• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجستھان حکومت نے مسلم قیدیوں کو سحری اور افطار کی براہِ راست فراہمی پر پابندی عائد کر دی

Updated: February 24, 2026, 10:04 PM IST | Jaipur

حکومت کے اس اقدام پر مسلم تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہیں خدشہ ہے ک اس نظام کی موجودگی میں روزہ دار قیدیوں کو فراہم کئے جانے والے کھانے کا تنوع اور تغذیہ محدود ہوجائے گا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

راجستھان حکومت نے رمضان المبارک کے دوران سماجی تنظیموں کو مسلم قیدیوں کو براہِ راست افطار اور سحری کا کھانا فراہم کرنے پر پابندی لگا دی ہے اور اب تمام خوراک کی فراہمی کے لئے جیل کنزیومر اسٹورز سے خریداری کو لازمی قرار دیا ہے۔

ریاستی جیل ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے رواں ماہ کے اوائل میں جاری کئے گئے اس ہدایت نامے کا اطلاق، راجستھان کی تمام سینٹرل جیلوں، ڈسٹرکٹ جیلوں، خواتین کے اصلاحی مراکز، ہائی سیکوریٹی تنصیبات، کھلی جیلوں اور جووینائل ہومز پر ہوگا۔ نئے نظام کے تحت، عطیہ دہندگان کو جیل کے مجاز اسٹور کو آرڈر دینا ہوگا، جس کے بعد اسٹور مطلوبہ اشیاء حاصل کرے گا اور رقم وصول کرنے کے بعد جیل حکام کے ذریعے قیدیوں میں کھانا تقسیم کرے گا۔ اب جیل کے احاطے میں باہر سے لایا گیا کھانا قبول نہیں کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کے سب سے بڑے بیف ایکسپورٹر کا بی جے پی کو بڑا عطیہ، بحث تیز

گزشتہ برسوں میں سماجی اور مذہبی تنظیمیں عام طور پر قیدیوں کو افطار کے لئے کھجوریں، پھل اور پیک شدہ کھانا براہِ راست فراہم کرتی تھیں۔ کئی تنظیموں نے بتایا کہ حال ہی میں انہیں جیل کے دروازوں سے واپس بھیج دیا گیا اور نظر ثانی شدہ طریقہ کار پر عمل کرنے کو کہا گیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل برائے جیل خانہ جات، اشوک راٹھور نے اس حکم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیکوریٹی اور فوڈ سیفٹی کے موجودہ قوانین کے عین مطابق ہے۔ حکام نے دلیل دی کہ باہر سے محدود فراہمی، ممنوعہ اشیاء کے داخلے کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور اس کے ذریعے تقسیم کے یکساں معیار کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ راٹھور نے کہا کہ عطیہ دہندگان قیدیوں کی مدد جاری رکھ سکتے ہیں لیکن انہیں مجاز راستوں کا استعمال کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی جیلوں میں اعلیٰ عہدوں پر مسلم نمائندگی انتہائی کم

مسلم تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا

اس اقدام کے بعد مسلم تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہیں خدشہ ہے ک نیا نظام روزہ دار قیدیوں کو فراہم کئے جانے والے کھانے کے تنوع اور تغذیہ کو محدود کرسکتا ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ عام طور پر سحری اور افطار کے لئے خصوصی پیکٹ تیار کرتے ہیں جن میں تازہ پھل، کھجوریں، نمکین اشیاء اور مشروبات شامل ہوتے ہیں جو روزے کے طویل اوقات کے لئے موزوں ہوتے ہیں۔ 

تنظیموں کے نمائندوں نے نوٹ کیا کہ سحری اور افطار کے لئے مخصوص اشیاء کی ضرورت ہوتی ہے جو شاید ہر وقت جیل کے اسٹورز میں دستیاب نہ ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ روزانہ ۱۳ سے ۱۵ گھنٹے کا روزہ رکھنے والے قیدیوں کے لئے مناسب غذائیت ضروری ہے۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ لچک اور ہم آہنگی کو یقینی بنائیں تاکہ قیدیوں کو سیکوریٹی کے تقاضوں پر سمجھوتہ کیے بغیر متوازن کھانا مل سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK