Updated: January 08, 2026, 4:11 PM IST
| Mumbai
کارپوریٹ دنیا میں ملازمت کے تحفظ کا تصور تیزی سے بدل رہا ہے۔ گلاس ڈور کی ۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق ’’فارایور لے آف‘‘ ایک نیا رجحان بن چکا ہے، جس میں ادارے ایک ساتھ بڑی چھٹنی کرنے کے بجائے وقفے وقفے سے کم تعداد میں ملازمین کو نکالتے ہیں۔ اس طریقے سے کمپنیاں قانونی پیچیدگیوں اور میڈیا کی توجہ سے بچ جاتی ہیں، مگر اس کے نتیجے میں باقی ملازمین مسلسل ذہنی دباؤ، غیر یقینی مستقبل اور اعتماد کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دفتر ایک ایسی انتظار گاہ بن جاتا ہے جہاں کام تو جاری رہتا ہے مگر ملازمت کے برقرار رہنے کا یقین ختم ہو جاتا ہے۔ یہ رجحان بظاہر اداروں کو مؤثر رکھتا ہے، لیکن فرد کو نفسیاتی طور پر غیر محفوظ اور بے سہارا بنا دیتا ہے۔
بے دخلی۔ تصویر:آئی این این
چارلس ڈکنز کے ناول ہارڈ ٹائمز کا ایک کردار تھامس گریڈگرائنڈ کہتا ہےکہ ’’اب مجھے جو چا ہئے وہ صرف حقائق ہیں۔‘‘ یہ مطالبہ سچائی کی تلاش نہیں بلکہ ایک خاص طریقے کی تنبیہ تھی۔ ڈکنز کے شہر کوک ٹاؤن میں حقائق انسانی زندگی کو روشن کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسے نظم و ضبط کا پابند بنانے کے لیے تھے۔ وہاں مزدور محض اعداد و شمار تھے، افادیت کو ناپا جاتا تھا، اور تحفظ محض ایک اتفاقی بات تھی۔ انسان ہمیشہ کام تو کرتا تھا لیکن کبھی مطمئن نہیں ہوتا تھا۔ڈیڑھ صدی بعد الفاظ بدل گئے ہیں مگر حالات وہی ہیں۔ جدید کام کی جگہوں نے پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کاطریقہ تو ڈھونڈ لیا ہے لیکن اس نے ملازمت کے تحفظ کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ’’گلاس ڈور‘‘ فرم کی حالیہ رپورٹ اسے ’’فارایور لے آف (مستقل برطرفی)‘‘ کا نام دیتی ہے۔ یہ ایسی صورتحال ہے جہاں چھٹنی کسی سونامی کی طرح ایک دم نہیں آتیں، بلکہ کبھی نہ ختم ہونے والی لہروں کی طرح جاری رہتی ہیں۔اب ادارے ایک ہی بار بڑی فہرست جاری کرنے کے بجائے چھوٹے چھوٹے وقفوں سے ملازمین کو نکالتے ہیں۔ کبھی پچاس سے کم تو کبھی ۱۰؍ یا ۲۰؍ کی تعداد میں۔ کبھی کمپنی کی ری اسٹرکچرنگ یعنی تنظیم نو کے نام پر تو کبھی نقصان کے نام پر ۔ ادارہ قائم رہتا ہے، کام چلتا رہتا ہے، لیکن جو چیز ختم ہو جاتی ہے وہ ہے ملازمت باقی رہنے کا یقین۔ باقی بچ جانے والے ملازم ہر وقت الرٹ رہتے ہیں، خاموشیوں کے معنی تلاش کرتے ہیں اور کام کے تسلسل کو تحفظ نہیں بلکہ فیصلے میں تاخیر سمجھتے ہیں۔
