھ کو تقریباً ڈیڑھ بجے، کچرے کا ایک بہت بڑا پہاڑ اس ڈپوکے دفتر کے تین منزلہ عمارت پر گر گیا۔ اس وقت اس عمارت میں ۲۳؍ ملازمین    کام کر رہے تھے۔ کچرے کا ڈھیر گرنے کے بعدبلڈنگ کا ایک حصہ منہدم ہو گیا اور یہ ملازمین کچرے کے ڈھیر  اور  بلڈنگ کے  منہدم حصے کے درمیان پھنسے ہوئے تھے ۔ واقعہ کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا۔ کچھ ملازمین نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنی جان بچائی۔ عمارت کی بالائی منزلوں پر موجود ۵؍ ملازمین  فوری طور پر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم باقی افراد  عمارت کے ملبے تلے دب گئے۔
  واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پمپری چنچوڑ میونسپل کارپوریشن کی فائر بریگیڈ، پولیس انتظامیہ اور ایمرجنسی سروس موقع پر پہنچ گئیں۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر این ڈی آر ایف کو بلایا گیا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں ملبہ ہونے کی وجہ سے ابتدائی چند گھنٹوں میں پھنسے ہوئے لوگوں تک  پہنچنا مشکل تھا   جس کے بعد فوج کے جوانوں کی مدد لی گئی۔ این ڈی آر  ایف اور فوج کی مشترکہ ٹیموں نے رات بھر اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ این ڈی آر ایف کے اہلکاروں نے پھنسے ہوئے ملازمین کے ٹھکانے کا پتہ لگانے کیلئے ملبے میں ایک مائیکروفون گرایا۔ ریسکیو ٹیموں کو اس وقت کافی سکون ملا جب وہاں سے کچھ ملازمین کی آوازیں سنائی دیں۔ ملبے تلے دبے افراد کو آکسیجن بھی فراہم کی گئی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ انہیں سانس لینے میں دشواری نہ ہو۔رات بھر جاری رہے ریسکیو آپریشن میں ۱۴؍ کارکنان کو کامیابی سے بچا لیا گیا۔ تاہم انتظامیہ نے بتایا ہے کہ مزید ۹؍ ملازمین ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان تک پہنچنے اور انہیں نکالنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ 
  اس دوران آبی وسائل کے وزیر گریش مہاجن نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریسکیو آپریشن میں وقت لگے تو ٹھیک ہے لیکن ہر کارکن کو بحفاظت باہر نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اس حادثے نے موشی کے کچرے کے ڈپو میں حفاظتی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ واقعے کی وجوہات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔یاد رہے کہ پلانٹ کے باہر جمع ملازمین کے اہل خانہ نے انتظامیہ پر لاپروائی کا الزام لگایا ہے۔ 

pune Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK