• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیٹیوں کو ڈجیٹل دُنیا سے روکنا ٹھیک یا محفوظ طریقہ بتانا ٹھیک؟

Updated: September 29, 2026, 3:18 PM IST | Mumbai

ڈجیٹل زمانہ ہے۔ موبائل فون سے پوری دُنیا مٹھی میں سمٹ گئی ہے۔ ڈجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعہ ہر کسی کے بارے میں جاننا آسان ہوگیا ہے۔ لیکن بیٹیوں کے معاملات حساس ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی ذاتی معلومات اور نجی تصاویر پوسٹ کرتے وقت محتاط رہنا چاہئے۔ انہیں ڈجیٹل آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

Tell your daughters that photos can be tampered with in the digital world, so they should be cautious. Photo: INN
بیٹیوں کو بتائیں کہ ڈجیٹل دُنیا میں تصاویر کے ساتھ چھیڑچھاڑ کی جاسکتی ہیں، اس لئے محتاط رہیں۔ تصویر: آئی این این

اوڑھنی حیا کی علامت ہے۔ بیٹی کی اوڑھنی اس کی تہذیب ہے، اس کا حصار ہے۔ وہ حصار جو گھر کی چاردیواری سے نکل کر دل تک جاتا ہے۔ آج وہ چاردیواری اپنی جگہ قائم ہے لیکن ہمارے ہاتھوں میں ایک ایسی کھڑکی آگئی ہے جس سے پوری دُنیا ہمارے صحن میں جھانک رہی ہے اور ہم پوری دنیا کے صحن میں۔ اس کھڑکی کا نام موبائل ہے۔ اور اسی لئے آج ہمیں ایک نئے پردے کی بات کرنی ہے، ڈجیٹل پردہ۔

ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں ڈجیٹل ہوگئی ہیں۔ وہ آن لائن تعلیم حاصل کرتی ہیں، گھر بیٹھے اپنا ہنر دنیا تک پہنچاتی ہیں، اپنا کاروبار سنبھالتی ہیں۔ یہ بلاشبہ ترقی ہے۔ لیکن اسی ترقی کے ساتھ ایک نیا اندھیرا بھی پیدا ہوا ہے جس پر بات کرنا اب ضروری ہوگیا ہے۔ ایک عام سی تصویر، جو خوشی میں لگائی گئی ہو، آج مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے بگاڑ کر کسی اور شکل میں پیش کی جاسکتی ہے۔ اسے آج کی زبان میں ڈیپ فیک کہا جاتا ہے۔ نام نیا ہے، لیکن اس سے پہنچنے والی تکلیف بہت پرانی ہے، عزت پر حملہ۔ یہ مسئلہ اب کسی خاص طبقے کا نہیں رہا۔ یہ ہر اس گھر کا مسئلہ ہے جہاں ایک اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کبھی خود کی بھی فکر کر لیں‘‘ یہ جملہ اپنے آپ سے کہیں

اس ڈجیٹل دنیا میں عورت کو ہراساں کرنے کے تین طریقے سب سے عام ہوگئے ہیں۔ پہلا، تصویر کا غلط استعمال، جہاں عام تصویروں کو اٹھا کر غلط جگہوں پر لگا دیا جاتا ہے۔ دوسرا، جھوٹی پہچان سے دوستی، پھر اعتماد حاصل کرکے ذاتی تصویریں مانگنا اور پھر انہی سے بلیک میل کرنا۔ اور تیسرا، انکار کی صورت میں جعلی اکاؤنٹ بنا کر کردار کشی کرنا۔ ان تینوں کا مقصد صرف ایک ہے، عورت کو ڈرانا اور اسے یہ احساس دلانا کہ وہ آزاد نہیں ہے۔

