• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ان کارروائیوں کا خیر مقدم ہونا چاہئے

Updated: September 29, 2026, 3:13 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ہم ہندوستانی مزاج کے اعتبار سے عجیب و غریب ہوگئے ہیں۔ صیاد سے نالاں تو رہتے ہیں باغباں سے بھی خوش نہیں رہتے۔ ہمیں بے ایمانی اور بدعنوانی راس نہیں آتی کیونکہ ہم ایمانداری کو پسند کرتے ہیں اور بدعنوانی سے نالاں رہتے ہیں۔

Tukaram Mundhe. Picture: INN
تکارام منڈھے۔ تصویر: آئی این این
ہم ہندوستانی مزاج کے اعتبار سے عجیب و غریب ہوگئے ہیں۔ صیاد سے نالاں تو رہتے ہیں باغباں سے بھی خوش نہیں رہتے۔ ہمیں بے ایمانی اور بدعنوانی راس نہیں آتی کیونکہ ہم ایمانداری کو پسند کرتے ہیں اور بدعنوانی سے نالاں رہتے ہیں۔ مگر ہمیں ایمانداری اور بدعنوانی بھی راس نہیں آتی کیونکہ بے ایمانی اور بدعنوانی میں رچ بس گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری محکموں کے کام کاج کا تذکرہ کرتے ہوئے ہم اکثر ان محکموں اور وہاں کے اعلیٰ و ادنیٰ کارکنان کی شکایت کرتے ہیں مگر انہی محکموں میں ایماندار اور فرض شناس افسران و اہلکار موجود ہوں تو ہماری بے اطمینانی بڑھ جاتی ہے۔ شکایت دونوں طرح کے لوگوں سے ہے یہ الگ بات ہے کہ پہلی طرح کے افراد کا ذکر کرتے وقت ہماری آواز بلند ہوتی ہے تاکہ جو نہیں سن رہا ہے وہ بھی متوجہ ہوجائے اور دوسری طرح کے افراد کے تئیں دل کی بھڑاس نکالتے وقت ہماری آواز پست رہتی ہے تاکہ وہی سنے جسے سنایا جارہا ہے۔ مہاراشٹر ایف ڈی اے کے کمشنر تکا رام منڈے کے تعلق سے ملا جلا ردعمل سماج کے مزاجاً عجیب و غریب ہوجانے کا ثبوت ہے۔ ان دنوں اگر ایک بہت بڑا طبقہ اس جرأتمند افسر کی تعریف کررہا ہے تو بہت سے ایسے بھی ہیں جو اس کی کارروائیوں سے ناخوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ فوراً سے پیشتر کسی اور محکمے میں اس کا تبادلہ کردیا جائے۔ اس سے کوئی نتیجہ برآمد کیا جاسکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ ہم بدعنوانی اور ’نیک عنوانی‘ کے درمیان کچھ اس طرح ہیں کہ ایمانداری سے ضرر نہ پہنچتا ہو تو ہم ایمانداری کے حامی ہیں اور بے ایمانی یا بدعنوانی سے فائدہ ملتا ہو تو خاموشی سے اس کی حمایت کرینگے۔
 
 
تکا رام منڈے نے ایف ڈی اے کا چارج سنبھالنے کے بعد جون سے اگست کے درمیان ۱۲۸۰۳؍ مقامات پر چھاپے مارے، ۵۲۶۹؍ اکائیوں کو امپروومنٹ کا نوٹس دیا ۶۰۳؍ لائسنس منسوخ کئے اور ۶۸؍ کروڑ کی غذائی اشیاء ضبط کیں۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں ان کی ٹیم نے ۳۰۶۸؍ اکائیوں پر چھاپہ مارا، ۱۵۰۶؍ نوٹس جاری کئے، ۲۴۸؍ لائسنس منسوخ کئے اور ۱۰؍ کروڑ کی غذائی اشیاء ضبط کیں۔ گویا ۱۵؍ ہزار سے زیادہ چھاپے مارے اور ہر اُس چیز کو نشان زدکیا جو عوامی صحت کیلئے مضر تھا یا ہوسکتا تھا۔اتنا فعال کوئی اور افسر یقیناً ہوگا مگر ہم اپنے محدود علم کے سبب اُس سے واقف نہیں ہیں۔ تکا رام منڈے اینڈ ٹیم کی کارروائی کتنی اہمیت کی حامل ہے اس کا ہم سب کو مکمل احساس اور اندازہ نہیں ہے۔ ملاوٹ ہر شے کا معیار ختم کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ خوردنی اشیاء کے ذخیرہ کرنے کی جگہیں، ہوٹل اور ریستوراں، وہاں ہونے والی چوہوں کی دھما چوکڑی، کاکروچوں کی چہل قدمی یا مچھروں اور مکھیوں کی میراتھن، آس پاس بہنے والی گٹروں یا مین ہول کے کھلے دہانے، ایکسپائری ڈیٹ، ملاوٹ وغیرہ وہ چیزیں ہیں جو ہمیں متوجہ تو کرتی ہیں متنبہ نہیں کرتیں۔ ایف ڈی اے کی کارروائیوں کے بارے میں یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ صحت ِ عامہ کے زاویہ سے بڑا کارِ خیر ہے جو یہ محکمہ انجام دے رہا ہے۔ عوام کو ان کارروائیوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے یہ تمنا کرنی چاہئے کہ ایسے افسران دیگر محکموں کو بھی میسر آئیں تاکہ بدعنوانی کا خاتمہ ہو اور ضابطے محض کاغذ پر نہ رہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK