اس اقدام کا مقصد غیر قانونی ٹرانسپورٹ سرگرمیوں پر روک لگانا، خواتین اور طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ریاست میں منظم ٹرانسپورٹ نظام کو فروغ دینا ہے۔
غیر قانونی بائیک ٹیکسی سے کئی طرح کے مسائل سامنے آرہے ہیں-تصویر:آئی این این
مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں بائیک ٹیکسیوں اور دیگر ٹرانسپورٹ خدمات کیلئے پرمٹ حاصل کرنے کے سلسلے میں اہم پالیسی فیصلہ کرتے ہوئے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی ٹرانسپورٹ سرگرمیوں پر مؤثر روک لگانا، خواتین اور طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانا اور ریاست میں منظم ٹرانسپورٹ نظام کو فروغ دینا ہے۔اس فیصلے کا اعلان ریاستی اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوران کیا گیا جو مسلسل موسلا دھار بارش کے باعث ایک دن ملتوی رہنے کے بعد منگل کو دوبارہ شروع ہوا ۔ اجلاس کے دوران شیو سینا کے رکن اسمبلی دلیپ لانڈے نے ریاست میں غیر مجاز ٹرانسپو رٹ خدمات کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے مسافروں کی سلامتی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی سڑکوں پر بڑی تعداد میں ایسی گاڑیاں اور آپریٹر سرگرم ہیں جن کے پاس نہ تو ضروری دستاویزات ہیں اور نہ ہی درست ڈرائیونگ لائسنس ۔ ان کے مطابق یہ صورتحال خصوصاً خواتین اور طلبہ کی حفاظت کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے، اس لئے ایسے آپریٹروں کی مکمل جانچ کی جانی چاہئے۔
اس پر جواب دیتے ہوئے ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک نے کہا کہ حکومت غیر قانونی ٹرانسپورٹ خدمات چلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دیگر ریاستوں سے آنے والے ایسے افراد، جو غیر قانونی طور پر مہاراشٹر میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار شروع کرتے ہیں، انہیں مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وزیر نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ صرف مہاراشٹر کا ڈومیسائل سرٹیفکیٹ رکھنے والے افراد کو ہی بائیک ٹیکسی اور اس نوعیت کی دیگر ٹرانسپورٹ خدمات کے لیے پرمٹ اور لائسنس وغیرہ جاری کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے غیر قانونی ٹرانسپورٹ پر مستقل طور پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔پرتاپ سرنائیک نے کہا کہ اس نئی پالیسی سے ریاستی حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، مقامی نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں شفافیت اور نظم و ضبط بھی بہتر ہوگا۔