ہم کہاں غلطی کر رہے ہیں؟

ہماری سب سے بڑی غلطی تربیت کے فرق میں ہے۔ ہم بیٹے کو باہر کی دُنیا سے لڑنا سکھاتے ہیں، لیکن بیٹی کو صرف اندر کی دُنیا سنبھالنا سکھاتے ہیں۔ ہم نے بیٹی کے ہاتھ میں دُنیا کا طاقتور ترین آلہ تو دے دیا، لیکن اس کے استعمال کا سلیقہ نہیں سکھایا۔ ہم نے اسے یہ نہیں بتایا کہ پرائیویسی سیٹنگ کیا ہوتی ہے، دوہرے پاس ورڈ کی اہمیت کیا ہے، اپنی لوکیشن ہر تصویر کے ساتھ کیوں نہیں دینی چاہئے، اور کسی بھی ایپ کو اپنے موبائل کی گیلری تک رسائی دینا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ اس سے بھی بڑی غلطی ہمارا رویہ ہے۔ جب کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو ہمارا پہلا سوال متاثرہ لڑکی سے ہوتا ہے کہ تم نے تصویر کیوں لگائی تھی، تم نے بات کیوں کی تھی۔ ہم مجرم سے سوال کرنے کے بجائے مظلوم کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ یہی رویہ ایک لڑکی کو اندر سے توڑ دیتا ہے اور وہ خاموش ہو جاتی ہے۔ یاد رکھنا چاہئے، اگر چور گھر میں گھس آئے تو ہم تالے کو برا نہیں کہتے، چور کو برا کہتے ہیں۔

کیا بیٹیوں کو فون سے دور کر دیا جائے؟

ہرگز نہیں۔ یہ حل نہیں، یہ شکست ہے۔ آج یہی فون ہماری بہنوں کے لئے تعلیم بھی ہے، روزگار بھی ہے اور اپنی پہچان بھی۔ بہت سی خواتین اسی فون سے اپنا ہنر دوسروں تک پہنچا رہی ہیں، بچوں کو تعلیم دے رہی ہیں، اپنے گھر کو سہارا دے رہی ہیں۔ ہم ان سے یہ طاقت نہیں چھین سکتے۔ ہمیں فون چھیننا نہیں، آنکھیں کھولنی ہیں۔

ڈجیٹل پردے کے تین اصول

اول: اپنا ڈجیٹل حیا خود طے کریں۔ یہ فیصلہ آپ کو خود کرنا ہے کہ آپ کو دُنیا کو کیا دکھانا ہے اور کیا نہیں۔ ہر چلتے رجحان کا حصہ بننا ضروری نہیں۔ جو تصویر یا بات آپ اپنے بڑوں کے سامنے اسکرین پر نہیں دکھا سکتیں، وہ دنیا کے سامنے بھی نہ رکھیں۔ یہ پابندی نہیں، یہ آپ کا وقار ہے۔

یہ بھی پڑھئے:صبر مشکل وقت میں سنبھلنا جبکہ استقامت مشکل کےدوران اپنا سفر جاری رکھنا سکھاتی ہے

دوم: تکنیکی طور پر مضبوط بنیں۔ اپنا اکاؤنٹ پرائیویٹ رکھیں۔ اپنی ذاتی معلومات جیسے مکمل پتہ، تاریخ پیدائش، اسکول کا نام ہر جگہ ظاہر نہ کریں۔ کسی بھی انجان لنک پر کلک نہ کریں۔ اور سب سے اہم بات، اپنی کوئی بھی نجی تصویر کسی پر بھی اعتبار کرکے شیئر نہ کریں۔ انٹرنیٹ کی دُنیا میں ڈیلیٹ کا بٹن سب سے بڑا دھوکہ ہے، یہاں سے کچھ بھی مکمل طور پر کبھی ختم نہیں ہوتا۔

سوم: خاموشی کو توڑیں، یہی اصل ہمت ہے۔ اگر کوئی آپ کو تنگ کرے، نازیبا پیغام بھیجے یا بلیک میل کرنے کی کوشش کرے تو گھبرا کر اپنا اکاؤنٹ بند نہ کریں۔ یہ آپ کی غلطی نہیں ہے۔ ثبوت کے طور پر اسکرین شاٹ محفوظ رکھیں اور فوراً اپنے گھر والوں کو اعتماد میں لیں۔ اس کے لئے قانون موجود ہے۔ آپ سائبر کرائم ہیلپ لائن 1930 پر کال کرسکتی ہیں یا cybercrime.gov.in پر اپنی شکایت درج کرا سکتی ہیں، جہاں آپ کی شناخت کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

عورت کی حفاظت اسے قید کرنے میں نہیں، اسے بااختیار بنانے میں ہے۔ اوڑھنی آج بھی وہی ہے، بس اس کا رنگ روپ بدل گیا ہے۔ پہلے وہ سوتی کپڑے کی ہوتی تھی، آج وہ سمجھداری، احتیاط اور خود اعتمادی کی ہے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو ڈجیٹل دُنیا سے روکنا نہیں، بلکہ اس دُنیا میں سر اٹھا کر، محفوظ طریقے سے چلنا سکھانا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK