کھوپولی سے تعلق رکھنے والے ۲۵؍ سالہ نوجوان کو بارش کے باعث گرنے والے درخت کو ہٹانے میں مدد کرنامہنگا پڑا ، اس کیلئے اسے اپنی جان گنوانی پڑی۔
مہلوک امان مجاور-تصویر:آئی این این
کھوپولی سے تعلق رکھنے والے ۲۵؍ سالہ نوجوان کو بارش کے باعث گرنے والے درخت کو ہٹانے میں مدد کرنامہنگا پڑا ، اس کیلئے اسے اپنی جان گنوانی پڑی۔پرانے ممبئی پونے ہائی وے پر کھنڈالہ گھاٹ پر ایک درخت گر پڑا جسے ہٹانے کیلئے کچھ نوجوان آگے بڑھے ان میں سے ایک نوجوان امان مجاور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس کی وجہ سے کھوپولی کے علاقے میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ اطلاع کے مطابق کھنڈالہ گھاٹ علاقے میں پیر کو شدید بارش کی وجہ سے ایک درخت سڑک پر گر گیا تھا۔ جس سے ہائی وے پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ سڑک پر درخت گرنے کا پیغام واٹس ایپ گروپ پر شیئر کیا گیا جو کھوپولی سے تعلق رکھنے والے امان مجاور اور اس کے دوستوں تک بھی پہنچا۔ اس پیغام کو پڑھتے ہی، امان اپنے ۱۰؍ یا ۱۲؍ دوستوں کے ساتھ مدد کیلئے کھنڈالہ گھاٹ کی طرف روانہ ہوگیا۔موقع پر پہنچ کر نوجوانوں نے سڑک سے درخت ہٹانے کا کام شروع کیا۔
نوجوانوں نے درخت کی ایک بڑی اور بھاری شاخ کو رسی سے باندھ کر اس کا دوسرا سرا ایک گاڑ ی سے باندھ دیا۔ ارادہ یہ تھا کہ گاڑی اس شاخ کو کھینچ کر لے جائے گی اور ایک طرف کر دے گی لیکن رسی ٹوٹ گئی اور مذکورہ شاخ اس زور سے امان کے پیٹ پر لگی کہ وہ ایک طرف گر پڑا اور پیٹ پکڑ کر بیٹھ گیا۔ امان شدید طور پر زخمی ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد وہ کافی دیر تک پیٹ پکڑے زمین پر بیٹھا رہا۔ اس کی حالت بگڑنے پر اس کے دوستوں اور مقامی شہریوں نے اسے فوری طور پر قریبی اسپتال میں داخل کروایا۔ اسپتال میں داخل ہونے کے بعد ڈاکٹروں نے اماں کا علاج شروع کردیا۔ تاہم شدید اندرونی چوٹ کی وجہ سے منگل کی شام علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔ منگل کی رات دیر گئے امان کی نماز جنازہ انتہائی سوگوار ماحول میں ادا کی گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند دنوں کی بارش کے دوران پونے کے آس پاس کئی مقامات پر حادثات رونما ہوئے اور درختوں کے گرنے کے واقعات پیش آئے۔ امان ان جوشیلے نوجوانوں میں تھا جو ان حادثات کے دوران مدد کو پہنچتے ہیں لیکن بدقسمتی سے اسے اس مدد کی قیمت جان دے کر چکانی پڑی۔ اس پر نہ صرف علاقے میں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی افسوس ظاہر کیا جا رہا ہے۔