سوشل میڈیا پر نقائص کی تصویریں وائرل ،ایم ایم آر ڈی اے نے اپنے جواب میں یقین دہانی کرائی ہے کہ نشاندہی کئے گئے حصے مضبوط اور محفوظ ہیں۔
مختلف علاقوں کی وہ تصویریں جن میں شہریوں نے میٹروٹرین کے بریجز اورستونوں میںنقائص اور خامیوںکی نشاندہی کی ہے ۔تصویر:آئی این این
ملنڈ میں میٹرو اسٹیشن کا حصہ گرنے کے ۱۰؍ دنوں بعد شہری سوشل میڈیا پر میٹرو اور دیگر بریج پر دراڑوں یا کمزور نظر آنے والے حصوں کی نشاندہی کررہے ہیں۔ اس نشاندہی سے ’ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی‘ (ایم ایم آر ڈی اے) ان مقامات کا جائزہ لینے پر مجبور ہے۔
’اَربن کلیش‘ نام کے اکائونٹ سے پیر کو ایکس پر ایل بی ایس مارگ پر واقع میٹرو بریج کی نشاندہی کی گئی تھی جس کی وجہ سے ایم ایم آر ڈی اے کو باقاعدہ وضاحت پیش کرنی پڑی۔ اس اکائونٹ سے ایل بی ایس مارگ پر ایک دیگر جگہ کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جس میں میٹرو اسٹیشن کی تعمیر کے لئے سیمنٹ کے بھاری گرڈر کو نیچے سے لکڑے کے بڑے ٹکڑوں سے سہارا دیا ہوا نظر آرہا ہے اور اس کے بازو کے حصہ پر لوہے کی چھوٹی سیڑھی دکھائی دے رہی ہے۔ اس شخص نے ان دونوں باتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ یہاں بھی کوئی بڑا حادثہ پیش آسکتا ہے۔
اس ویڈیو پر ایم ایم آر ڈی اے نے منگل کو وضاحت پیش کی کہ ’’اس کی نشاندہی کیلئے شکریہ، میٹرو پروجیکٹ ٹیم نے اس جگہ کا اچھے سے معائنہ کیا ہے ۔ میٹرو اسٹیشن کی تعمیر کیلئے پہلے سے تعمیر شدہ گرڈر اور سیمنٹ کے بنے ہوئے دیگر حصے نصب کئے جاتے ہیں۔ ان گرڈرس وغیرہ کو نصب کرتے وقت لکڑے کے ٹیکے اور میکانیکل جیک (جو چھوٹی سیڑھیوں جیسے نظر آتے ہیں) استعمال کئے جاتے ہیں۔ میٹرو اور بریج وغیرہ کی تعمیر میں انجینئرنگ کے شعبہ میں ان چیزوں کا استعمال کرنے کی اجازت ہے اور پوری دنیا میں ان کا استعمال ہوتا ہے۔ ‘‘ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ایسے سپورٹ کو سیمنٹ کے بنے حصوں کو ایک دوسرے کے بالکل برابر کرنے اور وزن کی متوازی تقسیم کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کام ہونے کے بعد سیمنٹ کے کام سے ان ٹکڑوں کو جوڑ دیا جاتا ہے جس سے وہ ایک سلیب بن جاتے ہیں اور پھر نیچے سے لکڑے اور لوہے کے ٹیکے نکال دیئے جاتے ہیں۔‘‘ اس بیان کو اس یقین دہانی پر ختم کیا گیا ہے کہ ’’اس کام کے دوران پورا ڈھانچہ مکمل طور پر محفوظ رہتا ہے اور ان کی موجودگی اس ڈھانچے میں کسی قسم کے نقص کی نشاندہی نہیں کرتی۔‘‘
اس سے قبل میور نام کے شخص نے ۱۶؍ فروری کو ملنڈ میں انڈین آئل کے سامنے واقع میٹرو بریج کی نشاندہی کی تھی جس میں بریج کے کنارے کی دیوار کا کچھ حصہ دیکھنے پر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ دیگر حصوں سے علاحدہ ہو گیا ہے اور کبھی بھی گرسکتا ہے۔ اس تعلق سے ایم ایم آر ڈی اے نے بیان جاری کرکے دعویٰ کیا تھا کہ یہاں تعمیرات کا کام جاری ہے۔ جس ٹکڑے کی نشاندہی کی گئی ہے اس پر سیمنٹ کا کام باقی ہے وہ مکمل ہوتے ہی یہ حصہ بالکل ٹھیک ہوجائے گا۔
سچن شنگارے نے پیر کو تھانے میں کاسروڑولی پولیس اسٹیشن کے قریب واقع میٹرو بریج پر نیچے پلاسٹر اکھڑا ہونے کی نشاندہی کی تھی اور اس سے قبل جمعہ کو کاسروڑولی میں ہی ایک جگہ کی نشاندہی کی تھی جہاں پر بریج کے کنارے کی دیوار کا (جس طرح کا حصہ ملنڈ میں گرا تھا ٹھیک ویسا ہی) حصہ بازو کے حصوں سے علاحدہ نظر آرہا تھا جس کی وجہ سے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ بھی گرسکتا ہے۔ تاہم ایم ایم آر ڈی اے نے یہاں بھی اپنا روایتی بیان لکھ دیا کہ ٹیم نے اس جگہ کا معائنہ کیا ہے اور یہ جگہ محفوظ ہے۔
مذکورہ افراد کے علاوہ سمیدھا راجن نامی اکائونٹ سے ملنڈ میں فرینڈس اکیڈمی کے قریب واقع میٹرو بریج کے ایک حصہ کی، پرتھوی مشرا کے ذریعہ دہیسراسٹیشن کے قریب اور نیل پرب کے ذریعہ پوائی میں واقع جھیل درشن بلڈنگ کے سامنے میٹرو بریج میں خامی کی نشاندہی کی گئی تھی۔البتہ ان تمام معاملات میں بھی ایم ایم آر ڈی اے نے روایتی انداز میں نشاندہی کئے گئے حصوں کے مضبوط اور محفوظ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔یاد رہے کہ ۱۴؍ فروری کو ملنڈ میٹرو بریج کا زیر تعمیر ایک حصہ گرنے سے ایک شخص کی موت ہوگئی تھی اور ایک رکشا ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا تھا جو اب تک زیر علاج ہے۔