گلاس ڈور کی رپورٹ برائے۲۰۲۶ء کے مطابق’’فارایور لے آف‘‘ وہ رجحان ہے جس نے کارپوریٹ دنیا میں ملازمت کے خاتمے کے روایتی طریقے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ رجحان اداروں کے ملازمین کی تعداد کم کرنے کے انداز میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن تبدیلی کا غماز ہے پہلے چھٹنی ایک بڑے سونامی کی طرح آتی تھیں (یعنی ایک بڑا اعلان اور سیکڑوں ملازمین کی ایک ساتھ رخصتی)۔ اب یہ کبھی نہ ختم ہونے والی لہروںکی صورت اختیار کر گئی ہیں ہے۔ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ۲۰۲۵ء میں ۵۱؍ فیصد چھٹنی ایسی تھیں جن میں ۵۰؍ سے کم ملازمین کو نکالا گیا ۔ اس کا بڑا فائدہ کمپنیوں کو یہ ہوتا ہے کہ وہ قانونی پیچیدگیوں اور میڈیا کی سرخیوں سے بچ جاتی ہیں۔اس طریقے سے ادارے کا ڈھانچہ تو کھڑا رہتا ہے، مگر ملازمین کے اندر سے تحفظ کا احساس غائب ہو جاتا ہے۔ جو ملازم باقی رہ جاتے ہیں، وہ ایک مستقل نفسیاتی دباؤ میں رہتے ہیں کہ اگلا نمبر کس کا ہوگا؟
یہ بھی پڑھئے:ایشیز ۲۰۲۷ء: اسٹیون اسمتھ کی شرکت پر غیر یقینی صورتحال
یہاں فرانز کافکا کا ناول دی ٹرائل آج کے دور کے عین مطابق نظر آتا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار جوزف کے گرفتار تو ہوتا ہے مگر اسے قید نہیں کیا جاتا، وہ روز کام پر جاتا ہے، ناشتہ کرتا ہے مگر اس کی زندگی ایک غیر حل شدہ عمل کا حصہ بن جاتی ہے۔ اسے کبھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس پر الزام کیا ہے۔ بالکل اسی طرح فارایور لے آف میں ملازم کو نکالنے کے بجائے اسے ادارے کے اندر ہی ایک مستقل انتظار کی کیفیت میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔یہ رجحان کسی فائرنگ اسکواڈ کی طرح نہیں بلکہ ہلکی بوندا باندی کی طرح ہے، جو آہستہ آہستہ انسان کو بھگوتی ہے۔ اس کے اثرات درج ذیل ہیں:
(۱) ذہنی تبدیلی: مستحکم جگہ پر انسان برسوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے مگر اس غیر یقینی صورتحال میں وہ ہفتوں کی بنیاد پر سوچنے لگتا ہے۔ مستقبل سمٹ جاتا ہے اور سیکھنے کا عمل صرف ضرورت تک محدود ہو جاتا ہے۔
(۲) اداکاری والی پیداواری صلاحیت: نکالے جانےکے خوف کی وجہ سے کام کی رفتار تو بڑھتی ہے لیکن یہ ایک ’’ناپاک ایندھن‘‘ ہے۔ لوگ وہ کام کرتے ہیں جس کا ثبوت ڈیش بورڈ پر نظر آئے، نہ کہ وہ کام جس میں تخلیق اور خطرہ ہو۔ گہرا کام اور ایجاد پسندی خاموشی سے دم توڑ دیتی ہے۔
(۳) اعتماد کی کمی: جب چھٹنی چھوٹے گروہوں میں ہوتی ہیں، تو افواہیں جنم لیتی ہیں۔ ساتھی ایک دوسرے سے محتاط ہو جاتے ہیںگفتگو نپی تلی ہوتی ہے اور رہنمائی کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ملاڈ کے ۸؍وارڈوں میں ۱۹؍ مسلم امیدوار میدان میں
(۴) انتظار گاہ: انجام کار، ادارہ تو چلتا رہتا ہے مگر وہ اپنائیت کھو دیتا ہے۔ دفتر ایک ایسی انتظار گاہ بن جاتا ہے جہاں کوئی گھڑی نہیں ہوتی اور فیصلے کا ہر وقت انتظار رہتا ہے۔
اسی سبب ڈکنز نے خبردار کیا تھا کہ جو تہذیب صرف حقائق کی پوجا کرے گی وہ انسانوں کو بھول جائے گی۔ کافکا نے دکھایا کہ طاقت کو سزا دینے کی ضرورت نہیں ہوتی اگر وہ کسی کو مستقل التوا میں رکھ سکے۔ آج کے دور نے ان دونوں باتوں کو ملا دیا ہے۔ اب وعدہ استحکام کا نہیں بلکہ بقا کا ہے۔ یہ نظام ادارے کو تو شاید مؤثر رکھے، مگر فرد کو بے سہارا اور غیر محفوظ بنا دیتا ہے۔