دیونار مذبح میں  قربانی کی اجازت ، کورٹ سے راحت ملی

Updated: August 01, 2020, 5:02 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

بقرعید کے تینوں دن صبح ۶؍ سے شام۶؍ بجےتک یومیہ ۱۵۰؍ بڑے جانور ذبح کئے جاسکیں گے مگر جانوروں  کی آمد یا ان کی خریدوفروخت سے متعلق غیر واضح صورتحال برقرار، چھوٹے جانوروں  کا مسئلہ حل نہیں  ہوا، سرحدوں  اور چیک ناکوں  پر پھنسی ہوئی بکروں سےبھری گاڑیوں  کو ریاست میں  داخل نہیں  ہونے دیاگیا، عوام پریشان۔

For Representation Purpose Only. Photo PTI
علامتی تصویر۔ تصویر: پی ٹی آئی

مسلمانوں  کی سیاسی لیڈرشپ کی ناکامی اور حکومت کی بے رخی کے بعد جمعہ کو بامبے ہائی کورٹ کے ایک فیصلے نے مسلمانوں  کو کچھ راحت پہنچایا جس نے دیونار مذبح میں  قربانی کے ایام میں  بڑے جانور کے قربانی کی اجازت دیتے ہوئے بی ایم سی کو اس ضمن میں انتظامات کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت کے حکم کے بعد میونسپل کارپوریشن نے اعلان کیا ہے کہ عید الاضحی کے تینوں  دن دیونار مذبح میں   صبح ۶؍ بجے سے شام ۶؍ بجے تک یومیہ ۱۵۰؍ جانوروں  کو ذبح کرنے کی اجازت ہوگی۔ چھوٹے جانوروں  کا مسئلہ بہرحال حل نہیں ہوسکا اور سرحد اور چیک ناکوں  پر پھنسی ہوئی بکروں   سےبھری گاڑیوں  کو ریاست میں داخل کے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ 
 دیونار میں  بڑے جانوروں کی قربانی کی اجازت
  القریش ہیومن ویلفیئر ایسوسی ایشن ، عمران بابو قریشی اور دیگر افراد کے ذریعہ دیونار میں بھینس کے ذبیحہ کے اجازت دینے کی اپیل کو بامبے ہائی کورٹ نے بالآخر قبول کر لیا ہے ۔ کورٹ نے بی ایم سی اور دیونار کے متعلقہ محکمہ کوتمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ عید قرباں کے موقع پر تین دنوں تک قربانی کی اجازت دینے کا فرمان جاری کرتے ہوئے بی ایم سی کو سرکولر جاری کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ اس ہدایت کے فوراً بعد بی ایم سی نے بھی دیونار کے تمام متعلقہ افسران و ملازم اور صفائی کرمچاریوں کو یکم اگست تا ۳؍ اگست دیونار میں حاضر رہنے اور ڈیوٹی انجام دینے کا حکم دیا ہے ۔
کورونا سے متعلق تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کاوعدہ 
  دوران سماعت عرضداشت گزاروں کی جانب سے وکیل آصف اے صدیقی نے کورٹ کو عیدالاضحی اور قربانی کی اہمیت اور اس فریضہ کی ادائیگی کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے یہ بھی یقین دلایا کہ ’’ لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے پیش نظر حکومت نے فاصلہ برقرار رکھنے اور احتیاطی تدابیر سے متعلق جو گائیڈ لائن جاری کی ہیں ، اس پر عمل کرتے ہوئے قربانی کی جائے گی ۔ ‘‘ کورٹ کو یہ بھی بتایا گیا کہ عید کے موقع پرحکومت نے دیونار میں کسی بھی جانور کے ذبیحہ پر ہی پابندی لگای دی جس سے مسلمانو ں کے مذہبی جذبات مجروح ہورہے ہیں اور وہ اپنے فریضہ کی ادائیگی سے محروم ہورہے ہیں ۔
 جانوروں  کی آمد او ر خریدوفروخت سے متعلق صورتحال غیر واضح
  واضح رہے کہ داخل کردہ عرضداشت کے ذریعہ دیونار میں جانور کی آمد یا اس کی خرید و فروخت سے متعلق نہ تو کوئی بات کہیں گئی ہے اور نہ ہی تین دنوں تک بکرے یا مینڈھے کے ذبیحہ سے متعلق اپیل کی گئی ہے بلکہ صرف بھینس کے ذبیحہ کی اجات مانگی گئی تھی ۔ عمران بابو قریشی کے ہمراہ القریش ہیومن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی قدرت اللہ قریشی، نائب صدر محمد آصف قریشی اورسیکریٹری محمد عمر قریشی کے ذریعہ داخل کردہ عرضداشت پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دیپانکر دتانے واٹر بفیلو یعنی بھینس کے ذبیحہ کی اجازت دیتے ہوئے بی ایم سی اور دیونار مذبح کے  انتظامیہ کو اس ضمن میں سرکولر جاری کرنے کا حکم دیا تھا ۔ 
بکروں کی قلت ، عوام کو پریشانی کا سامنا
  اس بیچ شہر میں  بکروں  کی قلت کے سبب عوام کو قربانی کے تعلق سے شدید دشواریوں  کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ واضح رہے کہ بڑی تعداد میں  جانوروں سےبھرے ہوئے ٹرک سرحدوں  پر روک دیئے گئے ہیں  ۔ عام طور پر دیونار میں   عید الاضحی کے موقع پر لگنے والی منڈی سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ بکرے فروخت ہوتے رہے ہیں  تاہم امسال حکومت نے نہ دیوان میں  منڈی لگانے کی اجازت دی نہ ہی علاقائی سطح پر چھوٹی چھوٹی منڈیوں  کی اجازت دینے کی درخواست قبول کی۔ بیرون ریاست سے بکرے لانے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے جس کی وجہ سے سرحدوں  پر جانوروں سےبھرے ٹرکوں  کو روک لیاگیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK